ہربنس پورے کا پل اور میری تحقیق

ہربنس پورے کا پل اور میری تحقیق
 ہربنس پورے کا پل اور میری تحقیق

  

ہر صحافی کے اندر ایک چھوٹا موٹا جاسوس چھپا ہوا ہوتا ہے جو اسے تحقیق و تفتیش پر مجبورکرتا رہتا ہے۔ ایک اچھا صحافی ضرورت پڑنے پر ایک ڈاکٹر، ایک وکیل اور ایک انجینئر بھی بن جاتا ہے اور یہی میرے ساتھ اس وقت ہوا جب رنگ روڈ سے ملحق ہربنس پورہ کے قریب کینال روڈ پر ایک پل گرا اور ایک ٹرک اس کی زد میں آ گیااور دو افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔ بتایا گیا کہ ٹرک کی پل کے ساتھ ٹکر ہوئی اوراس کے نتیجے میں وہ نیچے آ گرا۔ میں اس لئے ڈر گیا کہ میرے شہر میں تو فلائی اوورز ایک جال کی طرح پھیلتے چلے جا رہے ہیں، ابھی حال ہی میں کلمہ چوک اور مسلم ٹاو¿ن کے فلائی اوورز مکمل ہوئے ہیں اور اب رحمان پورہ سے میٹرو بس ٹرانزٹ سسٹم کے لئے ایک نیا فلائی اوور بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جو مسلم ٹاو¿ن فلائی اوور کے درمیان سے سر نکالے گا ، سات کلومیٹر تک شاہ جمال، اچھرہ، شمع، ایل او ایس، مزنگ ، لٹن روڈ، ایم اے او کالج ، سیکرٹریٹ، ضلع کچہری ، بھاٹی چوک اور داتا دربار سے آگے پیر مکی تک ہمارے سروں سے گزرنے کے بعد نیچے اترے گا۔ ایسے میں اس کے کسی ستون یا کسی دوسرے حصے کو کسی نامعقول ٹرک نے ٹکر مار دی تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ کیا ہم ہر پل کے نیچے سے گزرتے ہوئے ڈرتے رہیں گے کہ کہیں اگلے ہی لمحے وہ ہمارے سروں پر نہ آگرے۔

میں نے اس بارے حقائق جاننا شروع کئے تو پتا چلا کہ بنیادی طور پر یہ” پیڈسٹرین برج“ تھا جو ٹریفک کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کے سڑک پار کرنے کے لئے بنائے جاتے ہیں، ایسے بہت سارے پل پہلے ہی شہر کے بہت سارے حصوں میں موجود ہیں مگر یہاں فرق یہ ہے کہ شہر کے دیگر پیڈسٹرین برج لوہے کے بنے ہوئے ہیں مگر یہ کنکریٹ کا بنا ہوا تھا۔ یہ پل لاہور رنگ روڈ پیکج آٹھ کا حصہ ہے، اس کو بنوانے کی ذمہ داری لاہور رنگ روڈ پراجیکٹ کے پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ( المعروف پی ایم یو) کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تھی اور اس کا ٹھیکہ 19دسمبر 2008 کو خالد رو¿ف کنسٹرکشن کمپنی کو دیا گیا، بنیادی طورپر یہ ٹھیکہ ہربنس پورہ کینال کراسنگ پر سٹرک کی تعمیر کا تھا، جسے 30 جون2010 کو مکمل کر لیا گیا۔ اس پراجیکٹ کا ڈیفیکٹ لائے بیلیٹی پیریڈ ایک سال کا تھا اور اس پراجیکٹ کی فائنل چیکنگ نیسپاک نے کی اور بل ادا کر دیا گیا۔ میرے ذہن میں سوال یہ بھی تھا کہ کیا یہ پل ریت کا بنا ہوا تھا کہ ایک ٹرک ٹکرایا اور اسے اپنے اوپر گرا لیا کیونکہ عمومی شہرت یا مروج طریقہ کار یہی ہے کہ کسی بھی منصوبے کا ٹینڈر اوکے کرنے پر چھ فیصد کمیشن متعلقہ محکمے کے چیف انجینئر یا ایس ای وغیرہ کی ہوتی ہے، ٹینڈرجاری ہونے کے بعد متعلقہ محکمے کے باقی تمام لوگوں کے لئے بارہ فیصد کمیشن کاٹی جاتی ہے اور اگر اس منصوبے میں ارکان قومی یا صوبائی اسمبلی کے فنڈز یا آشیرباد شامل ہو تو وہ دس فیصد کے حصے دار قرار پاتے ہیں، اس طرح اٹھائیس فیصد تو پہلے ہی باہر نکل جاتا ہے اور باقی 72 فیصد سے کام مکمل کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ معیار میں ٹھیکیدار یا کنٹریکٹر کی تمام تر ایمانداری کے باوجود ایک چوتھائی سے زیادہ کمی کرنا ہی پڑتی ہے۔ تو کیایہاں ایسا ہی ہوا مگر متعلقہ کمپنی کہتی ہے کہ اس نے کمیشن نہیں دیا، سو فیصد کام کر کے سوفی صد رقم وصول کی، ماہرین کمپنی کے اس دعوے کودرست قرار نہیں دیتے اس کی وجہ کمپنی سے کہیں زیادہ ہماری بیوروکریسی کی تسلیم شدہ بے ایمانی ہے۔ بہرحال خالد رو¿ف کمپنی ایک بڑی کمپنی ہے جس کے پاس خانیوال سے ملتان تک موٹر وے کی توسیع کا ٹھیکہ بھی ہے۔ میں نے اس سلسلے میں انجینرنگ یونیورسٹی کے پروفیسر آف آرکیٹکچر اینڈ ڈیزائن ڈاکٹر محمود حسین کے علاوہ اسی جامعہ کے ٹرانسپورٹیشن انجینرنگ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر تنویر اقبال قیوم سے بھی رابطہ کیا، تنویر اقبال قیوم تو اپنے پروفیشنل جوش و جذبے میں وہاں کا دورہ بھی کر آئے۔

یہ پل صبح کے وقت گرا اور دوپہر تک کمپنی کے مالک خالد رو¿ف گرفتار ہوچکے اور رات تک ان پر قتل عمد کی ایف آئی آر درج ہو چکی تھی، میرے پاس ان کے صاحبزادے میاں فرحان رو¿ف کمپنی کی ترجمانی کے لئے دستیاب تھے جو اپنے ساتھ نیسپاک کے ساتھ ساتھ روڈ ریسرچ اینڈ میٹریل ٹیسٹنگ انسٹی ٹیوٹ، این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کی معیار پر تصدیقی رپورٹیں لئے پھر رہے تھے مگر بہرحال یہ رپورٹیں تو ہر ٹھیکیدار حاصل کر ہی لیتا ہے۔ ظاہر یہ ہوا کہ سرگودھا سے سامان لانے والا یہ ڈمپر ٹرک صبح کے وقت روڈ پر جا رہا تھا کہ اس کے ڈرائیور سے غلطی سے وہ اس کا پچھلا حصہ اوپر اٹھ گیا، ظاہر ہے وہ لیور غلطی سے ہی کھینچا گیا ہو گا ورنہ اس سڑک پر ٹرک کیسے اور کیوں لوڈر والی سائیڈ ہائیڈرالک پریشر سے اٹھا کے جائے گا۔ پل کی اونچائی سولہ فٹ آٹھ انچ تھی مگرٹرک بائیس فٹ سے زیادہ اونچائی پر چلا گیا۔ جیسے ہی وہ پل کے نیچے سے گزرا، اس کا اوپر اٹھا ہوا پچھلا حصہ پل سے ٹکرایا تو وہاں پیڈسٹرین برج اس طرح بنا ہوا تھا کہ ستون کھڑے کر کے اس کے اوپر گارڈر رکھ کے پل بنا دیا گیا تھا۔ ستون کے اوپر گارڈر رکھا گیا تھا اور خیال یہ تھا کہ یہ اتنا بھاری گارڈر، سلیبوں کے بوجھ کے ساتھ اپنی جگہ سے کیسے ہل سکتا ہے، اس کے اوپر ایک نام نہاد احتیاط یہ تھی کہ دونوں سائیڈوں پر کنکریٹ کے ہی ” ڈائمنڈ“ لگا دئیے گئے تھے جو ٹرک کے ٹکرانے کے بعد گارڈر کو ستون کے اوپر سے سلپ ہونے سے نہیں روک سکے۔ ڈاکٹر محمود حسین نے اس کیس کو سٹڈی کیا اور رائے دی کہ ٹرک جب پل سے ٹکرایا اوراسے اپنی رفتار کے زور پر ایک میٹر تک آگے گھسیٹنے کے بعد اپنے اوپر گرا لیا تو اس کے ڈیزائن میں ایسے ایکسیڈنٹ کو مدنظر رکھا جانا چاہئے تھا جس میں ستون کے اوپر موجود گارڈر کے سلپ ہونے کا مارجن نہ ہوتا ، میری ناقص رائے تھی کہ اس ستون کے ساتھ ڈائمنڈ لگانے کی بجائے اس کو پیالہ شکل میں بنایا جاتا،اس کے اندر گارڈر رکھا جاتا تو ٹرک اس کو اتنی آسانی سے گھسیٹ کر اپنے اوپر نہ گراپاتا۔ ڈاکٹر محمود حسین نے ٹیکنیکل نکتہ بیان کیا کہ زلزلے یا زمین میں کسی اور ہلچل کی وجہ سے بھی ستون کے اوپر رکھا گیا گارڈریا سلیبس ہل سکتی تھیں لہذا ڈیزائن میں اس عنصر کو ملحوظ رکھاجانا چاہئے تھا۔ میاں فرحان رو¿ف کی پیش کردہ تصاویر بتا رہی تھیں کہ ٹرک کا ٹکرانا ایک حادثہ تھا مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ڈیزائن کی خامی تھی، اس موقعے پر تعمیر کی خامی کو بھی تفصیل سے ڈسکس کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کی باقاعدہ میٹریل ٹیسٹنگ رپورٹ آنی چاہئے تاکہ اس کو کنفرم کیا جا سکے کہ وہاں کمزور سریا یا دیگر میٹریل استعمال ہوا۔ مگر بہرحال یہ بات طے ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا اور ڈیزائن میں ایسے حادثے کی روک تھام کے لئے یا گارڈروں اور سلیبوں کو سلپ ہونے سے روکنے کے لئے خامی موجود تھی۔ اس خامی کی ذمہ داری نیسپاک پر آتی ہے۔ ٹھیکیدار کہتا ہے کہ اسے تو جو ڈیزائن اور جو سپے سی فی کیشن دی گئی،اس کے عین مطابق اس نے کام مکمل کیا اور اس کا ڈیفیکٹ لائے بیلیٹی پیریڈبھی ایکسپائر ہو گیا۔ کمشنر لاہور ڈویژن اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں اور این ایل سی ہی وہ مین کلائنٹ ہے جس نے اس کو بنوایا مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف خالد رو¿ف کو پکڑا گیا حالانکہ پل از خود نہیں گرا اور ان پر تین سو دو کی ایف آئی آر بھی ہو گئی مگر کسی نے این ایل سی اور کمشنر لاہور کو پوچھا تک نہیں۔ کیا ہم اپنی خرابیوں کی اصلاح ایسے کر سکتے ہیں کہ جس کی گردن میں پھندا آ رہا ہو اسکے گلے میں ڈال دیں ، اصل ذمہ دار یا باقی ذمہ دار انجوائے کرتے رہیں۔ اگرہم اپنے شہر کے باقی تمام پلوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو سادہ سی بات ہے کہ تعمیراتی سامان کے بہترین استعمال سے پہلے ہمیں ڈیزائن کی خامیاں دورکرنا ہوں گی۔ اگر میںغلط نہیں تو مسلم ٹاو¿ن فلائی اوور کے نیچے بنائے گئے تمام ستون ایسے ہی ہیں، ان کو پیالہ شکل میں بنایا گیا ہے جس کے بعد پلوں میں گارڈرز کے سلپ ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ جہاں تک کمپنی کے مالک پر قتل عمد کے مقدمے کا ایشو ہے یہ تو محض سیاسی فوائد کے حصول کے لئے ہے،اس کے ذریعے اصل کیس کو کمزور کیا گیا ہے ورنہ قتل عمد کے مقدمات اسی طرح درج ہونے ہیں تو ڈینگی پر انتظامیہ کی غفلت پر بھی ہونے چاہئے تھے،سروسزہسپتال میں دس نومولود بچوں کی الم ناک اموات پر بھی ہونے چاہئے تھے اور اب بھی ان این ایل سی اور نیسپاک کے حکام کے ساتھ ساتھ ان مگر مچھوں پر بھی ہونے چاہئیں جوکسی بھی ترقیاتی منصوبے کا اٹھائیس فیصد بجٹ شیر مادر سمجھ کر پی جاتے ہیں اور ڈکار تک نہیں لیتے ۔۔۔ کبھی کوئی ترقیاتی سکیموں میں اس کرپشن پر بھی ڈنڈا اٹھائے تو جانوں !

مزید : کالم