وزیراعظم عمران خان نے ”سازشی تھیوریوں“ کے مقابل روائتی سیاسی انداز اختیار کیا

وزیراعظم عمران خان نے ”سازشی تھیوریوں“ کے مقابل روائتی سیاسی انداز اختیار ...

  



دیر آئے درست آئے کے مصداق وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی ہوئی سازشوں اور پاکستان تحریک انصاف کے اندر جنم لینے والی بغاوتوں کی سرکوبی کے لئے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں انہوں نے زیادہ تر سیاست ”بلیک اینڈ وائٹ“ میں کی ہے،کیونکہ انہوں نے حکومت میں آنے سے قبل ایک نظریاتی سیاست کا جو بیانیہ تشکیل دیا تھا وہ اب تک بہت حد تک اپنی بنائی پالیسی اور فیصلوں کے ہی اسیر تھے،لیکن دارالحکومت میں بڑھتی ہوئی سازشی تھیوریوں کے انسداد کے لئے انہوں نے اب نظریاتی سیاست اور اصولی سیاست کے تکلفات برطرف کر کے ملکی سیاسی بساط پر روایتی سیاست یا ”پاور پالیٹکس“ کی بازیاں چلنے کا آغاز کر دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے ان حالیہ اقدامات کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں حکومت کے خلاف بڑھتی ہوئی سازشی تھیوریاں بلا سبب نہیں تھیں۔ کچھ نہ کچھ دال میں کالا ضرور تھا بالخصوص ملک کے سب سے بڑے اور پاکستان تحریک انصاف کے لئے سیاسی لحاظ سے انتہائی حساس صوبے پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف سازشوں کی ہنڈیا چڑھی ہوئی تھی، جسے انہوں نے اپنے دورہئ لاہور میں سرعام پھوڑ دیا۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے اس دورہ میں اپنے اہم ترین حلیف رہنماؤں چودھری برادران کے ساتھ جو سلوک روا رکھا وہ ایک واضح سیاسی پیغام تھا۔اگرچہ پنجاب کی پارلیمانی سیاست کا توازن چودھری برادران کے حق میں ہے۔اگر مسلم لیگ(ق) پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کے ساتھ اتحاد قائم کر لیتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے لئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ بچانا مشکل ترین کام ہو گا،لیکن وزیراعظم عمران خان نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ کسی سے بلیک میل نہیں ہوں گے اور بلیک میل ہونا وزیراعظم عمران خان کی شخصیت سے بھی میل نہیں کھاتا۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ پنجاب میں عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ رہیں گے،جس کی بنا پر پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے گزشتہ کئی ماہ سے چلنے والی افواہیں دم توڑ گئیں،لیکن اب دیکھنا ہے کہ چودھری برادران جو ملکی سیاسی بساط پر بازی چلنے والے اہم ترین کھلاڑی سمجھتے جاتے ہیں۔ آئندہ کیا چال چلتے ہیں جبکہ وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین رہنما کے خلاف سخت کارروائی کر کے پارٹی ڈسپلن کے حوالے سے بھی اہم پیغام دیا ہے۔ اگرچہ خیبرپختونخوا میں عاطف خان اور شہرام وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی رفقاء تصور ہوتے تھے،لیکن انہیں ڈسپلن پر قربان کر دیا گیا۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ(ن) کے مرکز میں حکومت کے لئے ممکنہ خطرہ سے نپٹنے کو بھانپتے ہوئے سندھ میں سیاسی پینترا بدلتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ اچھے ورکنگ ریلیشن شپ کے لئے مثبت پیغام دیا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم عمران خان کے لئے یہ سیاسی ٹرن لینا شاید مشکل تھا، کیونکہ گزشتہ عام انتخابات کے بعد بہت سے سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ شاید پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف میں سیاسی اتحاد قائم ہو جائے،کیونکہ پی ٹی آئی کی صحیح معنوں میں سیاسی حریف مسلم لیگ(ن) تھی،اس اتحاد کے حامیوں کا یہ بھی خیال تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان چھوٹی چھوٹی سیاسی جماعتوں کی بلیک میلنگ سے بھی بچ جائیں گے، کیونکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ناز نخرے اٹھانا وزیراعظم عمران خان کے مزاج کے خلاف ہے، جبکہ اس کے برعکس وزیراعظم عمران خان نے پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیا،بلکہ بسا اوقات پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت مسلم لیگ(ن) کی نسبت زیادہ ہدف تنقید بنتی رہی اب لگتا ہے کہ حالات کے جبر کی بدولت وزیراعظم عمران خان کو پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاسی افادیت سمجھ میں آنا شروع ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ کراچی میں ایم کیو ایم سے مکمل کنارہ کشی کی وزیراعظم عمران خان کی پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف مائل ہونے کی وجہ دارالحکومت میں لندن پلان کی بازگشت بھی ہو سکتی ہے،کیونکہ یہاں زبان زد عام ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سربراہ شہباز شریف لندن میں بیٹھ کر مقتدر حلقوں کے ساتھ کسی ممکنہ پاور ڈیل کے لئے کوشاں ہیں۔

دارالحکومت کے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کئی ہفتوں سے ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں چل رہی تھیں لگتا ہے کہ ان معروضی سیاسی حالات کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان پیپلزپارٹی سے قربت اختیار کرنے کا اشارہ دے کر جو ترپ کا پتہ پھینکا ہے وہ انہیں سیاسی دوام کس حد تک دے پائے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا پاکستان کی داخلی سیاست میں چومکھی جنگ جاری ہے اس کے اثرات مہنگائی اور کمزور طرز حکمرانی کی شکل میں عوام بھگت رہے ہیں ملک کی داخلی صورت حال کے اثرات خارجہ امور پر بھی پڑے ہیں۔ اگرچہ ڈیوس میں وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ملاقات ہوئی، لیکن لگتا ہے کہ اس ملاقات کا پاکستان کے معاشی مسائل کے حوالے سے یا پھر ہندوستان کو اس کے مذموم مقاصد سے باز رکھنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد ہوتا ہوا نظر نہیں آیا،بلکہ جب بھی وزیراعظم عمران خان امریکی صدر ٹرمپ سے ملتے ہیں تو پاکستان کی مشکلات میں اضافہ نظر آتا ہے امریکی صدر ٹرمپ پاکستان پر ایک طرف تو یہ دباؤ ڈال رہے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات میں ڈیل ان کی شرائط اور مرضی سے ہو دوسری جانب خطے میں بھارت کو ایک اہم کھلاڑی کا کردار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے معاملہ پر چین کھل کر پاکستان کی حمایت کر رہا ہے،جبکہ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر ملکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم ترین ایشو سی پیک کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جس پر اگرچہ نہ صرف پاکستان، بلکہ چین کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ بالآخر وزیراعظم عمران خان نے بھی سی پیک کے حق میں بیان دیا یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پہلی دفعہ دو ٹوک موقف سامنے آیا جس کی چین نے بھی تحسین کی۔ چین اس وقت کرونا وائرس کی شکل میں اپنی تاریخ کے ایک اہم ترین بحران سے گزر رہا ہے،جس کے تحت 100 کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں سینکڑوں متاثرین ہسپتالوں میں ہیں۔ پاکستان کی جانب سے قدرے تاخیر کے ساتھ چین سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔چین میں پھیلنے والے اس مہلک وائرس کے دوران چین میں ہزاروں پاکستانی طالب علم بھی پھنسے ہوئے ہیں پاکستان میں جن کے والدین شدید اضطراب کا شکار ہیں۔چینی سفیر نے چین کے لئے سال کی تعطیلات کے دوران سے ہی اس حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے کہ پاکستانی طالب علموں کی چین میں مکمل دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔پاکستان میں ایک پشتون رہنما کی گرفتاری پر جس طرح افغان صدر نے ردعمل ظاہرکیا ہے یہ پاکستان کے داخلی سیاسی معاملات میں ایک کھلی مداخلت ہے جس کا پاکستان کے دفتر خارجہ نے نوٹس لیا ہے،لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کے لئے خطے میں ہندوستان اور افغانستان کی شکل میں سنگین چیلنجز ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک ملک امریکی اثر میں ہیں کیا ان دونوں ممالک کو پاکستان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں امریکی پشت پناہی حاصل ہے؟ہمارے دفتر خارجہ کے لئے کتنا اہم سوال ہے!

مزید : ایڈیشن 1