کراچی....فوج حا لات پر قابو پاسکے گی ؟

کراچی....فوج حا لات پر قابو پاسکے گی ؟

  



                                                            ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے ایک روز بعد ہی وزیر اعظم نواز شریف کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلا س میں کراچی میں امن و امان کے قیام کے لئے ایک بار پھرچند بنیادی اور انتہائی اہمیت کے فیصلوں پر عمل درا ٓمد کو یقینی بنانے پر غور و خوض شروع ہو گیا ہے ،اگرچہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کراچی میں فوج بلانے کی نہ حمایت کریں گے اور نہ مخالفت کریں گے ،مگر اس بات کا خصوصیت کے ساتھ جائزہ لیاجارہا ہے کہ کیا فوج کے حوالے کرنے سے کراچی کے حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں ؟اور کیا فوج واقعی کراچی میں جاری قتل و غارت گری اور بھتہ خوری پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے گی ؟فوج کو کتنے عرصہ کے لئے کراچی میں رکھنا پڑے گااور فوج کی تعیناتی اور واپسی کے بعد کیا حالات نارمل اور حکومت کے کنٹرول میں رہیں گے؟ حکومت کی مدد کے لئے فوج کے کچھ دستوں کو مستقل طور پر کراچی میں ٹھہرانا پڑے گا اور امن و امان کی بحالی میں اگر رینجرز کی طرح فوج بھی ناکام ہوتی ہے تو پھر حالات کیا رخ اختیار کریں گے ؟۔

کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور بلاشبہ منی پاکستان کہلانے کا حق رکھتا ہے، کیونکہ یہ کسی ایک نسل ،قوم، فرقے یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کا شہر نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر صوبے اور شہر کے لوگ کراچی میں موجودہیں ،کراچی میں سندھی ،پنجابی ،بلوچ ، پختون اور کشمیری بڑی تعداد میں آباد ہیں ،کراچی میں نہ صرف پاکستان کے ہر علاقے ،بلکہ دنیا کے قریبا ہر ملک کا باشندہ مل جائے گا ،ہندوستانی ،بنگالی ،نیپالی ،برمی سمیت برصغیر، مغرب ویورپ اور عرب ممالک کے لوگ بھی یہاں آباد ہیں اور سال ہا سال سے انہوں نے اس شہر کو اپنا مسکن بنارکھا ہے ، اس لئے کراچی کو ایک منی ورلڈ یا چھوٹی سی دنیا کا نام بھی دیا جا سکتا ہے ۔ سندھ صدیوں سے اسلام کی دولت سے مالا مال ہے ،710ءسے جب حجاج بن یوسف نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کے ذریعے سندھ کو فتح کر کے یہاں اسلام کا پرچم لہرایا تھا سندھ کو باب الاسلام کے نام سے جانا و پہنچانا جاتا ہے ،سندھ کا بڑا شہر اور بندر گاہ ہونے کی وجہ سے کراچی صدیوں سے ہر خاص و عام کے لئے ایک جائے پناہ اور رزق کے حصول کا بہترین مرکز رہا ہے،لیکن آج کراچی میں ظلم کا راج ہے ،یہاں نسلی تعصب کو ہوا دی جارہی ہے ،بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے ،معصوم شہریوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ،روزانہ شہر میں درجنوں لوگوں کو خون میں نہلا دیا جاتا ہے ،مقتولوں کی مسخ شدہ لاشیں بوریوں میں بند کرکے سڑکوں اور چوراہوں میں پھینک دی جاتی ہیں جن کی ہفتوں اور مہینوں شناخت نہیں ہوتی اور لاشیں مردہ خانوں میں پڑی سڑتی رہتی ہیں ،دوسری طرف بوڑھی مائیں اپنے جگر گوشوں کی راہیں دیکھتی اللہ کو پیاری ہوجاتی ہیں ،بہنیں اپنے بھائیوں کی صورت دیکھنے کے لئے ترس جاتی ہیں ،کتنی ہی جوان بیوائیں اپنے خاوند اور معصوم بچے اپنے باپ کے سائے کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ،مگر دنیا ان کے دکھوں کو کم کرنے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھنے سے قاصر ہے ،روشنیوں کے شہر کو تاریکیوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ،موت کا خوف ہر وقت شہریوں کا پیچھا کرتا ہے ،لوگ زندہ رہنے کے لئے موت سے بھاگتے ہیں ،مگر کسی گلی کے موڑ سے ہونے والی فائرنگ کی زد میں آکر زندگی ہار دیتے ہیں ۔تاجروں اور دکانداروں کی کمائی پر بھتہ مافیا ہاتھ صاف کرتا ہے اگر کوئی انکارکی جرا¿ت کرتا ہے تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتاہے ۔ فیکٹر ی مالک سے بھتہ وصو ل نہ ہونے پر صرف فیکٹری کو نہیں فیکٹری میں کام کرنے والے سینکڑوں مزدوروں کو بھی زندہ جلا کر راکھ کردیا جاتا ہے، لیکن انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا ۔

آج سے تیرہ سوسال پہلے ایک فوج نے کراچی پر چڑھائی کی تھی ،اس وقت بھی ایک ظالم و جابر شہنشاہ راجہ داہر نے شہر میں ظلم کا بازار گرم کر رکھاتھا اس کے ظلم کے سامنے بھی کوئی آواز اٹھانے والا نہیں تھا جس طرح آج کا میڈیا سب کچھ جانتے ہوئے بھی کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سات افراد کے مرنے کی خبر دیتا ہے اس وقت بھی لوگ سمجھتے تھے کہ اگر راجہ داہر کے خلاف کوئی بات کی تو موت کو گلے لگانا پڑے گا،لیکن ایک مظلوم مسلمان بہن کی پکار پرجس کے خاندان کوداہر کے پروردہ بحری قزاقوں نے لوٹ لیا تھا محمد بن قاسم سمندر کا سینہ چیر کر کراچی پہنچا اور راجہ داہر سے کہا کہ مظلوم مسلمان خاتون کے مجرموں کو ان کے حوالے کردے ،جب راجہ داہر نے مجرم دینے سے انکار کیا تو محمد بن قاسم کی فوج نے راجہ داہر اور اس کے باجگزار راجوں کی راجدھانیوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی مظلوم خاتون کو اس کا لوٹا گیامال اسباب واپس دلایا اوراس کے خاندان کے مردوں کو جن کو پکڑ کر جیل میںبند کر رکھا تھا آزاد کروایا۔آج کتنی ہی بہنیں مائیں اور بیٹیاں دہائی دے رہی ہیں کہ ان کو راجہ داہروں ،چنگیز خانوں اور ہلاکو خان کے شاگردوں سے نجات دلائی جائے ،لیکن ہر طرف ایک مایوسی اور ناامیدی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،اگر کوئی سر پھرا پولیس آفیسر لوگوں کی آہوں اور سسکیوں سے تنگ آکر کسی کو پکڑ لیتا ہے تو اگلے دن اس کی لاش کسی چوراہے سے ملتی ہے ۔واقفان حال کا کہنا ہے کہ جن 200پولیس افسروں نے کراچی آپریشن میں حصہ لیا تھا ان میں سے مبینہ طور پر 196اب تک قتل ہو چکے ہیں یا کسی حادثے میں مارے گئے ہیں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ حادثہ بھی پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا یعنی ٹارگٹڈ حادثہ تھا۔دیکھتے ہیں کہ نواز شریف صاحب اس چیلنج سے کیسے عہدہ برآءہوتے ہیں ،وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں سب کو مل بیٹھ کرمسئلے کا حل تلاش کرنے اور سیاسی عینکیں اتارنے کی بات تو کی ہے، لیکن کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اب نواز شریف صاحب نے زرداری صاحب سے وہ عینک مستعارلے لی ہے جس سے کراچی کے حالات ہمیشہ نارمل نظر آتے ہیںچونکہ زرداری صاحب اب رخصت ہورہے ہیں انہیں تو اس عینک کی ضرورت رہی نہیں لہذا اب یہی آزمودہ عینک وزیر اعظم نواز شریف کو کام دے گی ،ویسے بھی زرداری نواز شریف کو بھائی جان کہتے تھے اور بھائی ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے رہتے ہیں۔

کراچی میں آج تک اسی ”قانون “پر عمل کیا گیا ہے جو جنگل کا ہوتا ہے ،ہاںجنگل کے درندے پیٹ بھرنے کے بعد چھوٹے اور معصوم جانوروں کو تنگ نہیں کرتے بے شک وہ ان پر لیٹے رہیں ،مگر کراچی کے درندوں کا پیٹ ہی نہیں بھرتا !کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایک بار بھی کراچی میں شفاف انتخابات کروا دیئے جائیں تو کراچی کی روشنیاں دوبارہ بحال کی جاسکتی ہیں ،مگر یہ کام کون کرے ؟جب سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جائے ،چیف جسٹس کے استقبال کے لئے آنے والے وکلاءکو زندہ جلا دیا جائے اور ان کے مظلوم خاندانوں کو انصاف نہ مل سکے تو حالات میں بہتری کی امید کس سے باندھی جاسکتی ہے ،وزیر داخلہ کا یہ کہنا بھی تھا کہ بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی زیادہ تعدا د سیاسی وابستگی رکھتی ہے اسی طرح قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ایجنسیاں سب کچھ جانتی ہیں کہ بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی ڈور کس کے ہاتھ میں ہے ،مگر آج تک ایسے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکااگر کسی کو پکڑابھی گیا تو چند لمحوں بعد ہی ایک آدھ فون کال پر چھوڑ دیا جاتا ۔مجرم خواہ تما م جرائم کا اقراربھی کر چکے ہو ں پولیس انہیں بے گناہ اور معصوم قرار دے دیتی ہے ۔ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے کہ ایسا کڑا اور بے رحم احتساب کیا جائے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے اور قوم کے سامنے وہ تمام حقائق لائے جائیں جن کی وجہ سے کراچی کو خون میں نہلایا جارہا ہے ۔ تھوڑا بہت بھی سیاسی شعور رکھنے والا کوئی فرد فوج کو سرحدوں سے ہٹا کر شہروں میں آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتا ،جہاں جہاں بھی فوجی آپریشن ہوئے ہیں حالات بہتر ہونے کی بجائے بدتر ،بلکہ بدترین ہوئے ہیں ،فوجی آپریشن کے نتیجے میں ہم آدھا ملک گنوا بیٹھے ہیں ،اس لئے ملک بھر کی سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر کراچی کے مسئلہ کا ایسا حل تلا ش کرنا چاہئے، جس میں فوجی مداخلت نہ ہو اور گھی کو سیدھی انگلیوں سے ہی نکالنے کی کوشش کی جائے تو بہتر ہے !      ٭

مزید : کالم