تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 34

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 34
تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 34

  


۲۲ اپریل کی ایک پہر رات گزرچکی تھی۔ جمنا پر بہتا ہوا مغل دارالخلافہ بلوچپورہ کے سامنے سے گزررہا تھا کہ ایک مغل ایال پر سر رکھے گھوڑے کو چھیڑتا نظر آیا۔ رستم خاں کے مشعل بردار سپاہیوں نے بڑھ کردیکھا تو سوار کا لباس خون سے گلکار تھا۔ زین پوش اور نیزے میں چاندی کے گھنگھروؤں کی جھالر لٹکی تھی جو اس کے محکمہ ڈاک سے متعلق ہونے کی ضمانت تھی۔ رستم خاں فیروز جنگ نے اسے دیکھتے ہی ایک تیز رفتار ڈونگی میں بٹھا کر صاحب عالم کے حضور میں بھیج دیا۔ دارا اپنے بجرے میں لیٹا ہوا کابل اور گجرات اور بنگال سے آئی ہوئی ڈاک ملاحظہ کررہا تھا کہ مقربین بارگاہ سے ایلچی کو پیش کردیا اور خود اپنی کشتیاں ہٹالے گئے۔ کورنش کے بعد زبان کھولنے کی کوشش کی لیکن حلق کے کانٹوں، خبر کی نحوست اور صاحب عالم کی قربت کے جلال نے اجازت نہ دی۔ جب پانی پی کر حواس دوست ہوئے توخبر دی کہ دھرمت کے میدان میں اورنگزیب اور مراد نے شاہی لشکر کو شکست فارش دی۔ ہزاروں روشناس میدان جنگ میں کما آگئے۔ مہاراجہ اپنے راج کی طرف نکل گیا۔ قاسم خاں بچا کھچا لشکر لئے اکبر آباد کی طرف کوچ کررہا ہے۔ اور دارا یہ خبر سن کر ساکت ہوگیا۔ بجرہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا لیکن اس کے ذہن میں توپیں دغ رہی تھیں۔ ہاتھی چنگھاڑ رہے تھے اور گھوڑ الف ہورہے تھے۔ پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا۔ والا شاہی سواروں (باڈی گارڈ) کی طرف دیکھ کر آہستہ سے حکم دیا۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 33 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’اس کو حراست میں لے لو اور زخموں پر توجہ دو۔‘‘

دوسرے اشارے پر اس کا بجرہ ’’عقاب سرخ‘‘ کے برابرلگادیا گیا۔

پھر جیسے زلزلہ آگیا۔ آہستہ خرام جمنا زخمی کوہ پیکر اژدھے کی طرح پھنکارنے لگی۔ نقاروں کے نقیبوں نے شہنشاہ کی واپسی کا اعلان کردیا۔ سات میل میں پھیلا ہوا لشکر واپس ہونے لگا جیسے سیلاب پر چڑھا ہوا دریا اپنا رخ بدل دے۔ ہاتھیوںِ گھوڑوں، خچروں، اونٹوں کی آوازوں اور نقیبوں کی للکاروں نے قیامت برپا کردی۔ بلوچ پورہ اور قرب و جوار کی تمام آبادیوں اپنے اپنے مکانوں کی چھتوں پر ابل پڑیں۔ امیر آتش شاہی رعد انداز خاں کو حکم ہوا کہ گھوڑے پر سوار ہوکر اکبر آباد پہ نچے تو توپ خانہ عالم پناہی نکال کر باہر ڈال دے اور بھاری توپیں دھول پور کے جانب حرکت کرنے لگیں۔ سید جعفر صولت جنگ میں آتش کو ذاتی پروانہ ملا کہ پہنچتے ہی پہنچتے توپ خانہ ذاتی کے کوچ کا انتظام کرے۔

بجرے اُڑرہے تھے جیسے میدان جنگ میں گھوڑے دوڑ رہے ہوں۔ امیر البحر بہاؤ پر ڈونگی اڑاتا ہوا ملاحوں کے نام لے کر عجلت سے احکام دے رہا تھا۔ چاندی کی نقدی اور سونے کے وعدے لٹاتا پھررہا تھا۔ درجنوں کاتب ایک زانوں پر بیٹھے ہوئے امیروں، سپہ سالاروں، نوابوں، راجاؤں اور خانوں کے نام فرامین لکھ رہے تھے کہ سپاہ خاصہ کے ساتھ یلغار کرتے ہوئے آستانہ مبارک پر حاضر ہوں۔

ظل سبحانی حلقہ اکبر آباد کے ’’نشیمن‘‘ میں صاحب فراش تھے۔ سینکڑوں بیلوں کے کندھوں اور درجنوں ہاتھیوں کے سہارے بھاری بھاری توپیں دھول پور کی جانب حرکت کرچکی تھیں۔ شاہ جہاں آباد اور سیکری کی محفوظ فوجیں طلب ہوچکی تھیں۔ خزانوں کی تھیلیاں اور اسلحہ خانوں کی کوٹھریاں کھول دی گئی تھیں اور ’’تاج‘‘ کے رخ کے تمام پردے بندھے ہوئے تھے اور ’’سورج‘‘ تاج کے کلس پر ٹنگا ہوا تھا۔

خواص خاں اور مبارک خاں مؤدب ہاتھیوں سے چنور ہلارہے تھے اور شہنشاہ دیکھ رہا تھا کہ شاہزادہ سلیم کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا دریائے لشکر میدان جنگ میں اکبر آفتاب کے طلوع ہوتے ہی سوکھ گیا اور شاہزادہ سلیم زنجیروں میں باندھ لیا گیا۔ پھر ملاحظہ فرمایا کہ آج سے بہت سال قبل جب وہ شاہزادہ خرم تھا اور نور جہاں کی سازشوں سے ہتھیار اٹھانے پر مجبو رہوگیا تھا اور اپنا وہ تمام لشکر سمیٹ لیا تھا جس کی تلوار پر کابل اور راجپوتانہ اور دکن کی لڑائیوں نے سان رکھی تھی اور جیسے ہندوستان کا تخت اس کے قدموں کے نیچے آچکا تھا۔ ظل الہٰی (جہانگیر) کے درد و مسعود کا غلغہ ہوا۔ وہ سپہ سالار جن کے قبضہ شمشیر میں فتح الفتوح کا آشیانہ تھا، آداب شہنشاہی سے لرز گئے۔ آگ اور خون سے کھیلنے والا لشکر سہم گیا اور اس کو جہانگیری اقبال کے سامنے سرجھکا دینا پڑا۔ پھر ’’نشیمن‘‘ کے درودیوار نے سنا۔

’’اعلان ہو۔‘‘

’’کہ درشن عطا کیا جائے۔‘‘

’’مابدولت دربار عام میں جلوس فرمائیں گے۔‘‘

ابھی ’’درشن جھرو کے‘‘ کے نیچے حد نگاہ تک پھیلی ہوئی خلقت کی جے جے کار سے زمین وہ آسمان گونج ہی رہے تھے کہ دربار عام میں نقیبوں نے ظل سبحانی کے تخت طاؤس پر جلوس فرماہونے کا اعلان کیا۔نذیر یں قبول ہوئیں، خلعتیں پہنائی گئیں۔ ہاتھی اور گھوڑے عطا ہوئے، نقارے اور علم بخشے گئے۔ پھر پنڈت راج جگناتھ نے اپنا وہ مشہور قصیدہ پڑھا، جس کے یہ مصرعے زبانوں پر چڑھ گئے۔

(دلی کا شہنشاہ دنیا کا شہنشاہ جتنے بادشاہ ہیں، سب اس کے باج گز ار ہیں اور دلی کا شہنشاہ کسی بھی شخص کو کوئی بھی انعام دینے کی قدرت رکھتا ہے)(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 35 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /دارا شکوہ


loading...