پاک بھارت تعلقات اور مودی سرکار

پاک بھارت تعلقات اور مودی سرکار
پاک بھارت تعلقات اور مودی سرکار

  


پاک بھارت مذاکرات محض بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیروں کے ان مذاکرت میں صرف دہشت گردی اور ایل او سی پر جاری فائرنگ پر بات چیت ہو گی، جبکہ کشمیر سمیت باقی تمام تنازعات پر مذاکرات بعد میں ہوں گے۔ اب سرحد پار کے ان نیتاؤں کو کون سمجھائے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل مسئلہ تو ہے ہی کشمیر کا۔ دوسرے الفاظ میں اب اگر پاکستان مذاکرات میں کشمیر کا معاملہ نہ اٹھائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہو جائے ۔ ایسا نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگا ۔ اب ان مذاکرات کی منسوخی کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ چونکہ پاکستان کے پاس را کے خلاف ٹھوس اور مضبوط ثبوت موجود ہیں اس سے پہلے کہ پاکستان یہ ثبوت انڈیا کے سامنے رکھتا، انڈیا نے مذاکرات سے راہِ فرار اختیار کرلی ۔ عالمی میڈیا کے مطابق موجودہ بھارتی حکومت شاید ایک اور جنگ لڑنا چاہتی ہے جس کا اندازہ اس کے تلخ رویوں سے لگایا جاسکتا ہے۔

’’نیویارک ٹائمز‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اب اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو زیادہ نقصان انڈیا کا ہی ہوگا۔ انڈیا جنگ کی جرات تو ہرگز نہیں کرے گا، لیکن جب سے بی جے پی کی حکومت برسر اقتدار آئی ہے دھمکیوں اور گیدڑ بھبکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چند ہفتے پہلے بھی ہمسایہ ملک کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا کہ اگر انڈیا چاہے تو میانمار کی طرح دوسرے ممالک اور پاکستان کے اندر بھی گھس کر کارروائی کرسکتا ہے ۔ اسے صرف دیوانے کا خواب ہی کہیں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکنے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے؟ سب جانتے ہیں۔ یادش بخیرلگ بھگ دو سال قبل ایک انڈین ٹی وی چینل پر ایک ٹاک شو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جس میں جاری ایک مذاکرے میں، جس کا موضوع سیز فائرتھا، انڈین سیاست دان اور دانشور حصہ لے رہے تھے تو اس وقت بھی ایک صاحب نے فرمایا کہ پاکستان صرف اس وقت قابو میں آئے گا جب اسے اندر گھس کر مارا جائے۔

ہم انڈین سیاستدانوں کو صرف اتنا ہی کہیں گے کہ وہ یہ شوق بھی پور ا کرکے دیکھ لیں پتہ چل جائے گا کہ بھارتی سورما کتنی دیر پاکستانی فوج کے سامنے ٹھہرتے ہیں۔ہمارا مشورہ یہی ہے کہ کم ازکم اپنا بھرم تو بچا کے رکھیں۔اس کے ساتھ ساتھ سرحد پار کے چند مفاد پرست نیتاؤں کو چاہیے کہ وہ عوام کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج پیدا کرکے سیاسی دکانداری چمکانے کی بجائے ان کے بنیادی مسائل کی طر ف توجہ دیں۔ اس وقت پاک بھارت تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدگی اختیار کرچکے ہیں۔ جس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی پر عائد ہوتی ہے۔ اپنے دور اقتدار سے لے کر تا حال مودی سرکا ر پاکستان مخالف سرگر میوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے، اپنے دورہ بنگلہ دیش کے موقع پر مودی نے پاکستان مخالف جو زہر اگلا، خاص طور پر سقوط ڈھاکہ میں انڈیا کے منفی کردار کا جس ڈھٹائی سے اعتراف کیا ان کے اصلی چہرے کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ برس اپنے دورہ بھارت کے بعد خطے کی فلاح و بہبود اور امن عامہ، افراد کی خوشحالی اور باہمی تنازعات کے خاتمے کے لئے پاکستانی وزیر اعظم میا ں محمد نواز شریف کے لکھے گئے خط کے جواب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے جوابی خط میں کہاکہ وہ امن کی کوششوں میں آپ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور محاذ آرائی اور شر پسندی سے پاک ماحول میں مل جل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ تمام حلقوں کی جانب سے مثبت اقدام قرار دیاگیا۔ یہ الگ بات ہے کہ انہی دنوں کراچی میں ایک وہشت گردانہ حملے میں بھارتی ساخت کے اسلحہ کے استعمال کی اطلاعات ذرائع ابلاغ میں دیکھنے کو ملیں۔ اب پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جب پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو مشرقی محاذ پر بھارت نے جان بوجھ کر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی شروع کردی تاکہ پاک فوج کی توجہ منقسم ہو سکے لیکن عزم صمیم کی پیکر دنیاکی اس بہترین فوج نے حالات پر قابو پالیا اور آج آپریشن ضرب عضب ایک سال کی مختصر مدت میں سو فیصد کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ بھارت پاکستان کو خدا نخواستہ عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے تمام تر حربے استعمال کر رہا ہے۔ بلوچستان اور پورے پاکستان میں ’’را‘‘ کی کارروائیوں سے کون واقف نہیں۔

پاکستان میں جاری دہشت گردی کے حالیہ کئی واقعات میں را کے ملوث ہونے کے ثبوت پاکستان اقوام عالم اور خودبھارت کو فراہم کرچکا ہے لیکن سردست تمام اطراف سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔صرف یہی نہیں پاک چین اقتصادی راہداری پر انڈیا نے جو واویلا مچایا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی بھی انڈیا کو ہضم نہیں ہو رہی۔۔۔ بہرحال ایک طرف تو بھارت تمام تر اخلاقی حدوں کو پار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے تو دوسری جانب پاکستان اپنے پرامن نقطہ نظر پر قائم ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ خود بھارتی دانشور بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ نوزائیدہ مملکت پاکستان کے لئے جو ابتدائی مسائل پیدا کئے گئے خیال یہ کیا جاتا تھا کہ نئی مملکت چند ماہ تک ہی چل سکے گی لیکن آج الحمدللہ ان گنت نامساعد حالات کا سامنا کرنے کے باوجود پاکستان نہ صرف ایٹمی قوت ہے بلکہ عالم اسلام کا مضبوط ترین قلعہ بن چکا ہے۔

موجودہ حالات میں بھارت کے لئے واحد راستہ یہی ہے کہ مذاکرات کی میز پر آئے ۔ دہشت گردی ، بم دھماکے ، قتل و غارت ، مہنگائی اور بیروزگاری پاکستان اور انڈیا کے مشترکہ مسائل ہیں؟ کیا جنگی جنون اور دفاعی بجٹ میں بے ہنگم اضافے قوموں کی ترقی کا باعث بنتے ہیں؟ آپ انڈیا میں رونما ہونے والے کسی بھی واقعہ کا الزام بغیر تصدیق کے پاکستان کے سر تھوپ دیتے ہیں، حالانکہ پاکستان میں لگی دہشت گردی کی آگ میں انڈیا کتنا ملوث ہے؟ کیا آپ کو سب معلوم نہیں؟ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ خطے میں چودھراہٹ جمانے کے خواب دیکھنے اور نام نہاد طاقتوں کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے کشمیر ، پانی،سر کریک اور سیاچن کے معاملات پر ٹھوس حکمت عملی اپنائی جائے کیو نکہ ان معاملات کو حل کئے بغیر دونوں ممالک کے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔ ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات نہایت ضروری ہیں۔

مزید : کالم


loading...