عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 98

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 98
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 98

  

اور پھر مشعل کی مدھم روشنی میں قاسم نے اپنی کوٹھڑی کے باہر سرخ انگارہ آنکھوں والا ایک دیو دیکھ لیا۔۔۔یہ ’’شاگال تھا۔ اس کا بھاری بھر کم تنومند جسم اور گنجا سر اس تاریک راہداری میں انتہائی ہیبت ناک دکھائی دے رہا تھا ایک لمحے کے لئے تو قاسم کی سانسیں رکنے لگیں۔ اسے سونیا کی باتوں پر یقین آنے لگا کہ شاگال سچ مچ میں بھوت پریت ہے۔ لیکن پھر قاسم نے فوراً دل ہی دل میں خود کو ڈانٹا اور اپنے سر کو زور سے جھٹکا دیا۔ وہ ایک بہادر سپاہی تھا۔ چنانچہ ڈریا خوف اس کے نزدیک سے بھی نہ گزرتے تھے۔ قاسم کے دل سے خوف کا بادل چھٹا تو آن واحد میں اس کی جگہ غصے نے لے لی۔ اب اسے یہ تو پرواہ نہ تھی کہ شاگال تہہ خانے میں کہاں سے داخل ہوا۔ اب اسے صرف یہ فکر تھی کہ کاش وہ کسی طرح ان سلاخوں کو عبور کرکے شاگال پر حملہ کر سکتا۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 97 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

شاگال آہستہ قدموں سے چلتا ہوا سلاخوں کے بالکل نزدیک آکر ٹھہر گیا۔ قاسم اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔شاگال کے داہنے ہاتھ میں اس کا وہی مخصوص عصاء تھا اور اس کی شیش ناگ جیسی چمکدار آنکھیں اس تاریکی میں بھی قاسم کو گھورتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔ شاگال کچھ دیر تک ایک ہی جگہ کھڑا رہا۔ یہ قدیم تہہ خانہ، کوٹھڑیوں کی موٹی موٹی آہنی سلاخیں، مشعل کی روشنی میں زمین پر پھیلا ہوا شاگال کا دہشت ناک سایہ اور ان دیو مالائی کوٹھڑیوں میں چھایا ہوا پر ہول سناٹا۔ یہ سب پراسرار شاگال کی آنکھیں ہندوستان کی مہا کالی دیوی کا تاثر دے رہی تھیں۔ شاگال کوٹھڑی کی سلاخوں کے بالکل نزدیک آیا اور اس نے اپنے عصاء کو آہنی سلاخوں کے ساتھ انتہائی مدھم ضرب مار کر قاسم سے کہا۔

’’نوجوان! تم جانتے ہو، تمہاری طویل اور تکلیف وہ قید ہمارے ایک اشارے پر عمل میں آئی ہے۔ اور اب ہمارا ایک اشارہ ہی تمہیں آوازدی دلانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اس کے لئے تمہیں عظیم شاگال کو صرف مقدس نقشے کے بارے میں بتانا ہوگا۔‘‘

شاگال کے گلے میں عجیب طرح کی غراہٹ تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے دو شخص ایک ساتھ بول رہے ہوں۔ درحقیقت یہ ایک خوفزدہ کر دینے والی آواز تھی قاسم کی نظر شاگال کے عصاء پر پڑی۔ یہ قد آدم عصاء حقیقت میں ایک بھاری بھرکم اور موٹا سا ڈنڈا تھا۔ قاسم نے دیکھا کہ شاگال کا عصاء زندان کی سلاخ سے پھسل کر ایک بالشت اندر کی جانب کھسک آیا تھا۔ نہ جانے کیوں قاسم کی ذہنی رو شاگال کے عصاء پر اٹک گئی۔ لیکن قاسم شاگال کو جواب دینے سے غافل نہ تھا۔ وہ مقدس نقشے کا ذکر سن چکا تھا اور اسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ مقدس نقشہ یقیناًقسطنطنیہ یا آیا صوفیاء سے متعلق کوئی اہم دستاویز ہے۔ قاسم چاہتا تھا کہ شاگال کی زبان سے مقدس نقشے کے بارے میں مزید معلومات بھی حاصل کر سکے۔ چنانچہ قاسم نے کہا۔

’’شاگال! تم یسوع مسیح کے سچے راہب نہیں۔ سچ پوچھو تو ایک مکار جادوگر ہو۔ میں مقدس نقشہ حاصل کر چکا ہوں۔ لیکن تمہیں نہیں دے سکتا۔ چاہے قید تو کیا مجھے جان سے کیوں نہ ہاتھ دھونے پڑیں۔‘‘

اتنا کہہ کر قاسم نے شاگال کے مکروہ چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔ وہ شاگال کا ردعمل دیکھنا چاہتا تھا اور شاگال کا ردعمل اس کی توقع کے عین مطابق نکلا۔ کیونکہ شاگال کی آنکھوں میں تجسس کی لہر نظرآئی۔ وہ ایک قدم مزید آگے بڑھ کر آہنی سلاخوں کے بالکل ساتھ لگ گیا۔ قاسم بھی کمبل میں لپیٹے لاغر قدموں کے ساتھ چلتا ہوا سلاخوں کے نزدیک آکر ٹھہر گیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ قاسم آہنی سلاخوں کے نزدیک ایک قدم کے فاصلے پر پہنچتا شاگال نے عصاء سیدھا کرتے ہوئے اسے رکنے کا حکم دیا اور کہا

’’نوجوان جاسوس! وہیں رک جاؤ یاد رکھو میں تم سے ہر قیمت پر مقدس نقشہ حاصل کرکے رہوں گا۔ کیونکہ اس مقدس نقشے میں پورے قسطنطنیہ کی جان ہے۔‘‘

حقیقت تو یہ تھی کہ قاسم مقدس نقشے کے بارے میں خود بھی کچھ نہ جانتا تھا۔ اسنے مقدس نقشہ نہ دینے کی بات کرکے دراصل اندھیرے میں تیر چلایا تھا۔ لیکن اب اسے مقدس نقشے کی اہمیت کا احساس ہو رہا تھا۔

’’اسی اثناء میں شاگالنے اپنا عصاء ایک مرتبہ پھر اٹھایا اور قاسم سے آخری بار کہا۔’’نوجوان میں جانتا ہوں تم نے سپہ سالار نوٹاراسکی وساطت سے مقدس نقشے کو حاصل کرلیا ہے۔ اور بطریق اعظم کی ملازمت کے دنوں میں خود کسی جگہ چھپا دیا۔۔۔اگر تم نے نقشے کے بارے میں نہ بتایا تو تمہاری زندگی کو عثمانی لشکر کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔‘‘

شاگال کا عصا اٹھا ہوا تھا معاً قاسم کے ذہن میں ایک حیرن کن ترکیب آئی اور اس نے جھپٹ کر شاگال کے عصاء پر ہاتھ ڈال دیا۔ قاسم کی یہ حرکت اس مکار بطریق کے لئے یکسر غیر متوقع تھی۔ شاگال نے سنبھلنے کی کوشش کی لیکن قاسم نے اس کے عصاء کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر پورے زور کے ساتھ اپنی جانب جھٹکا۔۔۔شاگال تو سلاخوں سے پرلی جانب تھا چنانچہ اس کا بھاری بھرکم وجود اپنے پیروں پر سنبھل نہ سکا اور وہ ایک جھٹکے کے ساتھ کوٹھڑی کی آہنی سلاخوں سے آٹکرایا۔ قاسم کاجھٹکا بہت زور دار تھا۔ شاگال کا سر اور ماتھا آہنی سلاخوں کے ساتھ ٹکرائے تو اس کی پیشانی پھٹ گئی۔ عصاء اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور آہنی سلاخوں پر شاگال کا تازہ خون قطروں کی صورت میں جم گیا۔ قاسم کے ہاتھ شاگال کا قد آدم عصاء آچکا تھا۔ لیکن شاگال پیشانی پر ضرب کھانے کے بعد بھوت پریت یا چھلاوے کی طرح آن واحد میں غائب ہو چکا تھا۔ قاسم نے سلاخوں کوپکڑ کر عجلت کے ساتھ دائیں بائیں جھانکا۔ وہ شاگال کو دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ شاگال آخر ایک لمحے میں کہاں غائب ہوگیا۔ اس کے ہاتھ میں شاگال کا مضبوط عصاء تھا۔ معاً اسے راہداری کے بائیں کونے میں سے گڑگڑاہٹ کی آواز پھر سنائی دی۔ اور اب قاسم کے ذہن میں ایک زبردست جھما کہ ہوا۔۔۔اچھا!۔۔۔تو گویا اس طرف سے کوئی خفیہ راستہ ہے کیونکہ دیوار کی گڑگراہٹ سے صاف پتہ چلتا تھا کہ راہداری کے بائیں کونے میں دیوار اپنی جگہ سے سرک رہی ہے۔ اب قاسم کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ اگر کسی طرح ان سلاخوں والی کوٹھڑی سے نکل جائے تو خفیہ راستے کے ذریعے آسانی سے فرار ہو سکتا ہے۔ قاسم سوچ رہا تھا کہ شاگال یقیناًیہ راستہ استعمال کرکے تہہ خانے میں آیا اور گیا تھا۔ قاسم کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے داروغہ شاہی بھی اس راستے سے بے خبرہو لیکن قاسم کا یہ خیال غلط نکلا۔ داروغہ شاہی تہہ خانے کے خفیہ راستے کو جانتا تھا۔

ہوا یوں۔۔۔کہ شاگال کے چلے جانے کے کچھ ہی دیر بعد قاسم کو راہداری کا دروازہ کھلنے کی چرچراہٹ سنائی دی۔۔۔تو اب گویا سیدھے راستے سے کوئی آرہا تھا۔ سیدھے راستے سے تو کوئی سپاہی ہی آسکتا تھا۔ یا پھر داروغہ شاہی خود۔ قاسم کو خیال آیا کہ راہداری میں تھوڑی دیر پہلے پیدا ہونے والی زور دار آواز جو شاگال کا سر سلاخوں سے ٹکرانے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی یقیناًبیرونی عمارت میں سنی گئی ہوگی۔ اور اسی آواز کو سن کر کوئی سپاہی تہہ خانے میں بغرض تفتیش آرہا ہوگا۔ یہ سوچ کر قاسم نے انتہائی تیزی کے ساتھ شاگال کا مضبوط اور لمبا عصاء کوٹھڑی میں بچھی گھاس پھونس میں چھپا دیا۔ قاسم کا خیال درست نکلا۔ واقعتاً دو تین سپاہی برہنہ شمشیر یں ہاتھوں میں لئے زینوں سے اتر کر تہہ خانے میں آئے۔ ان کے دوسرے ہاتھ میں الگ الگ مشعلیں تھیں۔ سپاہی احتیاط کے ساتھ چلتے ہوئے قاسم کی کوٹھڑی کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے آتے ہی قاسم سے سوال کیا۔

’’یہ آواز کیسی تھی؟‘‘

’’کون سی آواز؟‘‘

’‘’دھماکے کی آواز جو ابھی کچھ دیر پہلے تہہ خانے میں ابھری۔‘‘

سپاہیوں اور قاسم کے درمیان مکالمہ ہونے لگا۔ قاسم نے کہا۔

’’دراصل ایک بھوت تہہ خانے میں آگیا تھا۔

قاسم نے کسی قدر طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تو وہی سپاہی بولا۔

’’بھوت؟۔۔۔تم سچ کہہ رہے ہو؟‘‘

شاید تینوں سپاہی تو ہم پرست تھے۔ بھوت کا ذکر سنتے ہی کسی قدر خوفزدہ ہوگئے۔ اب قاسم نے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

’’ہاں بھوت ایک سرخ انگارہ آنکھوں والا دیو ہیکل گنجا بھوت۔۔۔درحقیقت وہ ایک دیو تھا۔‘‘ قاسم سچ مچ سپاہیوں کو ڈرانے لگا۔۔۔

اب تینوں سپاہی مزید یہاں نہ رکنا چاہتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں مشعلیں تھیں۔ انہیں تہہ خانے میں شاگال کے آنے کا ایک ایک ثبوت دکھائی دے سکتا تھا۔ لیکن بھوت کا ذکر سن کر وہ الٹے قدموں دوڑے۔ اب قاسم نے آخری وار کیا۔

’’ٹھہرو ! بہادر سپاہیو ٹھہرو۔۔۔پہلے ان سلاخوں کو تو دیکھتے جاؤ۔۔۔‘‘

قاسم نے شاگال کو اس قدر زوردار جھٹکے سے سلاخوں پر ٹکر دی تھی کہ تہہ خانے کی سلاخیں اس جگہ سے کسی قدر ٹیڑھی ہو چکی تھیں۔ قاسم کے کہنے پر پہریدار سپاہیوں نے مڑ کر سلاخوں کا معائنہ کیا۔ اور جب انہیں ٹیڑھی سلاخوں پر خون کے دھبے دکھائی دیئے تو مارے خوف کے ان کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ اب انہیں یقین ہوگیا کہ یہاں سچ مچ کوئی بھوت آیا تھا۔ وہ کوئی بات کئے بغیر تیز قدموں سے چلتے ہوئے واپس نکل گئے۔

سپاہیوں کے چلے جانے کے کچھ دیر بعد داروغہ شاہی تہہ خانے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں بھی مشعل تھی اور دو سپاہی اس کے عقب میں چل رہے تھے۔ یون لگتا تھا کہ آدھی رات کے اس سمے سپاہیوں نے داروغہ شاہی کو جا کر جگایا ہوا اور بھوت کے بارے میں بتایا ہو۔ داروغہ شاہی توہم پرست شخص نہ تھا۔ وہ بے دھڑک تہہ خانے میں داخل ہوا اور سیدھا قاسم کی کوٹھڑی کے پاس آکر رکا۔ اس نے خون آلود سلاخوں کا معائنہ کیا اور پھر راہداری کے فرش پر تفتیشی نگاہوں سے مشعل کی روشنی ڈال ڈال کر دیکھنے لگا۔ داروغہ شاہی کو تہہ خانے میں کسی کے آنے کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔ راہداری میں شامل جانب کی خشک گھاس پھونس بھی بکھری پڑی تھی اور کسی کے قدموں کے نشانات چلتے ہوئے شمالی دیوار تک چلے گئے تھے۔ داروغہ شاہی ایک ایک چیز کا جائزہ لیتا ہوا راہداری کی شمالی دیوار کے بالکل نزدیک آکر رک گیا۔ یہ پتھریلی دیوار راہداری کو بند کرتی تھی۔ یہ تہہ خانے کی سب سے تاریک جگہ تھی اور اس طرف کی کوٹھریوں میں چوہوں اور سانپوں کا راج تھا۔ داروغہ شاہی پتھریلی دیوار کی جڑوں میں گہری نظر سے غور کرنے لگا۔ وہ یہی دیکھناچاہتا تھا کہ کیا کوئی شخص تہہ خانے کے خفیہ راستے سے تو نہیں آیا؟ داروغہ شاہی خفیہ راستے کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ یہ دیوار ایک خفیہ اینٹ ہلانے پر اپنی جگہ سے ایک گڑگڑاہٹ کے ساتھ سرکنے لگتی تھی۔ داروغہ شاہی کو یہی معلوم ہوا کہ کوئی شخص یقیناًخفیہ راستے سے آیا ہوگا۔ یہ ایک سرنگ تھی جو محل سے باہر تک چلی گئی تھی۔

(جاری ہے... اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں )

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح