ایک بہادر اور مُحب وطن جرنیل:تاریخ کے آئینے میں

ایک بہادر اور مُحب وطن جرنیل:تاریخ کے آئینے میں
ایک بہادر اور مُحب وطن جرنیل:تاریخ کے آئینے میں

  

میجر جنرل تجمل حسین ملک نے بہت سے ایسے کام کئے، جن کی وجہ سے قوم کو اُن پر فخر ہے، لیکن اُن کے بہت سے کارنامے تاریخ میں درج نہیں ہیں۔ تجمل حسین ملک کی خدمات کا آغاز پاک بھارت جنگ 1971ء سے ہوا،جب انہوں نے رضار کارانہ طور پر بحیثیت بریگیڈئیر جنرل رضا کارانہ طور پر جنرل ہیڈ کوارٹر راولپنڈی چھوڑ کر مشرقی پاکستان میں پاکستان آرمی کے 205 بریگیڈ کی کمان سنبھالی، وہ بھی جنگ سے صرف چارروز قبل۔ جنرل تجمل ملک نے نہ صرف مخالف افواج کے مقابلے میں سخت مزاحمت کی،بلکہ جب انہیں مختلف مواقع پر ہتھیارڈالنے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ وہ واحد سرخ فیتے والے پاکستانی آفیسر تھے جنہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے اور شکست کے بعد ایک سال تک اپنی یونٹ کے ساتھ جنگی قیدی رہے۔ پہاڑی علاقوں میں جنگ ہو یا بوگرہ لڑائی، یہ پاکستان اور بھارت کی 1971ء میں ایک بڑی جنگ تھی، جو لڑی گئی۔یہ جنگ 23نومبر 1971ء سے 11دسمبر 1971ء کے درمیان لڑی گئی، جبکہ آخری ہتھیار 18دسمبر1971ء کو ڈالے گئے، یعنی آج سے تقریباً 40سال قبل یہ واقعہ ہوا۔ انڈین فوج کا اصل مقصد بوگرہ کا کنڑول تھا اور یہ کام پاکستانی فورسز کو مشرقی پاکستان کے شمال میں الگ کر کے کیا جاسکتا تھا ۔ پہاڑوں میں سے بو گرہ پر کنڑول آسان تھا۔ پاکستانی فوج کی صف بندی پر سامنے سے حملہ کرنے کی بھارتی فوج کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، اس حملے میں انڈین آرمی 20ویں ماونٹین ڈویژن میں میجر جنرل لکشمن سنگھ کی قیادت میں بیس ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی اور اس ڈویژن میں 66بریگیڈ، 165، 202 اور 340 بریگیڈ مع تمام انفنٹری یونٹس 3-اسلحہ بریگیڈ 471انجینئر بریگیڈ کے علاوہ اس ڈویژن کو توپ خانہ کے دو بریگیڈ اور ٹینکوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی،اس کے علاوہ انڈین زمینی فوج کو بھارتی فضائیہ، جو کہ مشرق میں اعلیٰ فضائیہ کا درجہ رکھتی تھی، کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ بھارتی فضائیہ کو راکٹوں ، گنوں 100 - IB بمبوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔

دوسری جانب پاکستانی فوج میں اس علاقے کی ذمہ داری 205 بریگیڈ کے سپرد تھی، جس کی کمان میجر جنرل تجمل حسین ملک کر رہے تھے۔ اس بریگیڈ نے دشمن فوج کے خلاف سخت مزاحمت کی اور اکثر مرتبہ اس بریگیڈ کی تعریف کی گئی ۔ جنرل ملک نے ریلوے لائن کے ساتھ اور ریلوے کمپلیکس کو اپنا حفاظتی حصار بنایا ہوا تھا۔ دفاعی پوزیشنیں، جنہوں نے مشرقی پاکستان کو جانے والے راستوں کو حصار میں لیا ہوا تھا، کافی وسیع علاقہ تھا۔ یہ بریگیڈ بھارتی افواج اور مکتی باہنی کے سپاہیوں کے ساتھ لڑا اور انہیں آگے نہ بڑھنے دیا، حتیٰ کہ بھارتی فوج نے پہاڑی علاقے کو بائی پاس کرکے پچھلی طرف ایک بلاک بنایا۔ بریگیڈئیر تجمل نے اس وجہ سے پہاڑی علاقہ سے فوجوں کو واپس بلالیا کہ کہیں یہ دستے اس ایریا میں گھیرے میں نہ آجائیں اور بوگرہ کی حفاظت بذات خود کی۔ بوگرہ کو بڑی تعداد میں بھارتی افواج اور مکتی باہتی کے سپاہیوں نے ہر طرف سے گھیرے میں لے لیا تھا۔ بریگیڈئر تجمل کی مزاحمت اُس وقت تک جاری رہی،جب تک پاکستان کی مشرقی کمان نے 16۔دسمبر کو ڈھاکہ میں ہتھیار نہیں ڈال دیئے۔ وہ اپنی سرکاری گاڑی میں جھنڈوں اور ستاروں کے ساتھ بوگرہ کی ہر گلی میں اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے اور انہیں جنگ جاری رکھنے کے لئے کہتے رہے۔ انڈین آرمی نے بوگرہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ بریگیڈ میجر نے اپنے پچاس سپاہیوں کے ساتھ ہتھیار بھی ڈال دیئے تھے، لیکن بریگیڈئر تجمل ملک نے پوری قوت کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے لئے کہا۔ بریگیڈ ئیر تجمل حسین نے اپنی بریگیڈ کے باقی سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ جائیں اور ناوٗنگ کی طرف چلے جائیں، یہاں اُس کی ایک یونٹ ابھی تک لڑائی جاری رکھے ہوئے تھی۔

دوران سفر اُن کی جیپ گھات لگائے ہوئے مکتی باہنی کے سپاہیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنی ،جس میں انہیں اور اُن کے اردلی کو شدید زخم آئے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں اور اُن کے اردلی کو مکتی باہنی کے سپاہیوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، اُن کے بازو توڑ دیئے، اُن کے سر پر شدید ضربیں لگائی گئیں اور بعد میں انہیں نیم بے ہوشی کی حالت میں انڈین آرمی کے ایک ہسپتال میں لایا گیا۔ بریگیڈئیر نذر حسین شاہ کو نٹور سے 18 دسمبر1971ء کو خاص طور پر وہاں بھیجا گیا تاکہ وہ اس بریگیڈ سے ہتھیار پھینکوا سکیں،کیونکہ بریگیڈئیر تجمل ملک نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تھا۔میجر جنرل تجمل حسین ملک 32 بریگیڈیئروں میں سے وہ واحد بریگیڈئیر تھے، جنہوں نے مشرقی پاکستان میں جنگ لڑی اور بعد میں انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اورا نہوں نے جہلم میں23۔ ڈویژن کی کمان بحیثیت میجر جنرل سنبھالی۔ بعد ازاں انہیں آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں ایک فوجی عدالت نے ریٹائر منٹ پر بھیج دیا، کیونکہ اُن پر الزام تھاکہ انہوں نے بھٹو حکومت پر الزام تراشی کی اور انہیں حکومت سے ہٹانے پر قصور وار ٹھہرایا گیا۔پاکستانی ماؤں نے ایسے بہت سے جرنیلوں کو جنم دیا ہے، جن کی وجہ سے آج پاکستان چاروں طرف سے دشمنوں میں گھِرے ہونے کے باوجود وقار کے ساتھ اپنی سلامتی کی حفاظت کر رہا ہے، انہی میں سے ایک میجر جنرل تجمل حسین ملک بھی تھے۔

مزید :

کالم -