معدنی ذخائر کے باوجود درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے ٹھوس حل تلاش نہیں کر سکے، مشتاق غنی

معدنی ذخائر کے باوجود درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے ٹھوس حل تلاش نہیں کر ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)سپیکر صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا مشتاق احمد غنی نے گذشتہ روز ا نجینئرنگ یونیورسٹی پشاور کے یو ایس پاکستان سینٹر فار ایڈونس اِن انرجی کا دورہ کیا۔ وفد میں ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی محمود جان، سینٹرفدا محمد خان اور ایڈوائزرعباس خان بھی سپیکرکے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے مشتاق احمد غنی نے توانائی کے شعبے میں صوبے کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے تحاشہ معدنی ذخائر کے باجودہم توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے کیلئے کوئی ٹھوس حل تلاش نہیں کرسکے۔ جس کیلئے ایسی انسانی وسائل کی اشد ضرورت ہے جو ان حقیقی مسائل کا حل تلاش کرسکیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ان مسائل پر قابو پانے کیلئے سامنے آنا چاہیے۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے ذریعے توانائی کے مسائل حل کرنے اور انڈسٹری کے ساتھ روابط قائم کرنے پر پر سینٹر فار ایڈونس اِن انرجی اور یو ایس ایڈ کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈونس اِن انرجی کو ہدایت کی کہ توانائی کے شعبے میں ٹھوس تجاویز حکومت کے سامنے لائیں ۔ انہوں نے حکومت کیجانب سے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سینٹر فدا محمد خان نے تجویز کیا کہ اس سینٹر اور واپڈا کے مابین روابط قائم کے جاسکتے ہیں جس کے ذریعے پشاور کے مختلف فیڈرز میں جہاں زیادہ نقصانات ہورہے ہیں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔انجینئرنگ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نور محمد نے وفد کو سینٹر فار ایڈونس اِن انرجی کی اہمیت اور توانائی کے شعبے میں اسکی کامیابیوں پر تفصیلی آگاہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے عرفان مفتی، ڈین فیکلٹی آف مکینیکل انجینئرنگ نے وفد کو سینٹر کے حوالے سے ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے سینٹر میں قائم اعلیٰ معیار کے لیبارٹریوں کو دورہ کیا اور طلباء اور اساتذہ سے ملاقات بھی کی۔ڈاکٹر نجیب اللہ ، ڈائریکٹر سینٹر فار ایڈونس اِن انرجی نے وفد کو سینٹر میں جاری تعلیمی سرگرمیوں اور تحقیق پر تفصیلی روشنی دی ۔ انہوں نے بتایا کہ اس سینٹر کو پہلے ہی سے خیبر پختونخوا کو توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل کے حوالے سے "تھنک ٹینک"کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس مو قع پر انجینئرنگ یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر خضر اعظم خان، سینئر فیکلٹی ممبران ا ور طلباء کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مزید : کراچی صفحہ اول