کافرکون ؟

کافرکون ؟
کافرکون ؟

  

بدقسمتی سے ہمارے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ نبی نہیں ہیں۔ وہ خود کو جو بھی سمجھیں مگر بہرحال عام انسان ہیں۔ وہ حق و باطل کا فیصلہ نہیں سنا سکتے۔ وہ دوسروں کے کفر و ضلالت کا فیصلہ نہیں سنا سکتے۔ اس لیے کہ نبی کی طرح انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عصمت اور کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ ان کی رائے غلط ہوسکتی ہے۔ ان کا فہم باطل ہوسکتا ہے۔ ان کی تحقیق غیر مستند ہوسکتی ہے۔ ان کا اجتہاد خطا ہوسکتا ہے۔ ان کا فکر حالات اور زمانے سے متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کی سوچ خواہشات و تعصبات کی اسیر ہوسکتی ہے۔ ان کے جذبات ان کی عقل پر غالب آسکتے ہیں۔ انہیں یہ حق ہے کہ پورے اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنی بات لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ مگر اسے دین بتانے کے بجائے اپنی رائے کے طور پر پیش کریں۔ نبی کی طرح اسے حق بنا کر پیش نہ کریں۔ انہیں یہ حق ہے کہ جس چیز کو غلط سمجھتے ہیں اسے غلط کہیں۔ مگر ساتھ میں دلیل دیں اور اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار رہیں کہ امکانی طور پر ان کی اپنی بات ہی غلط ہوسکتی ہے۔

پھر سب سے اہم بات جو یاد رکھنی چاہیے کہ اختلاف کرنے کا جو کچھ ان کا حق ہے وہ آراء کے بارے میں ہوسکتا ہے۔ کسی فرد کے بارے میں وہ کوئی رائے نہیں دے سکتے۔ اس لیے کہ جس شخص کی غلطی انہوں نے دریافت کی ہے، وہ ممکن ہے کہ اخلاص کے ساتھ اس نتیجہ فکر تک پہنچا ہو۔ ایسی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ قیامت کے دن کسی معاملے میں حکم لگانے والا (اگرعلم اور اخلاص کے ساتھ یہ کام کرے) توغلطی کی صورت میں بھی اپنے اخلاص کی بنا پر ایک اجر کا حقدار ہوگا،(بخاری ،رقم7352 مسلم،رقم1716)۔ ایسے کسی شخص کے متعلق مہم جوئی کرنا، اس کے کفر و ضلالت کے فتوے دینا، اس کی علمی آراء کی بنیاد پر اسے غیر ملکی ایجنٹ ثابت کرنا اس کے ایمان پر براہ راست حملہ ہے اور اس کی سزا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان کی ہے کہ جو کفر کا الزام لگائے گا وہ یا تو سچا ہے یا پھر خود اپنا ایمان کھو دیتا ہے:

’’حضرت ابن عمرؓ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ جب کوئی آدمی اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو ان دونوں میں سے کوئی ایک اس (کفر کے الزام) کا مستحق بن جاتا ہے۔‘‘ (بخاری،رقم5752۔5753، مسلم، رقم60)

اس کا سبب بالکل سادہ ہے۔ وہ یہ کہ کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی نیت نہیں جان سکتا۔ وہ اس کا دل چیر کر نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اس کے ذہن کے اندر نہیں اتر سکتا۔ سب سے بڑھ کر کسی دوسر ے کے متعلق رائے قائم کرنے والا خود غلط ہوسکتا ہے۔ وہ نبی نہیں۔ اس پر فرشتے نہیں اترتے۔ وحی نہیں آتی۔ اسے خدائی تحفظ حاصل نہیں۔ اس لیے یہ اس کا حق ہی نہیں کہ کسی دوسرے فرد کے متعلق کوئی رائے قائم کرے۔ رائے ہمیشہ دوسرے کی رائے کے بارے میں دی جاتی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اس کی شخصیت، آخرت، ایمان اور نیت کے بارے میں کوئی فیصلہ دینا اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ سب ہوتا ہے اور یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جن کا علم ایک خاص نقطہ نظر سے منسلک ہونے کی بنا پر بالعموم اپنے نقطہ نظر تک محدود ہوتا ہے۔ وہ بے چارے ساری زندگی صرف اپنا نقطہ نظر پڑھتے اور سنتے ہیں۔ انہیں اپنے علماء، اپنے لٹریچر، اپنے گروپ اور اپنے فرقے کے علاوہ کسی اور کی خبر نہیں ہوتی۔ وہ اسی محدود علم، خاص دائرے، متعصبانہ سوچ اور جذبات سے بھرپور کیفیت میں دوسرے کے حق و باطل، صحیح و غلط اور حتیٰ کے کفر و ایمان کا فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔ کاش یہ لوگ جانتے کہ اس جرم کی سزا کتنی بھیانک ہے۔ مگر یہ لوگ اپنے دائرے میں بند رہتے ہیں اور پورے یقین سے اپنے پیروکاروں کو بتاتے ہیں کہ ہم آخری سچ بیان کر رہے ہیں اور ہماری فکر سے اختلاف کسی صورت میں ممکن نہیں ہے۔ پھر وہ آگے بڑھتے ہیں اور اختلاف کرنے والے کے کفر اور پھر اس کے قتل کا فتویٰ دینے لگتے ہیں۔ یوں خد اکی دھرتی ان کے تعصبات کے سبب ظلم اور فساد سے بھر جاتی ہے اور معصوم لوگوں کی جان مال آبرو برباد ہونے لگتی ہے۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ