” اگر اس ملک میں کوئی قانون ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ گرفتار ہوتے“ شہباز شریف کی گرفتاری پر مریم نواز کی تہلکہ خیز پریس کانفرنس

” اگر اس ملک میں کوئی قانون ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ ...
” اگر اس ملک میں کوئی قانون ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ گرفتار ہوتے“ شہباز شریف کی گرفتاری پر مریم نواز کی تہلکہ خیز پریس کانفرنس

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شہباز شریف کی گرفتاری کسی جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے ہوئی،شہباز شریف کی اہلیہ، بیٹوں کو اشتہاری بنادیا گیا، حمزہ شہباز پر الزام ثابت نہیں ہوا پھر بھی جیل میں رکھا ہوا ہے، اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے ہیں،انہیں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ وفاداری کی سزا ملی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اگر اس ملک میں کوئی قانون ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ عاصم سلیم باجوہ گرفتار ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عاصم سلیم باجوہ کا معاملہ عدالت نہیں دیکھتی تو ہم اس معاملے کو اے پی سی اور رہبر کمیٹی کے سامنے رکھیں گے ،یہ بات اب یہاں نہیں رکے گی،یہ سوال اٹھے گا کہ انہیں عدالت پوچھنے کی جرات کیوں نہیں رکھتی ۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی ایک ذاتی سوچ ہے کہ مفاہمتی سیاست شاید بہتر ہے اور شہباز شریف اپنی یہ رائے نواز شریف کے سامنے بھی رکھتے ہیں لیکن جب نواز شریف کا فیصلہ آجاتا ہے تو شہباز شریف پہلے انسان ہوتے ہیں جو سر تسلیم خم کرتے ہیں۔مریم نواز نے کہا کہ جو لوگ ن میں سے ش نکالنا چاہتے ہیں وہ جان لیں کہ ن میں سے ش یا م کبھی نہیں نکلے گی ،چاہے آپ شہباز شریف کو گرفتا ر کرلیں یا مریم نواز کو گرفتار کرلیں ،یہ تحریک نہیں رکے گی ۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا تھا پکڑنا ہے پکڑیں اے پی سی اعلامیہ پر 100 فیصد عمل ہوگا، پہلی بار اپوزیشن پر اس طرح کا کریک ڈاو¿ن ہوا ہے، پہلی بار ہر گناہ کرنے کے بعد بھی حکومت بری الذمہ ہے۔مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف کو عدالتوں کے چکر لگوائے گئے، مجھ سے نیب میں پوچھا جاتا تھا گھر میں کیا کھاتے ہیں، اس طرح کے فیصلے پہلے سے لکھ کر رکھ لیے جاتے ہیں، شہباز شریف نے سرتوڑ کوششوں کے باوجود بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کی تقریر اور آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد ہوگا، تحریک چلے گی اور  بھرپور طریقے سے چلے گی، نوازشریف جلد وطن واپس آکر اپوزیشن کی تحریک کی قیادت کریں گے۔

مزید :

Breaking News -اہم خبریں -قومی -