بلند پرواز جاری

بلند پرواز جاری
 بلند پرواز جاری

  



شاہینوں نے ورلڈ کپ کی ناقابل شکست ٹیم کیویز کو شکست سے دوچار کر کے اس ایونٹ میں اپنے سیمی فائنل کھیلنے کی امید کو برقرار رکھا ہے۔حالانکہ اس ایونٹ کے آغاز سے قبل جس قسم کی قومی ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پرفارمنس تھی کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ اس سیریز میں ناکامی اور ورلڈ کپ وارم اپ میچ میں افغانستان جیسی ٹیم سے شکست کے بعد ورلڈ کپ کی ٹیموں میں پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نیچے کے نمبر سے اٹھنے والی قومی ٹیم سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کی لسٹ میں بھی شامل ہو سکتی ہے۔اسی لیے کرکٹ ماہرین قومی ٹیم کو غیر بھروسہ مند ٹیم قرار دیتے ہیں۔جیتنے پر آئے تو چیمپئن ٹرافی تک جیت جاتی ہے،ہارے تو افغانستان بھی اسے ہمالیہ کے پہاڑ جیسادکھائی دیتا ہے۔

جو بھی ہے ہماری قومی ٹیم اس وقت اس جگہ پر موجود ہے جہاں قوم کی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔صورتحال اس طرح سے ہے کہ قومی ٹیم کو اپنے باقی دونوں میچز میں کامیابی کو یقینی بنانا ہو گا جبکہ انگلینڈ کے باقی دو میچز میں سے ایک میچ میں ہار ضروری ہے۔اسی لیے ایونٹ میں چوتھی ٹیم کی فائنل فور میں جگہ بنانے کی اگر مگرکی جانب صورتحال گامزن ہے۔قومی ٹیم اس وقت بھر پور فارم میں ہے اور اسے اپنے دونوں میچز کو آسان لینے کی بجائے ان پر اسی محنت و عظمت سے کھیلنے کی ضرورت ہے جیسی افریقہ اور کیویز کے خلاف میچ میں تھی۔ان دونوں میچز میں حارث سہیل نے اپنی اہلیت ثابت کی اور ایک مستند بلے باز کے طور پر ابھرے لیکن میرا مشورہ ہے کہ انہیں باؤلنگ کے لیے بھی آزمانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ وہ باؤلنگ میں بھی کار آمدثابت ہو سکتے ہیں۔

اگر کسی نے 1983ء کا ورلڈ کپ دیکھا ہو تو یاد دہانی کے لیے بتا تا چلوں کہ وہ ورلڈ کپ انڈیا نے جیتا تھا جس کے بعد1987ء کا ورلڈ کپ آسٹریلیا نے اپنے نام کیا۔1992 ء میں کامیابی نے پاکستان کے قدم چومے تھے۔ٹھیک انیس سال بعد تاریخ خود کو دہرا رہی ہے کیونکہ 2011 ء کا کپ انڈیا نے اٹھایا،2015 ء میں آسٹریلیا نے کامیابی حاصل کی۔اب 2019 ہے اور قومی ٹیم کے میچز کے بعد اس ایونٹ میں کامیابی کی بھی وہی صورتحال نظر آرہی ہے تو پھر قوم کو اپنے ملک کی کامیابی کے لیے اللہ کے حضور پیش ہو کر دل سے دعا مانگنے اور اپنے حق میں کروانے کی ضرورت پڑ چکی ہے۔قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی کے باعث ماہرین کرکٹ اس ایونٹ میں قومی ٹیم سے اسی کارکردگی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

جو کارکردگی قومی ٹیم نے 1992 ء میں عمران خان کی قیادت میں دی تھی اس ایونٹ میں اور موجودہ ایونٹ میں کئی چیزیں مماثلت رکھتی ہیں جیسا کہ انضمام الحق کا یہ پہلا ایونٹ تھا،اسی طرح ان کے بھتیجے امام الحق کا بھی پہلا ایونٹ ہے۔اس ایونٹ میں عامر سہیل تھے،اس ایونٹ میں حارث سہیل ہیں۔اس ایونٹ میں وسیم اکرم ٹاپ باؤلر تھے،اس ایونٹ میں محمد عامر اس منزل کے قریب ہیں۔گو یہ ایونٹ ہر لحاظ سے قومی ٹیم کے لیے خوش بختی کی علامت لے کر آیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اللہ ہماری قومی ٹیم کو اس ایونٹ میں کامیاب و کامران کرے۔

سینئر صحافی،اینکر و سپورٹس پرسن،کالمسٹ شاہنواز رانا نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ قومی ٹیم میں بابر اعظم ایک ایسا کھلاڑی ہے جو میچ کو اختتام تک لے کر جا سکتا ہے۔لیکن وہ صرف اپنی ایوریج بہتر کرنے کے بعد زیادہ دیر پچ پر کھڑا نہیں ہوتا۔لہذٰا اسے چاہیے کہ وکٹ پر رک کر کھیلے اور میچ کو اختتام کی جانب لے کر جائے تب ہی قومی ٹیم کامیابی کی جانب قدم بڑھا سکتی ہے۔تو شاید ان کی بات کو اپناتے ہوئے بابر اعظم نے مستقل مزاجی کے ساتھ میچ کو اختتام پذیر کیا بلکہ شاندار سینچری بھی بنا ڈالی۔ہمارے باقی سنیئر سپورٹس جر نلسٹ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کریں تا کہ ان کا حوصلہ بلند ہو سکے۔ اس سے ان کی پر فارمنس میں بھی بہتری آئے گی۔میری اللہ سے دعا ہے کہ مایوسی میں گھری اس قوم کو جلد کوئی خوش خبری ملے اور وہ خوش خبری ٹیم کے ورلڈ کپ جیتنے کی ہو۔

مزید : رائے /کالم