عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 99

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 99
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 99

  

اس سرنگ کی حقیقت یہ تھی کہ اس کے بارے میں شہنشاہ یا داروغہ شاہی کے علاوہ کسی کو علم نہ تھا۔ شہنشاہ کے علم میں بھی یہ خفیہ راستہ داروغہ شاہی کے بتانے پر ہی آیا تھا۔ داروغہ شاہی اس وجہ سے بے حد حیران تھا کہ آخر وہ تیسرا شخص کون ہو سکتا ہے جو خفیہ سرنگ کے بارے میں جانتا ہے۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ تیسرا شخص بطریق شاگال ہے۔ایک خیال کے تحت داروغہ نے اپنے ساتھ آئے دونوں سپاہیوں کو واپس جانے کا حکم دیا وہ سرنگ میں اکیلا داخل ہونا چاہتا تھا۔ چنانچہ جب سپاہی واپس چلے گئے تو داروغہ شاہی نے واپس جا کر تہہ خانے کا اکلوتا دروازہ بند کر دیا۔ اب کوئی شخص سیدھے راستے سے راہداری میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔ داروغہ نے اپنا ہاتھ تلوار کے دستے پر مضبوطی سے جما لیا۔ وہ قاسم کی کوٹھڑی کے قریب سے گزرا تو کچھ سوچ کر رک گیا اور بولا۔

’’سنا ہے تمہیں کوئی بھوت نظر آیا ہے؟۔۔۔سرخ انگارہ آنکھوں والا دیو؟‘‘

’’ہاں! وہ گنجا بھی تھا۔۔۔وہ کسی بیل کی طرح ہٹا کٹا تھا۔‘‘

قاسم کے لہجے کی سچائی سن کر داروغہ سوچ میں پڑ گیا۔ لیکن اگلے لمحے وہ خفیہ سرنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ داروغہ شاہی کے ذہن میں خیال آیا کہ قاسم کہیں خفیہ سرنگ کے راستے سے واقف ہی نہ ہو جائے۔ اسی ڈر کے تحت داروغہ نے احتیاط سے کام لینا شروع کیا۔ ویسے بھی راہداری کا دوسرا قاسم کی نظروں سے کافی اوجھل تھا۔ لیکن قاسم تو پہلے ہی یہ اندازہ کر چکا تھا کہ تہہ خانے میں کوئی خفیہ راستہ موجود ہے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 98پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

داروغہ شاہی شمالی دیوار کے پاس جا کر رک گیا اور پھر اسنے اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے سر پر نیچی چھت کی ایک اینٹ کو زور سے دبایا۔ اگلے لمحے راہداری کی دیوار میں گڑگڑاہٹ کی آواز گونجی اور دیوار اپنی جگہ سے سرکنے لگی۔ یہ ایک تاریک سرنگ تھی۔ مشعل کی روشنی سرنگ میں داخل ہوئیت و داروغہ شاہی کو سرنگ کی حالت دیکھ کر ایسے لگا جیسے یہ سرنگ صدیوں سے اسی طرح ویران پڑی ہے۔ دیوار سرکتے ہی بہت سی چمگادڑیں اپنی پر سکون جنت میں بے تاب ہوگئیں۔ مکڑی کے بڑے بڑے جالے جگہ جگہ سرنگ میں راستہ روکے کھڑے تھے۔ لیکن شاگال کے گزرنے سے ان دیوار نما جالوں میں محرابی دروازے سے بن گئے تھے۔ سرنگ کے فرش پر بھربھری مٹی بکھری پڑی تھی اور شاگال کے قدموں کے نشانات صاف دکھائی دے رہے تھے۔

نہ جانے کیوں داروغہ شاہی کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ وہ بھوت پریت پر یقین نہ رکھتا تھا لیکن پھر بھی اس کے دل پر آسیبوں کا قبضہ چھانے لگا۔ داروغہ شاہی کے ہاتھ میں مشعل کی لو رقص کر رہی تھی اور سرنگ میں بننے والے پرہیبت سائے منحوس بدروحوں کی طرح اچھل کود کر رہے تھے۔

سرنگ بہت طویل تھی۔ جبکہ داروغہ کے ہاتھ میں پکڑی مشعل کی روشنی زیادہ دور تک نہ جاتی تھی بلکہ تھوڑا آگے جا کر روشنی اور تاریکی آپس میں اس طرح مدغم ہو رہے تھے کہ ہر سایہ خود ایک دیو دکھائی دیتا تھا۔ اور پھر سرنگ کے پر ہول سناٹے میں داروغہ شاہی کے بھاری بوٹوں کی ٹھک ٹھک دل دہلانے کے لئے کافی تھی۔ اب داروغہ شاہی کے دل پر دہشت سی چھانے لگی تھی۔ داروغہ شاہی نے ایک قدم اور آگے بڑھایا تو معاً اسے دور سرنگ میں دو سرخ آنکھیں اپنی جانب گھورتی ہوئی دکھائی دیں۔ جیسے رات کی تاریکی میں کالی بلی کی آنکھیں کسی انگارے کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ بالکل اسی طرح۔ داروغہ شاہی کے قدم رک گئے اور اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اسے یقین ہوگیا کہ سرنگ میں بھوت ہے۔ کچھ دیر کے لئے وہ سکتے میں آگیا۔ لیکن پھر ایک دم اسے ہوش آیا اور وہ الٹے قدموں بھاگا۔ اسنے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر سرنگ کے دہانے کو عبور کیا اور راہداری میں آگیا۔ داروغہ شاہی نے پلک جھپکتے میں دہانے کی اینٹ ہلائی اور سرنگ بند ہوگئی۔ لیکن وہ ابھی تک خوفزدہ تھا۔ اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھیں اور ذہن مسلسل دو سرخ انگارہ آنکھوں پر لگا ہوا تھا۔ داروغہ شاہی شمالی دیوار سے واپس جانے کے لئے مڑا۔ اور جب چلتا ہوا قاسم کی کوٹھڑی کے سامنے پہنچا تو قاسم اپنے پہلے اور آخری منصوبہ کے لئے مستعد کھڑا تھا۔

قاسم سلاخوں کے ساتھ لگ کر راہداری کے بالکل نزدیک تاریکی کا ایک حصہ بن کر کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں شاگال کا مضبوط عصاء تھا۔ داروغہ شاہی جونہی قاسم کی کوٹھڑی کے آگے سے گزرنے لگا اس نے قاسم کی جانب مڑ کر دیکھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ قاسم کو کھڑے ہوئے دیکھ کر حیران ہوتا یا کچھ کہتا، قاسم کا ڈنڈا اپنا کام دکھا چکا تھا۔یہ شاگال کا وہی عصاء تھا جو قاسم نے گھاس پھونس میں چھپا رکھا تھا،دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر داروغہ شاہی کے سر پر دے مارا۔ ٹھس کی آواز آئی اور داروغہ شاہی کی کھوپڑی پچک گئی۔ داروغہ شاہی کا بھیجہ اس کے کانوں کے راستے سے نکلتا ہوا اڑ کر دیوار سے جا چپکا۔ اس کی مشعل گر کر بجھ گئی۔

قاسم تیزی کے ساتھ نیچے بیٹھا اور داروغہ شاہی کو ٹانگ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔ اوپر کی منزل پر موجود سپاہی بے خبر تھے۔ قاسم نے داروغہ شاہی کے لباس کو ٹٹولا تو کوٹھڑی کی چابیاں نکل آئیں۔ اب قاسم کے لئے یہاں سے فرار ہونا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ وہ تیزی سے اٹھا اور آہنی دروازے کے تالے کوایک چابی ڈال کر کھول لیا۔ شاگال کا عصاء قاسم کے ہاتھ میں تھا جس کے ایک سرے پر داروغہ شاہی کی پچکی ہوئی کھوپڑی کا مواد تھا۔ قاسم کئی ماہ بعد آہنی دروازہ دھکیل کر کوٹھڑی سے باہر نکلا تو آزادی ملنے کی خوشی میں یہ بھول گیا کہ چند لمحے پہلے شاگال جیسا خطرناک شخص یہاں آیا تھا۔ راہداری میں زینوں کی جانب اکلوتی مشعل جل رہی تھی۔ قاسم کو اگر سرنگ سے جانا تھا اس مشعل کا ساتھ ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ قاسم دبے قدموں کے ساتھ راہداری کے زینوں کی جانب بڑھا۔ قاسم نے راہداری کی اکلوتی مشعل اٹھائی اور اب وہ سرنگ کا خفیہ راستہ تلاش کرنے کے لئے شمالی دیوار کی جانب بڑھ رہا تھا۔ قاسم پتھریلی دیوار کے سامنے پہنچ کر رک گیا اور دیوار پر چاروں طرف ہاتھ مار کر کوئی ایسی اینٹ ڈھونڈنے لگا جو خفیہ راستے کی کلید ہو سکتی تھی۔

ادھر جب زینوں کے نزدیک سے مشعل ہٹی تو اوپر کی منزل پر بیٹھے سپاہیوں کو پتہ چل گیا کہ زینوں پر لگی مشعل کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کیونکہ تہہ خانے کا بیرونی دروازہ جو اوپر کی منزل میں کھلتا تھا، اپنی چھوٹی چھوٹی جھریوں سے تہہ خانے کی روشنی ایک پیغام کے طور پر اوپر منتقل کرتا رہتا تھا۔ چنانچہ جونہی سپاہیوں کو تہہ خانے میں غیر معمولی حرکت کا احساس ہوا وہ چونک گئے۔ انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں۔ لیکن بھوت پریت کا ڈر انہیں تہہ خانے میں داخل ہونے سے باز رکھے ہوئے تھا۔۔۔ایک سپاہی نے جرات کرکے اپنے سالار داروغہ شاہی کو پکارا۔ لیکن کوئی جواب نہ پا کر وہ تینوں بھوتوں کے خوف میں بری طرح مبتلا ہوگئے۔ ٹھس کی آواز تو انہوں نے پہلے سنی تھی۔ لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ کہ جاسوس قیدی آزاد ہو جائے گا۔

قاسم راہداری میں ابھی تک دیوار ہٹانے کی کلید ڈھونڈ رہا تھا۔ اسے سپاہیوں کے پکارنے کی آواز سنائی دی تو اسک ا دل دھک سے رہ گیا۔ اب اسے جو کچھ کرنا تھا جلدی کرنا تھا۔ قاسم کے بائیں ہاتھ میں مشعل اور شاگالکا عصاء تھا اور دائیں ہاتھ سے وہ اینٹوں کو ٹٹول رہا تھا۔ جبکہ داروغہ شاہی کی وہ تلوار جو قاسم نے اٹھا لی تھی۔ قاسم کے پہلو میں لٹک رہی تھی۔ قاسم کافی دیر سے اینٹ تلاش کر رہا تھا۔ بالآخر اس نے اپنے سر پر موجود چھت کی اینٹوں کو بھی ٹٹولنا شروع کر دیا۔ اور پھر یکلخت گڑگڑاہٹ کی آواز سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح