تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 35

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 35
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 35

جب پنڈت راج خلعت ہفت پارچہ، مالائے مروارید، فیل آراستہ اور اسپ مرصع کے علاوہ ایک لاکھ روپے کا نقد انعام لے کر پیچھے ہٹ گئے تو شہنشاہ نے رستم خاں فیروز جنگ اور امیر الامراء نواب خلیل اللہ خاں پر نگاہ کی۔ فیروز جنگ نے سینے پر ہاتھ باندھ کر گوش گزار کیا۔

’’زبردست توپ خانہ حرکت کرچکا۔ افواج قاہرہ آراستہ کھڑی ہیں اور ظل الہٰی کے حکم کی منتظر ہیں۔‘‘

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مدہم لیکن اٹل آواز میں شاہ جہاں نے اعلان کیا۔

’’عساکر شاہی اور وابستگان دولت کی وفاداری اور شجاعت کے مابدولت قائل ہیں۔ تاہم مصلحت وقت کے پیش نظر بنفس نفیس اس مہم میں شرکت فرمائیں گے۔‘‘

دارا شکوہ نے کچھ عرض کرنا چاہا لیکن ظل الہٰی نے پہلو کے تکیوں پر ہاتھ رکھ دئیے اور فاضل خاں نے تخت طاؤس کی سیڑھیوں سے ہوادار لگادیا۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

ستارہ شناسوں کے قول کے مطابق شہنشاہ کو سترہ مئی کی صبح کوچ کرنا چاہتے تھے۔ پیش خانہ اکبر آباد کے باہر نزہت باغ میں آراستہ ہوچکا تھا۔ سادھووں اور درویشوں کے بھیس میں اورنگزیب کے جاسوس دارالخلافت میں منڈلارہے تھے۔ نامہ برکبوتروں کے پر سے اشاروں کنایوں کی زبان مین خبریں پہنچارہے تھے۔ اورنگزیب جو شاہ جہاں کے سامنے میدان جنگ میں تلوار اٹھانے کا نتیجہ جانتا تھا، پوری کوشش کررہا تھا کہ شہنشاہ قلعہ معلی سے برآمد نہ ہوسکے۔ روشن آرا نے شاہی اطبا کو تحائف بھیج کر اور ظل سبحانی کی صحت کے نام پرگزارش کی کہ شہنشاہ کو اس خطرناک سفر سے محفوظ رکھا جائے۔ امیر الامراء نواب خلیل اللہ خاں کو اورنگزیب کے خفیہ پیغام ملے کہ شاہ جہاں کے میدان جنگ میں اترتے ہی ہم آدھی لڑائی ہار جائیں گے اس لئے جس طرح بھی ممکن ہو ظل الہٰی کو سفر سے باز رکھا جائے۔

بوڑھے نواب نے جس کی خاندان چغتائیہ سے قرابت تھی اور جو آصف جاہ کا چشم و چراغ تھا، خلعت فاخرہ زیب تن کی اور ہاتھی پر سوارہوکر قلعہ معلی کی طرف چل پڑے۔

جملہ خاں خواجہ سرا نے پیشوائی کی اور فاضل خاں حاجب بارگاہ نے جواب کی باریابی کی اجازت حاصل کی۔ شہنشاہ اس وقت مجلی اور ومطلی و مرصع شیش محل میں تشریف فرما تھا۔ نواب نے کورنش کے بعد سر اٹھایا تو دیکھا کہ دارا شکوہ، دیوان کل رستم خاں اور میر بخشی اس طرح ساکت کھڑے ہیں گویا ان کے سروں پر پابندے بیٹھے ہوں۔ شہنشاہ اونچی مسند سے پشت لگائے ایک پیر پر پیر رکھے گل تکیوں پر کہنیاں رکھے دروازے اور چہرے سے جلال ٹپک رہا ہے۔ امیر الامراء بھی اپنے خیالات مجتمع بھی نہ کرپائے تھے کہ شہنشاہ نے مخاطب کرلیا۔

’’کون اس نافہم (دارا) کو سمجھائے کہ جب مابدولت میدان جنگ پر نزول جلال فرمائیں گے تو کم نصیب اور نامراد باغی اپنے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ باندھ کر حاضر ہوجائیں گے اور اگر جنگ ہوئی تو سردار ان عظام مابدولت کی نگاہ میں افتخار حاصلکرنے کے لئے اپنا سرہتھیلی پر رکھ کر داد شجاعت دیں گے اور بدنصیبوں کے حلیف اپنے لشکروں کے ساتھ ہماری حضوری کے شرف سے مشرف ہوں گے۔‘‘

’’ظل الہٰی کے خیال مبارک کی تائید ہر بندہ درگاہ کا فرض ہے۔ تاہم اس ازلی وفادار حکومت اور پشتینی نمک خوار دولت کی ناقص رائے میں ’’فلک بارگاہ‘‘ کا دارالحکومت سے حرکت فرمانا ضروری نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ دھرمت کی لڑائی شاہی لشکر کے ہاتھ سے نکل گئی لیکن اس کا واحد سبب یہ تھا کہ چغتائی شاہزادوں کے مقابلے میں خادم بارگاہ اس شجاعت کا اظہار نہ کرسکے جس کی ان سے توقع تھی لیکن جب مہین پور خلافت خاصان دولت کے ساتھ مقابلہ پر اتریں گے تو فتح یقینی ہوگی۔‘‘

دارا شکوہ سینے پر ہاتھ باندھے تند آواز میں بولا 

’’ہر چند کہ بارگاہ عالم پناہی میں کچھ عرض کرنا بے ادبی ہے تاہم چونکہ یہ ہماری ناموس، زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لئے گزارش کرنا پڑتا ہے کہ اگر نصیب دشمناں مزاج مبارک او رناساز ہوگیا تو دنیا کہے گی کہ بزدل اور نااہل دارا نے بیمار شہنشاہ اور شفیق باپ کو اذیت پہنچائی۔ عالم پناہ! اگر یہ بندہ ناچیز ظل سبحانی کے دور مبارک میں اورنگزیب کی باغیانہ اور غدارانہ حرکتوں کی سرزنش نہ کرسکا تو عمر بھر اس کی سازشوں کا شکار رہنا پڑے گا۔

ظل الہٰی کی دارالخلافت سے جنبش کے دونوں نتائج اورنگزیب کے حق میں ہوں گے۔ شہنشاہ سے شکست، باپ سے شکست ہوگی اور رحم کی حق دار ہوگی اور اگر ہم پر مقدر کا عذاب نازل ہوا تو یہ اتنا بڑا المیہ ہوگا کہ آل تیمور کی تاریخ قیامت تو روتی رہے گی۔ مورخ اس بداقبالی کا تمام الزام کمترین خلایق کے سرتھوپ دیں گے۔

عالم پناہ! داراشکوہ اگر کامیاب ہوتا ہے تو ظل سبحانی کے اقبال کی برکت اور اگر لوح محفوظ میں کچھ اور مقدر کیا جاچکا ہے تو وہ سب کچھ داراشکوہ کے نام لکھا جائے گا۔ فلک بارگاہ کی ذات بابرکت اس داغ سے قطعی محفوظ رہے گی۔‘‘

دیر تک سکوت رہا۔ حاضرین کی نگاہ طلاباف قالینوں کے پھول گھورتی رہی۔ پھر آواز آئی۔

’’بابا (داراشکوہ) کیا تم شاہزادہ سلیمان کی فاتح افواج کی واپسی کا انتظار نہیں سکتے؟ 

امیر ان عالی وقار جو اپنے مراکز سے حرکت کرچکے ہیں۔ مابدولت کے حضور میں ان کی باریابی تک جنگ گریز نہیں کرسکتے۔‘‘

’’ظل اللہ! دھرمت کی فتح کے نشے میں چور باغی گستاخانہ بڑھتے چلے آرہے ہیں۔ عالم پناہ اس منحوس گھڑی کا تصور فرمائیں جب معلوم دنیا کے ایک عظیم المرتبت شہنشاہ کی بارگاہ بے ادبی کا شکار ہوگی اور لشکروں کی حراست میں لے لی جائے گی۔

عالم پناہ یقین فرمائیں کہ راؤ چھتر سال ہاڑا کے سوار برق نداز خان کا توپ خانہ باغیوں کی تباہی کے لئے کافی ہے۔

بندہ درگاہ کی گزارش ہے کہ اعلیٰ حضرت قلعہ معلی میں جلوس فرمارہیں اور اپنی گراں قدردعاؤں کے ساتھ غلام کو رخصت جنگ عطا فرمائیں۔‘‘

تھوڑی دیر کے سکوت کے بعد شہنشاہ نے آسمان کی طرف دونوں ہاتھ اُٹھائے اور دعا کی۔

’’رب العالمین اگر اس گنہگار کی کوئی نیکی قبول ہوئی ہو تو اس کے صدقے میں دارا شکوہ بابا کو سرخ رو کر۔‘‘

پھر دونوں ہاتھ تکیوں پر رکھ دئیے جو دربار کی برخاستگی کا حکم تھا۔ (جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 36 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...