مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 43

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 43
مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 43

  

اگلا شخص ایک بہت دولتمند آدمی تھا۔ پوچھا گیا:

’’دولت کے خزانے تو پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ یہ بتاؤ کہ مال کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا تھا؟‘‘

اس نے جواب دیا:

’’پروردگار! میں کاروبار کرتا تھا۔ اس سے جو مال کمایا وہ غریبوں پر خرچ کیا۔‘‘

فرشتے کو اشارہ ہوا۔ اس نے تفصیل بیان کرنا شروع کی جس کے مطابق اس شخص نے زندگی میں کھربوں روپے کمائے۔ ابتدائی زندگی میں چھوٹے کاروبار سے آغاز کیا۔ چینی، آٹا اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی وغیرہ کی بنا پر بہت منافع کمایا اور اس کا بزنس تیزی سے پھیل گیا۔ اس کے بعد اس نے کئی اور کاروبار کرلیے۔ مگر اس دفعہ مال کمانے کے لیے اس نے اپنے جیسے کئی دوسرے لٹیروں کو ساتھ ملاکر ایک کارٹل بنالیا۔ کارٹل کا کام ہی یہ تھا کہ مارکیٹ کو کنٹرول کرکے اپنی مرضی کی قیمت پر اشیا فروخت کی جائیں۔ یہ کارٹل جو انتہائی بارسوخ افراد پر مشتمل تھا اپنے سیاسی رابطوں اور رشوت کے ذریعے سے اپنی مرضی کی قیمتیں طے کراتا۔ یوں غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پستے رہے اور ان کا سرمایہ کروڑوں سے اربوں اور اربوں سے کھربوں میں بدلتا گیا۔ معاشرے میں اپنا تشخص برقرار رکھنے کے لیے یہ اپنے خزانوں میں سے چند سکے خیرات کرتا اور ڈھیروں واہ واہ کماتا۔

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فرشتے کے بیان کے بعد کچھ کہنے سننے کی گنجائش ختم ہوگئی، مگر یہ سیٹھ بہت چالاک شخص تھا۔ اس نے چیخ چیخ کر کہنا شروع کردیا کہ یہ سارا بیان بالکل غلط ہے۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ میں نے ہر چیز قانون کے مطابق کی ہے۔ مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کاروبار کیا۔ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ فرشتہ جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ مسلسل چیخے جارہا تھا۔

آواز آئی:

’’تو تجھے ثبوت چاہیے۔ وہ بھی مل جائے گا۔‘‘

ان الفاظ کے ساتھ ہی سیٹھ کی آواز بند ہوگئی۔ یکایک اس کے ہاتھ سے آواز آنا شروع ہوگئی۔ کم و بیش وہی بیان دہرادیا گیا جو فرشتے نے دیا تھا۔ پھر ایسی ہی گواہی اس کے پیروں سے آنا شروع ہوگئی۔ اور رفتہ رفتہ پورے جسم نے اس کے خلاف گواہی دے دی۔ حتیٰ کہ اس کے سینے نے اس کے دل کی وہ نیت بھی بیان کردی جو فرشتوں کے ریکارڈ میں درج نہ تھی۔

اس گواہی کے بعد کہنے سننے کی ساری گنجائش ختم ہوگئی اور وہی انجام سامنے آگیا جو پچھلوں کے سامنے آیا تھا۔ صرف ایک اضافی بات ہوئی وہ یہ کہ فرشتوں کو حکم ہوا کہ جہنم میں دیگر عذابوں کے ساتھ اس کے مال و دولت اور خزانوں کو آگ میں دہکایا جائے اور اس سے اس کی پیٹھ، اس کی پیشانی اور اس کی کمر کو بار بار داغا جائے۔ اس کے بعد فرشتے اسے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم کی سمت لے گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ایک کرکے لوگ آتے جارہے تھے اور ان کے معاملات نمٹتے جارہے تھے۔ چند لوگوں کا معاملہ بڑا ہی عبرتناک تھا۔ ان میں سے پہلا شخص آیا تو محسوس ہوا کہ اس کے نامۂ اعمال میں نیکیوں کے پہاڑ ہیں۔ عبادت، ریاضت، نوافل، اذکار، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور عمرے کی قطار تھی جو اس کے نامۂ اعمال سے ختم ہی نہیں ہورہی تھی۔ مگر اس کے بعد فرشتے نے ا س کے نامۂ اعمال میں موجود ان اعمال کو پڑھنا شروع کیا جن کا تعلق مخلوق خدا کے ساتھ تھا تو معلوم ہوا کہ کسی کو گالی دی ہے، کسی کا مال دبایا ہے، کسی پر تہمت لگائی ہے، کسی کو مارا پیٹا ہے۔ چنانچہ بارگاہ الٰہی سے فیصلہ ہوا کہ سارے مظلوموں کو بلالو۔ اس کے بعد ہر مظلوم کو اس کے حصے کی نیکیاں دے دی گئیں۔ کچھ مظلوم پھر بھی رہ گئے تو حکم ہوا کہ ان کے گناہ اس کے کھاتے میں ڈال دو۔ اس کے بعد جب اعمال کا وزن ہوا تو الٹے ہاتھ کا پلڑا بالکل جھک گیا۔ وہ شخص چیختا چلاتا رہا، مگر اس کی ایک نہ چلی اور فرشتے اسے کھینچتے ہوئے جہنم کی سمت لے گئے۔

کچھ لوگ ایسے آئے جن کا انجام دیکھ کر مجھے اپنی فکر پڑگئی۔ ان میں سے ایک عالم تھا۔ وہ پیش ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی ساری نعمتیں یاد دلائیں اور پھر اس سے پوچھا کہ تم نے جواب میں کیا کیا۔ اس نے اپنے علمی اور دعوتی کارنامے سنانے شروع کیے۔ جواب میں اسے کہا گیا کہ تو جھوٹ بولتا ہے۔ تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تجھے عالم کہا جائے۔ سو دنیا میں کہہ دیا گیا۔ فیصلے کا نتیجہ صاف تھا۔ چنانچہ فرشتے اسے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم کی سمت لے گئے۔ ایسا ہی معاملہ ایک شہید اور ایک سخی کے ساتھ ہوا۔ ان سے بھی وہی سوال ہوا۔ انہوں نے بھی اپنے کارنامے سنائے۔ مگر ہر دفعہ یہی جواب ملا کہ تم نے جو کچھ کیا دنیا میں لوگوں کو دکھانے اور ان کی نظروں میں مقام پانے کے لیے کیا۔ سو وہی تعریف تمھارا بدلہ ہے۔ نہ میرے لیے کچھ کیا نہ میرے پاس دینے کے لیے کچھ ہے۔ انہیں بھی جہنم کی سمت روانہ کردیا گیا۔ ان لوگوں کا حساب کتاب ہورہا تھا اور میں حساب لگارہا تھا کہ میں نے کتنے کام اللہ کے لیے کیے اور کتنے لوگوں کی نظروں میں مقام و بڑائی پانے کے لیے۔ْ(جاری ہے)

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید : جب زندگی شروع ہوگی