سندھ اور نواز شریف

سندھ اور نواز شریف
 سندھ اور نواز شریف

  

میاں محمد نواز شریف انتہائی سخت حفاظتی حصار میں حیدر آباد میں27 مارچ کو کارکنوں کا برائے نام کنونشن کر کے چلے گئے۔ ان کی آمد اور اعلانات سے کہیں غم اور کہیں خوشی ہوئی۔ نواز لیگ کے رہنما اور کارکن وزیراعظم سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے ناراض بھی ہوئے۔ بعض نے تو نواز لیگ کا علامتی جنازہ بھی نکالا۔ بنیادی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم اور لیگ کے سربراہ اتنے مختصر دورے پر آئے کہ کارکنوں کی تسلی نہ ہو سکی۔ سینیٹر راحیلہ مگسی کی دعوت پر ان کے گھر آئے وہاں سے ایک ہال میں گئے، تقریر کی اور واپس چلے گئے۔ اکثر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو اب تو یہ ہی شکایت رہتی ہے کہ ان کے قائدین ان سے تو ہاتھ ملا نے کا وقت ہی نہیں رکھتے ہیں۔ نواز شریف تو خود سیکیورٹی کے نام پر ایسے لوگوں کے حصار میں تھے، جن کی تربیت ہی شائد لوگوں کی بے عزتی کرنا ہوتی ہے۔ قریب آنے والوں کو دھکا دینا ہوتی ہے۔ جب لوگوں کو سیکیورٹی پاس دے کر بلایا گیا تھا اور داخلے کے دروازے پر چیکنگ بھی ہو رہی تھی تو پھر مسلح سیکیورٹی والوں کا لوگوں کو دھکا دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ برائے نام کنونشن میں یونی ورسٹی کے قیام کا اعلان، بلدیہ حیدرآباد کو امداد دینے کا اعلان، سندھ کے دیہات میں بجلی اور گیس دینے کا اعلان اور ہیلتھ کارڈ دینے کا اعلان ، خوش کن ضرور ہیں، لیکن ان پر عمل در آمد بڑا سوال ہے۔ یونیورسٹی کا قیام حیدر آباد کے شہریوں کا دیرینہ مطالبہ ضرور ہے، جس پر حکومت سندھ کو عمل کرنا چاہئے تھا، لیکن سندھ میں کئی یونیورسٹیوں کے قیام اور خود سندھ یونیورسٹی کے کئی اضلاع میں بیک وقت کیمپسوں کے قیام کے باوجود حیدرآباد شہر میں یونی ورسٹی قائم کرنے میں پیپلز پارٹی کے اکابرین کو نہ جانے کیا قباحت تھی یا ہے۔ بعض حلقے تو یہاں تک تبصرہ کرتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے رہنما تعلیم کے معاملے میں وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو قیام پاکستان سے قبل سندھ میں ہندو رہنما مسلمانوں کے معاملے میں ادا کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کو دانستہ تعلیم میں کئی سہولتوں سے دور رکھا جاتا تھا۔

وزیر اعظم کے اعلان کی روشنی میں وفاقی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کہاں اور کب قائم ہو گی، یہ کسی کے علم میں نہیں۔ایم کیو ایم نے ملک ریاض کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد میں یونیورسٹیوں کے قیام پر شادیانے بجائے تھے۔ گورنر عشرت العباد نے انہیں تین یونیورسٹیوں کے چارٹر منظور کر کے دیئے تھے۔ کراچی اور حیدرآباد میں الطاف حسین یونی ورسٹی اور بے نظیر آباد میں بے نظیر یونیورسٹی۔ حیدرآباد میں یہ ناکام تاثر دیا گیا تھا جیسے یہ پبلک یونیورسٹی ہو گی۔ جنوری2015 ء میں جب یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو کوئی یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں تھا کہ بلڈر کے ساتھ ساتھ ملک ریاض اب تعلیم کا کاروبار بھی کرنا چاہ رہے ہیں۔ انہیں زمین بھی الاٹ کر دی گئی،جس کی انہوں نے قیمت ادا کی، لیکن اگر یہی زمین نیلام کی جاتی تو اس کی قیمت، ادا کی گئی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہوتی۔ وہ تعلیمی ادارہ تجارتی مقاصد کے لئے قائم کر رہے ہیں تو زمین انہیں کیوں رعایتی قیمت پر دی گئی؟

وزیراعظم نے یونیورسٹی کے قیام اور بلدیہ کو بھاری رقم دینے کا اعلان بظاہر ایم کیو ایم اور حیدرآباد کے شہریوں کو خوش کرنے کے لئے کیا ہے اور واقعتا ایم کیو ایم کے مقامی رہنما پھولے نہیں سماتے ۔ بلدیہ حیدرآباد کے معاملات پر نظر رکھنے و الے ناقدین کہتے ہیں کہ 50 کروڑ روپے میں سب کو اپنا اپنا حصہ نظر آرہا ہے، جس کی وجہ سے چہروں پر خوشی نمایاں ہے۔ بلدیہ حیدرآباد کی کارکردگی مختلف حیلوں بہانوں کی وجہ سے صفر ہے۔ ماضی میں جب بھی بلدیہ حیدر آباد کو ترقیاتی کاموں کے لئے رقم فراہم کی گئی بندر بانٹ کی مثالیں قائم ہوئی ہیں اور جو بھی کام ہوئے ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت ہی نہیں کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے اعلان کے سبب حیدر آباد میں ان کی مسلم لیگ(ن) اپنے لئے لوگوں کے دلوں میں گنجائش پیدا کر سکے گی۔ لیگ کے اندر بھی رہنماء اور کارکن آپس کے ایسے اختلافات کا شکار ہیں، جن کی وجہ سے خلیج کم ہونے کے امکانات کم ہیں۔ مسلم لیگ(ن) جیسا کہ نواز شریف کی موجودگی میں خواجہ سعد رفیق نے اعلان کیا کہ سندھ میں آئندہ حکومت سازی کرے گی، اگر یہ اعلان کنوینشن کے شرکاء سے داد لینے کی وجہ سے کیا گیا تھا تو ٹھیک تھا، لیکن حقیقت میں آج بظاہر ایسا ممکن نہیں ہے۔ سندھ کے تمام اضلاع کا بغور جائزہ لیا جائے تو کوئی ایک ایسا حلقہ نظر نہیں آتا جہاں سے آج کی صورتِ حال میں لیگ کا امیدوار کامیاب ہوسکے۔ اس کامیابی کے لئے نواز شریف کو خود سندھ میں وقت لگانا ہوگا۔ انہیں پہلے مرحلے میں اپنی جماعت میں صفوں کو درست کرنا ہو گا، سندھ میں موجود رہنماؤں کے درمیاں توازن پیدا کرنا ہو گا اور انہیں اہداف سے آگاہ کرنا ہو گا۔ پھر اپنے اتحادیوں کو یہ ذہن نشین کرانا ہو گا کہ انتخابات میں کامیابی کے لئے انہیں یک جان ہونا پڑے گا۔ تب کہیں جا کر پیپلز پارٹی سے مقابلہ ہو سکے گا۔ ان اتحادیوں کو نواز شریف ہی ذہن نشین کرا سکتے ہیں کہ ان کی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ سے صوبائی اسمبلی میں بڑی دیوار کھڑی نہیں ہو سکے گی۔ ان اتحادیوں کے درمیاں کوئی نظریاتی اختلاف نہیں پایا جاتا سوائے اس کے کہ سب ہی اپنے آپ کو مقبول تصور کرتے ہیں ۔ مقبولیت کا خیال انتخابات میں خام خیالی ثابت ہوتی ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ٹھٹھہ سے شیرازی کامیاب ہوئے تھے ، ارباب غلام رحیم تھرپارکر سے کامیاب ہوئے تھے، کراچی سے حکیم بلوچ، ہمایوں خان، عرفان اللہ مروت اور شفیع محمد جاموٹ کامیاب ہوئے تھے، کئی حلقوں میں اتحادی آپس کی چپقلش کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہو ئے تھے۔ حکیم بلوچ ، عرفان اللہ مرورت اور ہمایوں خان لیگ چھوڑ گئے، پھر ایک ضمنی انتخابات میں لیگ کے صوبائی صدر اسماعیل راہو ذوالفقار مرزا کی مدد سے کامیاب ہوئے تھے ۔ اسماعیل راہو بھی کئی معاملات میں ناخوش نظر آتے ہیں۔راہو کے سیاسی مشیروں کا خیال ہے کہ حلقے میں لوگوں کے کام نہیں ہو رہے ہیں جو بد دلی کا سبب ہے۔ ہالہ میں مخدوم شاہ نواز مرحوم کے بھائی نظر انداز کئے جانے کے شاکی ہیں۔ شاہ نواز مرحوم سخت وقت میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے۔

سیاسی جماعتوں میں رہنما اور منتخب اراکین کسی نظریہ اور اتفاق کے بغیر شمولیت کر رہے ہیں اسی طرح کارکن اور عام لوگ بھی طے کر بیٹھے ہیں کہ انہیں اپنے کاموں کے سلسلے میں حکمران جماعتوں کے ساتھ ہونا چاہئے۔ حکمران یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان کی کامیابی اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ ایسے افراد جماعتوں میں شامل ہوں جو انتخابات میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہوں یعنی پیسے والے ہوں اور انہیں انتخابات میں کامیابی کے گروں سے آشنائی حاصل ہو۔ اس طرح کی کامیابی کا یقین توخود ستر کی دہائی کے مقبول رہنماؤں شیخ مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو کو بھی نہیں تھا، لیکن آج کے سیاسی رہنماؤں کے برعکس ماضی کے ان رہنماؤں کی کارکنوں اور عوام سے براہ راست ملاقاتیں رہتی تھیں، جس کی وجہ سے ان کی جماعتیں مقبول تھیں۔ سندھ میں آج پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف یا کوئی اور جماعت مقبولیت کے کسی پیمانے پر پوری نہیں اترتی ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر بیانات میں ایک دوسرے کا مقابلہ ہو رہا ہے،لیکن کارکنوں کی کسی قسم کی تربیت نہیں ہے اور نہ ہی عوام میں اپنے ہمدرد تلاش کئے جارہے ہیں۔ سب نے سمجھا ہے کہ معجزہ ہو گا اور وہ حکومت سازی کر سکیں گے۔

مزید : کالم