بارشوں میں حادثات سے جانی اور مالی نقصان

بارشوں میں حادثات سے جانی اور مالی نقصان

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ چند روز میں عمارتوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اور نالوں کی طغیانی سے بہہ کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 61 سے زیادہ ہوچکی ہے، بارشوں کی وجہ سے سڑکوں پر پھسلن اور تیز رفتاری کے باعث بھی کئی اموات کی اطلاعات ہیں، گزشتہ دو روز میں مختلف حادثات کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، بارشوں کے موسم میں خصوصی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوتی ہے، سب سے زیادہ خطرہ کھمبوں اور گھریلو استعمال کی اشیاء میں کرنٹ آنے سے ہوتا ہے، اکثر اوقات بجلی کے تار گرنے سے لوگوں کو کرنٹ لگتا ہے، بجلی کے کھمبوں میں بھی کرنٹ آنے سے بچے اور بڑے ہی نہیں، مویشی بھی موت کا شکار ہوجاتے ہیں، یہ پہلو بھی افسوسناک ہے کہ چھوٹے بڑے شہروں میں بجلی کے تار گھروں کی چھتوں کے قریب سے گزرتے ہیں، بارش اور تیز ہواؤں کے باعث یہ تار جھولتے ہوئے لوگوں کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں، اور سانحہ رونما ہوجاتا ہے، اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے ہر سال مختلف ذرائع سے آواز بلند کی جاتی ہے لیکن متعلقہ حکام روائتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کا ثبوت دیتے ہیں، کرنٹ لگنے کے واقعات پر اعلیٰ حکام کو ایسی رپورٹس تیار کر دی جاتی ہیں جن میں محکمانہ کارکردگی پر حرف نہیں آنے دیا جاتا اور کرنٹ لگنے کے واقعات کو حادثہ قرار دیا جاتا ہے۔جہاں تک عمارتوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے لوگوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی بات ہے تو ایسے واقعات عموماً حادثات میں شمار ہوتے ہیں، جانی اور مالی نقصان کے ازالے کے لئے حکومتی سطح پر کبھی کبھار مالی مدد دی جاتی ہے، بیشتر واقعات میں تعزیت اور ہمدردی کے اظہار ہی سے کام چلایا جاتا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ بجلی کے ننگے اور بوسیدہ تاروں کی تبدیلی پر خصوصی توجہ دی جائے جو تاریں گھروں کی چھتوں کے قریب سے گزرتی ہیں انہیں دور ہٹانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر ہونا چاہئے تاکہ ہر سال المیے نہ ہوا کریں، ٹریفک حادثات کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ڈرائیور حضرات تیز رفتاری سے کام لیتے ہیں، ٹریفک سارجنٹ انہیں روکتے نہیں، دو طرفہ غیر ذمے دارانہ رویہ حادثات کا سبب بنتا ہے، بتایا گیا ہے کہ وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ آئندہ ماہ اگست میں جاری بھی رہے گا، اس دوران احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرانے کی ضرورت ہے، اور یہ سلسلہ مستقل طور پر ہونا چاہئے۔

مزید : رائے /اداریہ