عوام نے ایم این ایز کو ووٹ اپنا خون نچوڑنے کیلئے نہیں دئیے

عوام نے ایم این ایز کو ووٹ اپنا خون نچوڑنے کیلئے نہیں دئیے

                         لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ میںحج پالیسی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج کے ریمارکس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد بھٹہ جذباتی ہوگئے اور فاضل جج کے ریمارکس کو الیکشن لڑنے کے خواہشمند سیاست دان کے بیان سے تشبیہہ دے ڈالی ۔کیس کی سماعت کے دوران مسٹر جسٹس خالد محمود خان نے ریمارکس دیئے کہ عدالت پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی ،اگر آنکھوں میں دھول جھونکی جائیگی تو عدالت مداخلت کرے گی،عوام نے ایم این ایز کو اس لیے ووٹ نہیں دیئے کہ عوام کا خون نچوڑیں ،نہ یہ اختیار کسی وزیر یا وزیراعظم کے پاس ہے، اس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ جذباتی ہوگئے اور انہوں نے فاضل جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ریمارکس سے ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے انتخاب لڑنا ہے، عدالت نے کہا کہ انتخاب لڑنا آپ کا کام ہے ہمار ا کام قانون کی پاسداری کرنا ہے، جبکہ درخواست گزاروں کے وکیل اظہر صدیق نے نصیر بھٹہ سے کہا کہ ان کا رویہ غیر مناسب ہے او ر انہیں عدالت کے وقار کا خیال رکھنا چاہیے،عدالت نے حج پالیسی 2014کے خلاف دائر اس درخواست میں مسابقتی کمیشن سے 3روز میں جواب طلب کر لیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نہ تو کوٹہ تقسیم کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی،نہ پرائیوٹ حج ٹور آپریٹرز کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ حج پالیسی کو 28مئی کو ویب سائیٹ پر لوڈ کیا گیا، حج ٹورز آپریٹرز کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ حکومت کے پالیسی معاملات میں عدالت مداخلت نہیں کر سکتی،2013میں پرائیوٹ ٹور آپریٹرز سے 20فیصد کوٹہ واپس لیے لیا گیا تھا، جبکہ 5ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل کمیٹی نے اس سال 20فیصد زائد کوٹہ دینے کا فیصلہ کیا تھا،جس پر عدالت نے مذکورہ ریمارکس دیئے۔اس کیس کی مزید سماعت 3 جون کو ہوگی۔

رےماکس

مزید : علاقائی