حکومتی ارکان کی تعداد کم ، سینٹ میں سٹیٹ بینک ترمیمی بل ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود پیش نہیں کیا گیا

حکومتی ارکان کی تعداد کم ، سینٹ میں سٹیٹ بینک ترمیمی بل ایجنڈے پر موجود ہونے ...
حکومتی ارکان کی تعداد کم ، سینٹ میں سٹیٹ بینک ترمیمی بل ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود پیش نہیں کیا گیا

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  حکومتی ارکان کی تعداد کم ہونے کے باعث سینیٹ اجلاس میں سٹیٹ بینک ترمیمی بل ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود پیش نہ کیا گیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت  سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں  حکومت کی جانب سے بل موخر کرنے کی درخواست کی گئی جس پر اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا کہ سٹیٹ بینک ترمیمی بل  سینیٹ میں پیش کیا جائے ،اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے ۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ آئی ایم ایف کے بل کو شکست ہو گئی ۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بل موخر کرنے کی استدعا کی گئی ہے ، کسی نے صدر کے خطاب پر بات کرنی ہے تو کر لے ۔  سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت آئی ٹی نے تحریری جواب پیش کر دیا ۔ تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پی ٹی اے  نے دو سوشل میڈیا کمپنیوں کر رجسٹر کیا ہے ۔ سینیٹر شہادت اعوان نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی اے  میں ابھی تک ٹویٹر ، فیس بک ، انسٹاگرام نے رجسٹریشن نہیں کرائی ؟۔

حکومتی سینیٹر بابر اعوان نے جواب دیاکہ  بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورکس سے رجسٹریشن کے مذاکرات چل رہے ہیں ، ابھی دو سوشل میڈیا کمپنیاں  رجسٹریشن کیلئے آگے آئی ہیں ۔ سال  2021 میں پاکستان این آر آئی اینڈیکس میں  97 ویں نمبر پر رہا جو گزشتہ سال  111ویں نمبر پر تھا یوں 14  درجے بہتری آئی ہے ،گزشتہ برس پاکستان کا ٹیکنالوجی میں  73واں نمبر تھا ، پاکستان کا طرز حکمرانی پر نمبر  108 جبکہ عوام کی رینکنگ پر 105واں نمبر تھا۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ  پاکستان کا موبائل ٹریفک پر 65 واں نمبر ہے ، بینڈ وڈتھ پر 16 واں نمبر ہے ، ملک کا ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پر  49 واں نمبر ہے ۔ٹیلی کام سروس پر 42 ویں نمبر پر ہے ۔ صنفی تفریق پر پاکستان کا 91واں نمبر ہے ، سرکاری اور اوپن ڈیٹا پر 100 واں نمبر ہے ۔

مزید :

الیکشن -قومی اسمبلی -