27اکتوبر ۔۔۔لمبی ہے غم کی داستان

27اکتوبر ۔۔۔لمبی ہے غم کی داستان

سالوں پر محیط ظلم کی داستان ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے کیا اس بڑھتی ہوئی ظلم کی داستان کے سامنے کشمیریوں کے لرزہ خیز جذبے کم پڑ رہے ہیں ؟

نہیں ! بلکہ ان جذبوں کا ریلا ہے کہ بہتا ہی چلا جا رہا ہے ، ا س کی طغیانی ہے کہ کم ہونے میں ہی نہیں آرہی اُن کے سحر انگیز ولولوں اور جوش خروش کا سونامی ہے کہ بڑھتا ہی چلا جار ہا ہے ، اُن کی آنکھوں کی جوت ہے کہ بُجھنے کا نام ہی نہیں لے رہی ، اُن کی منڈیروں پہ جلتی ہوئی آس و نراس کی شمعوں کو ظلم کی تند و تیز آندھی بھی بجھانے میں ناکام ہو رہی ہے آخر کیوں ؟

کیونکہ اُن کے حوصلے بہت بلند ہیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے کیا کوئی جانتا ہے ؟ اُن حوصلوں کو کیسے زیر کیا جاتا ہے ، پست کیسے کیا جاتا ہے ، شاید نہیں ! کیونکہ یہ حوصلے او رجذبے تو روح سے وابستہ ہیں روحوں کو گھائل کرنا انسان کے بس کی کام نہیں۔ جانتے ہیں او رسب ہی جانتے ہیں اگر نہیں جانتے تو صرف انڈین ادھ مغزے ہی نہیں جانتے اگر جانتے ہوتے تو کشمیرمیں یوں خوارنہ ہو رہے ہوتے بلکہ اپنے دیس میں بلکتی ہوئی غیرت کو مٹانے میں سرگرداں ہوتے ، مگر شاید! ظلم کی ہر حد پاٹنے ولاے یہ نہیں جانتے کہ یہ معصوم بچوں کی آنکھیں تو چھین سکتے ہیں لیکن ان کی آنکھوں میں جلتے ہوئے آزادی کے دیے کبھی نہیں بُجھا سکتے چاہے چاہے یہ کرب و اذیت کی بھٹی کو جتنا مرضی سلگا لیں چاہے ظلم کی شب کتنی ہی طویل نہ ہوجائے ان کے جذبے ظلم کے سامنے ہیچ ہی رہیں گے۔ ان کے ویران گھروں میں آزادی کی رمق باقی رہے گی، ان کی منڈیریں آزادی کی شمعوں سے جھلملاتی رہیں گی ، اُن کے اجڑے ہوئے گھروں کے آنگنوں میں ہمیشہ سویرا ہی رہے گا۔

یہ ظالم کیا جانے کہ ظلم کی انتہا نہیں ہوا کرتی جو ہر لمحہ ان کے اندر بیدار رہتے ہیں

ہر طرف سنگ باری ہے

کشت و خوں جاری ہے

پھر بھی یہ جذبے بھاری ہیں

ہر شام پہ حاوی ہیں

ہر جاں پہ طاری ہیں

کفار کے دل پر ناسور سواری ہیں

پھر بھی یہ جذبے بھاری ہیں

تحریکِ آزادی کی طرف نظر دوڑائیں تو بلند ہاتھ ہی نظر آتے ہیں ۔ پاکستانی پرچم اُٹھائے ہوئے پاکستان سے والہانہ محبت کاثبوت دیتے ہوئے کیا ہم اتنے ہی کم ظرف ہو گئے ہیں کہ نفرتوں کا جواب تو نفرت سے دے دیتے ہیں کیا محبت کے مظاہروں میں خالی خولی محبت کا پر چار بھی نہیں کر سکتے ؟ ہاں ہم نے کرنا ہے قائدِ اعظم کے دوقومی نظریے کو پھر سے اُجاگر کرنا ہے ، اس کے مٹے ہوئے نقوش کو پھر سے اُبھارنا ہے ، اس پر پڑی ہوئی گرد کو صاف کرنا ہے، یہ ہمارا سیاسی ہی نہیں بلکہ قومی مسئلہ بھی ہے ہمیں پنجابی ، سندھی، بلوچی، بنگالی و حدتوں سے نکل کر یکجان ہو کر سوچنا ہے جس کے لئے قائداعظم نے فرمایا تھا! ’’میں چاہتا ہوں کہ آپ پنجابی، بنگالی، سندھی، بلوچی ، اور پٹھان وغیرہ کی اصطلاحوں میں بات نہ کریں میں مانتاہوں کہ یہ وحدتیں اپنی جگہ ہیں لیکن میں پوچھتا ہوں کہ آپ وہ سبق بھول گئے جو سترہ سو سال پہلے آپ کو سکھایا گیا تھا۔ (ڈھاکہ 21مارچ 1948ء)

اگر ہم ان نام نہادو حدتوں سے نکل کر یکجان و سینہ سپر ہو کر دُشمن کے مقابل آجائیں تو انگریز و ہندو تو کیا کوئی بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ ہمارے اندر ایمان کا نور ہے ۔ عرب کے باسی ہوں یا عجم کے باشندے، رب تعالیٰ کے وویعت کردہ نورِ ایمانی کا مقابلہ نہیں کر سکتے اسی لئے تو قائد اعظم نے مسلم قومیت کی بنیاد کے بارے میں دو ٹوک الفاظ میں فرمایا تھا!

’’مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تھا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا وہ تو ایک الگ قوم کا فرد بن گیا تھا آپ نے غور فرمایا کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرکہ کیا ہے اس کی وجہ ہندوؤں کی تنگ نظری تھی نہ انگریزوں کی چال یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا‘‘ (مسلم یونیورسٹی علی گڑھ 8مارچ 1944ء )

جس محرک پر پاکستان قائم ہوا اس پر کشمیر بھی ہمیں حاصل کرنا ہے۔ اس کے ٹکڑے کرنے والے بھارت کے انگ انگ کو توڑنا چاہتے ہیں ، کشمیر کی جلتی بجھتی شمعوں کو پھر سے روشن کرنا ہے وہ اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے ہمیں ایک ہی پیغام دے رہے ہیں ۔

گزرتے ہوئے لمحوں میں وفاؤں کا پاس رکھیں گے

مرتے ہوئے بھی تیری ہی پیاس رکھیں گے

کیا ان کھوکھلے دعوؤں سے اس باپ کی تسلی ہو سکتی ہے جو اپنی تین بیٹیوں کو آزادی کی راہوں کا مسافر بنا دیکھ کر چوتھے بیتے عدالتوں میں مارا مارا پھرتا ہے اس امید پر شاید کوئی زندگی کا مثردہ سنا دے ۔

یہ کھوکھلے دعوے غم سے نڈھال حال کو عارضی سی خوشی سے ہمکنار تو کر سکتے ہیں لیکن ان ے ذہنوں پر پہرے نہیں بٹھا سکتے ، جو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے کشمیریوں کے دل لُبھانا چاہتے ہیں ۔امریکہ اور بھارت جو ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں آخر کونسی بات بارو کرانا چاہتے ہیں کیا یہ نہیں جانتے کہ کشمیریوں کے محسن برہان مظفر وانی اور ڈاکٹر منان وانی کو بے گناہ شہید کر کے آزادی کے متوالوں کی اُمید یں دم توڑ جائیں گی؟ نہیں نہیں ! اگر ظلم کا قانون نافذ کرنا ہے تو ان جذبوں اور ولوں پر نافذکرو جو وقت کی رفتار سے بھی تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا ہے کیا تم نے دیکھا ان جذبوں کو مزید آنچ ملی ہے ان کے حوصلوں کو مزید جِلا ملی اگر شہید کرنا ہے تو ان حوصلوں اور عزائم کو کرو تا کہ پتہ چلے ورنہ ان اوچھے ہتھکنڈوں سے کچھ بھی بگڑنے والا نہیں یہاں تو ہر کوئی ڈاکٹر منان وانی ہے کس کس کو شہید کروگے یہاں تو ہر سال ہر دن ہر ارت ہر لمحہ کشمیر کے نام ہے کس کس دن پہ ماتم کروں گے چاہے جتنی مرضی ظلم کی داستان طویل کر لو ان کی آنکھوں کے جگنوں ہمیشہ جگمگاتے رہے گے ان کی آنکھوں کی لُو بجھنے نہیں پائے گی

ظلمتوں کی شب ہم رویا نہیں کرتے

غفلتوں کی نید ہم سویا نہیں کرتے

نفرتوں کے بیچ ہم بویا نہیں کرتے

محبتوں کے آنگنوں کو ہم گہنایا نہیں کرتے

مزید : رائے /کالم