جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 18

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی ...
جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 18

  

’’آج میں قومی سلامتی کو خطرے میں دیکھ کر محسن کش خود ساختہ حکومت کو متنبہ کررہی ہوں کہ وہ پاکستان کو ایک بار پھر تاریخ کے اس نازک موڑ پر لے آئی ہے کہ اللہ نہ کرے پھر کوئی اتنا بھاری صدمہ ہمیں اٹھانا پڑے جس کی وجہ سے تاریخ کے اوراق ہمیں معاف نہ کریں۔ سقوط ڈھاکہ کا زخم ابھی تک مندمل نہیں ہورہا۔ کشمیر میں نہ صرف مسلمان بھائیوں کا قتل عام جاری ہے بلکہ شہداء کی اس جنت نظیر وادی سے اسلام کے نام کو مٹانے کی ناپاک سازش بھی ہورہی ہے۔ میں حیران ہوں کہ کارگل کو کشمیر کے قریب دکھانے والے اب کیوں مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں؟ کیا یہ 12 اکتوبر سے پہلے طے ہوا تھا؟ یا اپنی آمریت کو طول دینے کے لئے کشمیر پر سودا بازی کی جارہی ہے؟ آج حکومت کے پے رول پر کام کرنے والے ابن الوقت پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کو توڑنے کے درپے ہیں بلکہ کچھ لوگ حکومت کے اشاروں پر پوری مسلم لیگ کو اس کی جھولی میں ڈالنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

قائداعظم کی مسلم لیگ ایک دفعہ پھر ان شاء اللہ تحریک پاکستان والا جذبہ اور ولولہ لئے ہوئے نہ صرف نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے بلکہ اس آڑے وقت میں ملک کے اندر اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام کررہی ہے۔ کتنے دکھ کی بات ہے کہ پاکستان اکیسویں صدی میں دنیا کے نقشے پر ایک واحد ملک ہے، جو ایک آمر کے ہاتھوں اپنا آئین معطل کرواکر اقوام عالم میں تنہا کھڑا ہے۔ آئین کا وہ حصہ جو اسلامی دفعات پر مشتمل ہے، اس کو گزشتہ آٹھ ماہ میں معطل رکھنا بھی ایک سازش ہے۔ اگر اب ان کو بحال کیا جارہا ہے تو آٹھ ماہ پہلے اس طرح حکومت کی توجہ کیوں نہ ہوئی؟ یہ اسلام کے ساتھ غداری نہیں تو اور کیا ہے؟ حکومت اب اسلامی دفعات کو پی سی او کا حصہ بنا کر اپنا داغ دھونا چاہتی ہے۔

جبر اور جمہوریت۔۔۔کلثوم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد کی چشم کشا کہانی ،خود انکی زبانی...قسط نمبر 17پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب وہ اپنے آپ کو عوامی غیظ و غضب سے بچا نہیں سکتی۔ اسلامی دفعات تو تاقیامت ہمارے ایمان کا حصہ ہیں۔ یہ پی سی او میں شامل ہوں یا نہ ہوں ان کے تحفظ کے لئے قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی اور ہم اس سازش کو بے نقاب کرکے چھوڑیں گے۔ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت کے آئین کا مکمل ڈھانچہ آج بھی وہی ہے جس سے عقیدہ ختم نبوت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عبارت ختم کردی گئی ہے۔ یہ عالم اسلام سے کتنا بڑا مذاق ہے کہ جس حکومت نے اپنے حلف نامہ سے اسلامی جمہوریہ کے الفاظ کو حذف کردیا اور عقیدہ ختم نبوت والی عبارت کو نکال دیا، آج قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے یہ ڈرامہ رچارہی ہے۔ میں مجلس تحفظ پاکستان کے فورم سے یہ اعلان کرتی ہوں کہ اسلامی دفعات کے تحت حلف اٹھایا جائے۔ 12 اکتوبر کو اسلام دشمن قوتیں اسلام نافذ کرنے والی حکومت کیخلاف اپنے بیرونی آقاؤں کے اشارے پر حرکت میں آئیں اور پاکستان کے اندر اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئیں۔ اب ہماری منزل صرف اور صرف نظام مصطفیﷺ کا نفاذ ہے۔ اب قوم مکمل نفاذ چاہتی ہے جس کے لئے وہ مارچ میں منتظر تھی۔ اگر 12 اکتوبر کی سازش اسلام کے خلاف نہیں تھی تو پھر موجودہ حکمرانوں کو فوری طو رپر نفاذ شریعت کا اعلان کرکے اپنی پاک دامنی کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔

قوموں کی زندگی میں حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں، سازشیں ہوتی رہتی ہیں۔ جذبہ ایمان سے سرشار قومیں حالات کا مقابلہ کرنا جانتی ہیں۔ اب قوم کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے اور ایک ہی نعرہ ہے کہ ملک میں نظام مصطفی ﷺ نافذ ہو اور اس نظام کے تحت اس ملک میں جمہوریت بھی بحال ہو۔ اللہ کی زمین پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق تمام امور مملکت انجام پائیں۔ اب قوم مزید انتظار کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ قوم کے ذبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاہے۔

دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے ملک پاکستان میں اب مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم کی جماعت مسلم لیگ ہی ایک بار پھر 14کروڑ عوام کو مسلم لیگ کے پرچم تلے اکٹھا کرکے اس ملک کو حقیقی اسلامی ریاست بنائے گی۔ (ان شاء اللہ)

اب ہم غیر مسلموں کی سازشوں کے نتیجہ میں قائم ہونے والی آمریت کے شکنجے سے جمہوریت کو ہمیشہ کے لئے آزاد کروا کے دم لیں گے۔ میری تمام محب وطن اور اسلام دوست سیاسی رہنماؤں سے اپیل ہے کہ آؤ ایک بار پھر متحد ہوکر پاکستان کو بچالیں جیسا کہ ماضی میں متحدہ ہوکر انگریز اور ہندو کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ میں نے پچھلی تقریر میں بھی اپنی باوقار عدلیہ سے یہی گزارش کی تھی۔ آئیے آج پھر ایک منظم سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور اسلام دشمن لابی کے عزائم کو خاک میں ملادیں۔ یہ ملک بچے گا تو سب کی سیاست بھی بچے گی، سب کی عزت اور غیرت بھی بچے گی، بلکہ میں یہ کہوں گی کہ ملک بچے گا تو ہم بچیں گے اور ہمارا سب کچھ بچے گا۔

آمریت کے اس دور میں پاکستان کے پاس کچھ باقی نہیں بچا۔ اب تو دکھ سہنے کی بھی سکت نہیں ہے۔ جو حکومت ملک کے چاروں صوبوں میں غریبوں کے لئے آٹے کا ریٹ ایک نہیں کرسکی، وہ چاروں صوبوں میں پانی کا مسئلہ کیسے حل کرے گی؟ پچھلے آٹھ نو ماہ میں جھوٹ اور منافقت سے حکومت کو مصنوعی سانس دے کر چلایا جارہا ہے، معیشت آخری سانس لے رہی ہے۔ عوام میں مسلسل اعتماد کھونے والی حکومت کیسے 14 کروڑ عوام کو قومی مسائل پر اکٹھا کرسے گی؟ عوام صرف اور صرف جمہوری حکومت کے فیصلے پر لبیک کہتی ہے۔

مسلم لیگ کی حکومت، 2000ء تک آئی ایم ایف کے تمام قرضے اتا رکر قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا منصوبہ بناچکی تھی۔ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب مسلم لیگ کی حکومت اپنے ملک میں صنعتی اور زرعی انقلاب لاکر اس ملک کی تقدیر کو بدلے گی۔

آٹھ نو مہینوں میں چینی 20 سے 27 روپے کو پہنچ چکی ہے، پورے ملک میں آٹا مہنگا ہوگیا ہے۔ یہ موجودہ حکومت کا عوام کے لئے تحفہ ہے۔ باقی صوبوں میں آٹے کا ریٹ پنجاب سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اپنے خاص لوگوں کو پنجاب سے گندم اور آٹا سمگل کرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ آٹے اور گندم کی اس سمگلنگ پر نیب کا کالا قانون خاموش ہے۔ ملک میں پرمٹ مافیا عام ہے۔ مہنگائی کے ہاتھوں اس حکومت کے خلاف نفرتیں عروج پر ہیں۔ بے روزگاری کے ہاتھوں خود س وزیوں کے واقعات ’’سب اچھا‘‘ کی رٹ لگانے والے مشرف کے ترجمان کا منہ چڑارہے ہیں۔

چند دن پہلے بلوچستان میں ایک پہاڑی سے میزائلوں کی بارش ہوئی۔ حکومت اس پر تبصرہ کرنے سے خاموش کیوں ہے؟ اگر کوئی محب وطن اس پر اپنی زبان کھولے تو اس کی حب الوطنی پر شک کیا جائے گابلکہ اس کے خلاف جھوٹے مقدمات کھڑے کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ قوم اس سانحہ کے متعلق معلوم کرنا چاہتی ہے۔ اس بارے میں مشرف کا ترجمان چپ سادھے کیوں بیٹھا ہے؟ کیا سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اس لئے عائد کی گئی ہے؟ کیا قوم کے نمائندے ملک کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لے کر عوام کو بروقت آگاہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے؟ میں آمریت کے سیاسی اجتماعات پر پابندی کے حکم نامہ کو مسترد کرتی ہوں اور جمہوریت کے سرفروشوں کو یہ دعوت دیتی ہوں کہ وہ اپنے اور عوامی نمائندوں کے درمیان حائل ہونے والی کمزور دیوار کو آخری دھکا دے دیں۔

اس بات پر ہر کوئی متفق ہے کہ اگر 1971ء میں ملک میں کوئی منتخب حکومت ہوتی، عوام کو سچ اور حقائق سے باخبر رکھا جاتا، نفرتیں مٹائی جاتیں تو لوگ پابند سلاسل نہ ہوتے۔ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہوتی تو بڑے بڑے اجتماعات میں بھائی چارے کی بات ہوتی۔ آج حالات بالکل مختلف ہوتے اور تاریخ کے اوراق پر ذلت آمیز الفاظ رقم نہ کئے جاتے۔ آخر میں مَیں یہ پوچھتی ہوں اور 14کروڑ عوام جواب کے منتظر ہیں کہ:

1۔ کیا 12 اکتوبر کا شبخون اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف سازش کا پیش خیمہ ہے؟

2۔ کیا عالم اسلام کی پہلی عالمی ایٹمی طاقت کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی تو نہیں؟

3۔ کیا مسلم لیگ کی حکومت کے بیرونی قرض اتارو مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟

4۔ کیا پاکستان کے نقشہ سے بے خبر قصیدہ گو لوگوں کو اہم حکومتی مناصب پر بٹھا کر کوئی خاص کام لینا مقصود ہے؟

5۔ کیا ورلڈ بینک کے حکم سے بجلی مہنگی کرکے عوام کو گلا دبانا اور اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنا مقصود ہے؟

6۔ دینی مدارس پر پابندی لگا کر قوم کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟

7۔ کیا افغانستان کی جیتی ہوئی جنگ کو خانہ جنگی کی نذر کرنا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل تو نہیں؟

8۔ کیا اسلام سے محبت کرنے والوں کو بنیاد پرست کا نام دے کر اسلام کی خدمت کی جارہی ہے؟

9۔ کیا تاجروں کو اپنے ہی ملک میں تشدد کا نشانہ بنا کر ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں رکاوٹ کھڑی کرنا نہیں؟

10۔ کیا لوکل انڈسٹری کو تباہ کرکے بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی طرف قوم نہیں بڑھایاجارہا؟

11۔ کیا زراعت کے شعبہ میں حکومت کی پالیسی نے چھوٹے کاشتکار کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا نہیں کیا؟

کل کے حکومتی یک طرفہ فیصلے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ معاشی بدحالی کی شکار حکومت اپنی تمام تر طاقت صرف اور صرف نواز شریف کے خلاف جھوٹے مقدمے بنانے اور سزا دلوانے کے لئے صرف کررہی ہے۔ نواز شریف کے خلاف اٹک قلعہ م یں چلنے والے کیس ایسے لوگوں کے ہاتھوں چلا گیا جو خود اس ملک کے غدار اور اسلام کے خلاف سازش کے نتیجہ میں سزا بھگت چکے ہیں۔ نواز شریف کو سزا نیب کے کالے قانون کے تحت نہیں دی گئی بلکہ نواز شریف کو سزا اسلام سے محبت اور ایک مضبوط پاکستان کا خواب دیکھنے کی دی جارہی ہے۔ 1965ء کی جنگ میں جب دشمن ہمارے ملک پر حملہ آور ہواتھا اور نواز شریف کے خاندان کا اس وقت سیاست سے بالواسطہ کوئی تعلق نہ تھا پھر بھی یہ محب وطن خاندان دن رات اپنی افواج کو اپنی اتفاق فونڈری سے جنگی سازوسمان تیار کرکے بارڈر پر پہنچاتا رہا تھا اور اپنے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو نبھاتا رہا تھا۔ اس حب الوطنی کی سزا بعد میں حکومت وقت نے شریف خاندان کے پورے کاروبار کو نیشنلائز کرکے دی۔ مگر شریف خاندان کے حوصلے کسی انتقامی کارروائی کے سامنے اللہ کے فضل و کرم سے پست نہیں ہوئے۔ جیسا کہ دنیا جانتی ہے اس دفعہ تو نواز شریف نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، اتنے بڑے کارنامے کی سزا دینے کے لئے یہ چھوٹے چھوٹے مقدمے اور چھوٹی چھوٹی سزائیں کچھ اہمیت نہیں رکھتیں، اسلام اور پاکستان کے لئے ہم کسی بھی بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ (انشاء اللہ) اور ہمیشہ جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہیں گے۔

حکمرانو! سن لو جیلیں ہمارے لئے آزمائشیں ہیں۔ اللہ اس آزمائش پر ہم پر کرم کرے اور جیلیں اب تمہارا مقدر بنیں گی کیونکہ آج تک جس نے بھی اسلام کے خلاف سازش کی یا اپنے ملک کے خلاف سازش کی وہ قدرت کے انتقام سے نہیں بچ سکا۔ اور تم قدرت کے انتقام کا نشانہ بن چکے ہو۔‘‘ (خطاب: 23 جولائی، 2000ء)

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /جبر اور جمہوریت