ایٹمی دھماکوں کے وقت بلوچستان حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جب اس معاملے پر آواز اٹھائی گئی تو کیا ہوا؟ اختر مینگل کا بڑا دعویٰ

ایٹمی دھماکوں کے وقت بلوچستان حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جب اس معاملے ...
ایٹمی دھماکوں کے وقت بلوچستان حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جب اس معاملے پر آواز اٹھائی گئی تو کیا ہوا؟ اختر مینگل کا بڑا دعویٰ

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت کے اہم اتحادی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کے سربراہ سردار اخترمینگل کا کہنا ہے کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو وفادار لیکن اپوزیشن میں ہوں تو غدار قرار دیا جاتا ہے، جب ایٹمی دھماکے کیے گئے تو بطور وزیر اعلیٰ بلوچستان مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا ، ہم نے جب اس بات پر احتجاج کیا تو ہماری حکومت ہی ختم کردی گئی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ ملک کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ فاطمہ جناح،باچا خان، ولی خان، غوث بخش خان بزنجو، عطاءاللہ خان مینگل، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو غدار قرار دیا گیا، جن لوگوں کو غدار قرار دیا گیا تو کیا پھرانہیں ووٹ دینے والے عوام بھی غدار ہیں؟۔ عجیب تماشہ ہے کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو وفادار لیکن اپوزیشن میں بیٹھیں گے تو غدار کہلائیں گے ، تحریک انصاف والے بھی تیاری کرلیں، یہ الزام کل پی ٹی آئی پر بھی لگیں گے کیونکہ فاصلہ بہت کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر، چاغی اور ریکوڈک کا نام لیا جاتا ہے لیکن ان منصوبوں سے بلوچستان کے لوگوں کو کیا ملا؟آج کے دن ایٹمی دھماکے کیے گئے ، جب یہ دھماکے ہوئے تو وہ وزیراعلیٰ بلوچستان تھے لیکن انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، اس معاملے پر احتجاج کیا گیا تو ہماری حکومت ہی ختم کر دی گئی۔

شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعے پر بی این پی مینگل کے سربراہ نے کہا کہ جس وجہ سے پاکستان ٹوٹا آج پھر وہی ماحول بن رہا ہے ، گھڑی کا کانٹا ہم پر چانٹے کی صورت میں پڑا تو سب خاموش رہے، آج وہی چانٹا وزیرستان کو لگ رہا ہے۔انہوں نے وزیرستان واقعے پر ’ محب وطن ‘ لوگوں کا پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا ۔

مزید : قومی


loading...