آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر66

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر66
آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر66

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پانی کے تار کے جھلملاتے اور موتیوں کی طرح چمکتے پردے کے پیچھے بے حس و حرکت سیاہ بکرا البتہ اسی جگہ پڑا تھا۔تیندوے سے نا امید ہوتے ہی میں نے ٹارچ فوراً گل کر دی کہ زخمی تیندوا اس کی روشنی میں ہماری کمین گاہ بآسانی پا سکتا تھا۔

شدید خطرے کے احساس سے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور اب سارے حواس مجتمع ہو کر آہٹوں کے لیے وقف تھے۔ ہم خوب جانتے تھے زخمی ہونے کے بعد تیندوا کتنا خوفناک اور خطرناک ہوتا ہے اور انتقام لینے پر آجائے تو اپنے زخموں یا جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ ہر ہلکی سی آہٹ ہمارے دل دہلا دیتی۔ایک ایک لمحہ سخت اضطراب اور بے چینی میں کٹ رہا تھا۔ میرے کہنے پر منی رام کھسک کر میری اوٹ میں بیٹھ گیا۔

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے اپنی غلطی پر شدید افسوس ہو رہا تھا کہ میں نے منی رام کو پہلے فائر کرنے کا موقع کیوں دیا۔ تیندوے کی ’’اونہہ‘‘ سے یہ یقین تھا کہ ایل جی کے دانے اسے لگے ہیں مگر کتنے لگے اور کہاں لگے؟اس کا کچھ اندازہ نہ تھا۔بارش کی آواز کے سوا مکمل خاموشی تھی۔ تقریباً پانچ منٹ اسی حالت میں گزرے۔پھر کہیں قریب ہی سے تیندوے کے غرانے کی آواز آئی جو رات کے بھیانک سناٹے میں ایسا ہیبت ناک ارتعاش پیدا کر رہی تھی کہ پھونس کی ٹٹی کی جگہ شیشے کی کھڑکی ہوتی تو شیشہ ضرور ٹوٹ جاتا، پھر تیندوا زور سے دھاڑا۔

منی رام خوفزدہ ہو کر مجھ سے لپٹ گیا۔ یہ حملے کا الارم تھا اور تجربے کے مطابق اسی لمے تیندوے کو جھپٹ کر حملہ کرناتھا۔میں گھبرا کر ٹارچ روشن کرنے ہی والا تھا۔میرے ہاتھ نے جسے آگے بڑھ کر نالی پر نصب ٹارچ کا سوئچ آن کرنا تھا،اپنی جگہ سے ہلنے سے انکار کر دیا۔ دستے کو اور مضبوطی سے گرفت میں لے لیا اور انگلی رائفل کی لبلبی سے ہٹنے پر آمادہ نہ ہوئی۔یہ بھی اچھا ہوا،ورنہ اس وقت روشنی ہو جاتی تو تیندوا نظر آئے بغیر بآسانی روشنی کے منبع پر جست کر سکتا تھا۔

کچھ دیر دلوں میں ہلچل، مگر گردوپیش میں سکوت رہا، پھر تیندوے کی آواز سے سنائی دی اور ہماری جان میں جان آئی۔

بسوڑا کا مکان گاؤں کے شمالی سرے پر تھا۔ ان خطرناک حالات میں جنوبی سرے پرتقریباً پچاس ساٹھ گز دور رکھی رام کی بکھری تک جانا خطرناک بھی تھا اور مشکل بھی اور وہاں بیٹھے رہنا بھی فضول اور لا حاصل،کیونکہ فائر کے بعد تیندوے کا بکرے کے لیے لوٹنا تقریباً ناممکن تا۔

قدرے توقف کے بعد میں نے بڑھ کر بسوڑا کی کنڈی کھٹکھٹائی۔فائر کے بعد وہ جاگ رہا تھا اور ہمارے سگنل کا منتظر تھا۔ آہٹ پاتے ہی اس نے فورًا دروازہ کھول دیا۔ رات ہم نے اس گھر بسر کی۔

تیندوے کے زخمی ہونے کے بعد میرے لیے مہم کا ترک دینا ممکن نہ رہا کیونکہ بہت جلد اس کے آدم خور بن جانے کا امکان تھا۔ دکھتے ہوئے زخم یا ناکارہ عضو کے باعث درندوں میں وہ توانائی اور چستی نہیں رہتی جو جنگلی جانوروں کو پکڑنے اور ہلاک کرنے کے لیے ضروری ہے۔جنگل میں بھوکا مر جانے کے خوف سے وہ پالتو مویشی ہڑپ کرنے کے لیے بستیوں کا رخ کرتا ہے۔ جان کی بازی لگا کر کسی انسان پر حملہ کر بیٹھتا ہے اور اسے حیرت ہوتی ہے کہ اس سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا۔ یہ شکار تو سب سے آسان،سب سے مزیدار اور سب سے نرم ہے۔نہ کھال میں سختی، نہ ہڈیوں میں،نہ سینگوں کا ڈر نہ کھروں کا خدشہ۔پھر گوشت بھی نمکین اور لذیذ!

میں نے منی رام سے اس کی کم ہمتی کے بارے میں اس وقت کچھ نہ کہا۔دوسرے روز جب میں اپنی مہم پر روانہ ہونے لگا تو اسے نرمی سے منع کر دیاکہ جنگل میں زخمی تیندوے کی تلاش سخت خطرناک ہے،اس لیے اسے ساتھ لے جانا مناسب نہیں۔وہ اداس ضرور ہوا لیکن قرین مصلحت یہی تھا، جلد مان گیا۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

ہم نے اپنی جستجو کا آغاز اسی جگہ سے کیا جہاں مردہ بکرا پڑا تھا۔ معلوم ہوا تیندوا اسے کھانے کا موقع بالکل نہ پا سکا، صرف خون ہی پیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ بھوک مٹانے کے لیے دو تین روز کے اندر ہی اندر کوئی واردات کرے گا۔ اس کے پنجوں کے اکا دکا نشانات سے یہ بھی واضح ہوا کہ وہ گاؤں کے شمالی رخ کے جنگل میں گیا۔ یہ جنگل بسوڑا کے گھر سے دو چھوٹے چھوٹے کھیتوں کے بعد ہی بڑے پہاڑ کے دامن سے شروع ہو کر بتدریج بلند ہوتا چلا جاتا ہے۔ترائی میں چند ڈھاک اور ببول کے درخت اور کروندوں اور جھڑبیری کی جھاڑیاں ہیں۔اس کے بعد تیندو،اچار،کاکیں،بڑ،بہیڑہ،آنوالہ اور کھیر(کتھا)کے درخت ہیں۔پہاڑی کی بلندی پر ساگوان کے پیڑ بھی ہیں۔پیپلی اور بابڑنگ کی تو بھر مار ہے۔

میرے ہمراہ وہ مضبوط گوند جگو اور چھدامی تھے۔جگو کے پاس دھنی رام کو بارہ بور تھی اور چھدامی نے اپنی بھر مار بندوق پر برچھے کو ترجیح دی تھی کہ نمی اور سیلن کے سبب برسات کے موسم میں بارود آگ نہیں پکڑتا اور بھرمار کا چلنا مشتبہ ہو جاتا ہے۔باہمی مشورے کے بعد طے پایا پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بیس تیس گز کا فاصلہ رکھیں گے۔یوں ہم دو مختلف مقامات سے جنگل میں داخل ہوئے گھنی جھاڑیوں اور درختوں سے پٹے ہوئے کٹے پھٹے پتھر یلے راستے پر ہماری رفتار بے حد سست تھی۔ پہاڑی تقریباً پانچ سو فٹ بلند تھا۔چلتے چلتے ہم ادھرادھر پتھر بھی پھینکتے جاتے کہ تیندوا کسی جھاڑی یا غار میں چھپا ہو تو باہر نکل آئے۔ ابھی ہم بمشکل دو سوفٹ چڑھے ہوئے کہ جگو کے چیخنے کی آواز آئی اور پھرفائر ہوا جس کے ساتھ تیندوا غرایا۔ میں تیزی سے اس طرف بڑھا، پھرکراہنے کی آواز کے ساتھ ہی پاڑی کی بلندی پر ایک بھیڑ نے خوفزدہ انداز میں چیخنا شروع کر دیا۔(جاری ہے)

آدم خوروں کے شکاری کی جنگلی زندگی کی داستان.. قسط نمبر67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /آدم خور