سپریم کورٹ نے خریدی گئی اراضی کی تفصیلات پنشن کی عدم ادائیگی کا نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ نے خریدی گئی اراضی کی تفصیلات پنشن کی عدم ادائیگی کا نوٹس لے لیا ...

  

                                      اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے ای او بی آئی کرپشن کیس میں خریدی گئی اراضی کی تفصیلات اور ملازمین کی پنشن کی عدم ادائیگی پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا جبکہ چیئرمین یا ڈی جی ای او بی آئی کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔ دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنا اہم مقدمہ ہے اور حالت یہ ہے کہ ادارے کا چیئرمین ہی موجود نہیں‘ ہمارا دائرہ کار محدود ہے‘ ہم صرف کرپشن کے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں‘ واضح کردیں کہ کسی سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا‘ ادارے کے پنشنروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے‘ ہم یہاں کسی کو غیر ضروری طور پر ہراساں کرنے کیلئے نہیں بیٹھے‘ بورڈ کو ہم نے نہیں اس کے ٹرسٹیز نے چلانا ہے‘ ممکن ہے کیس کی اہمیت کے پیش نظر ہم اس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریں۔ انہوں نے یہ ریمارکس پیر کے روز دئیے۔ اس دوران ای او بی آئی کے بعض ملازمین نے ایک درخواست بھی دائر کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ بہت عرصے سے ای او بی آئی والے انہیں پنشن کی ادائیگی نہیں کررہے جس کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ تمام افسروں کے پاس چکر لگاچکے ہیں‘ حکومت کے اہم لوگوں سے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ان کی کہیں بھی شنوائی نہیں ہورہی‘ وہ کہاں جائیں اور کس سے فریاد کریں۔ عدالت اس حوالے سے اپنا حکم جاری کرے اس پر عدالت نے ای او بی آئی کے وکیل حافظ ایس اے رحمن سے پوچھا کہ یہ ہم کیا سن رہے ہیں۔ عدالت نے سوالیہ بات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق سے تجاوز کیا تو ایگزیکٹو سے کیسے پوچھ سکتے ہیں ابھی تک خریدی گئی زمین کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں پیش کیا گیا۔ پنشن کے معاملات پر بھی لوگ پریشان ہیں اس پر ای او بی آئی کے وکیل نے بتایا کہ پرانے چیئرمین کا تبادلہ ہوچکا ہے نئے نے ابھی چارج نہیں سنبھالا اس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اتنے اہم مقدمے کی سماعت کررہے ہیں اور حالت یہ ہے کہ ادارے کا چیئرمین ہی موجود نہیں آئندہ سماعت پر اس حوالے سے بھی جواب دیا جائے۔ چیئرمین یا ڈی جی خود پیش ہوں۔ اس پر عدالت نے اراضی کی سیٹلمنٹ پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی۔علاوہ ازیںسپریم کورٹ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز توہین عدالت کیس میں خواتین کو ملازمت میں مستقلی کیلئے انگریزی میں شرائط نامہ دینے پر عدالت شدید برہم‘ 24 اکتوبر کو چاروں چیف سیکرٹریز طلب جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ کیا ہر حکم عدالت نے دینا ہے‘ یہ بادشاہت نہیں ہے کہ ہر کام صرف بادشاہ نے ہی کرنا ہے‘ کیا حکومتوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے‘ سارے کام عدالتوں پر چھوڑ کر حکومتی لوگ سکون میں بیٹھ جاتے ہیں‘ حاکم اور محکوم کی تفریق کا زمانہ کاغذوں میں تو ختم مگر عملاً موجود ہے‘ کیا حکومت نے آرٹیکل 251 نہیں پڑھا جس میں اردو کا ذکر ہے لگتا یہی ہے کہ شرائط نامہ جان بوجھ کر انگریزی میں دیا گیا ہے تاکہ اسے لیڈی ہیلتھ ورکرز پڑھ نہ سکیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس پیر کے روز دئیے۔ جب سماعت شروع ہوئی تو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو صوبائی حکومتوں کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مستقلی بارے عدالتی حکم پر جوابات پیش کئے گئے۔ پنجاب اور سندھ حکومت نے بتایا کہ انہوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کردیا ہے۔ اس دوران انہوں نے عدالت میں مستقلی بارے شرائط نامہ جو انگریزی میں تھا‘ بھی پیش کیا جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ سخت برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ شرائط نامہ انگریزی میں کیوں دیا گیا ہے اگر یہ شرائط نامہ اردو میں ہوتا تو کیا فرق پڑتا تھا حالانکہ آئین کے آرٹیکل 251 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ملک کی قومی زبان اردو ہے اور دفاتر میں بھی اسے رائج کیا جائے گا۔ کیا حکومت نے یہ آرٹیکل 251 نہیں پڑھا،جسٹس جواد ایس خواجہ نے اور بھی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا ہر حکم ہم نے دینا ہے حکومت نے خود سے کچھ نہیں کرنا۔ انگریزی میں شرائط نامہ دے کر یہی لگتا ہے کہ تاکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اسے پڑھ ہی نہ سکے۔ بعدازاں عدالت نے سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے چاروں چیف سیکرٹریز کو طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ برہم

مزید :

علاقائی -