حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باوجود سی این جی سٹیشن کھلنا شروع ہوگئے،سوئی ناردرن نے بندکردیا

حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باوجود سی این جی سٹیشن کھلنا شروع ہوگئے،سوئی ناردرن نے ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر) آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن اور سوئی ناردرن آمنے سامنے آ گئے ۔ سی این جی ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر پٹرولیم و سیکرٹری پٹرولیم سے ملاقات میں گرین سنگل ملنے کے بعد پنجاب میں سی این جی کھولنے کا سلسلہ گزشتہ شام سے شروع کر دیا جبکہ سوئی ناردرن نے کھولے گئے سٹیشنوں کے کنکشن منقطع کرکے ان کو بند کرنا شروع کر دیا ہے ۔ سوئی ناردرن نے سی این جی کو گیس کی فراہمی کو پریشر سے مشروط کرتے ہوئے آج شام کے بعد اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور کسی بھی صورت میں سٹیشنوں کو کھلنے نہ دینے کا انتباہ دیا ہے ۔ سوئی ناردرن کے جی ایم ریحان نواز نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاور سیکٹر کو گیس کی فراہمی اولین ترجیح ہے ۔ اس وقت پاور سیکٹر کو 325 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کی جا رہی ہے ایک اور ائی پی یپیز کو 38 ملین کیوبک فٹ فراہم کی جائے گی اس کے بعد اگر گیس بچی تو سی این جی کو فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ سی این جی کو گیس کی فراہمی کا فیصلہ تا حال نہیں کیا ہے سی این جی سٹیشنوں کو گیس فراہم کئے جانے یا نہ کئے جانے کا فیصلہ پریشر دیکھ کر کیا جائے گا اگر پریشر کم ہوا تو گیس فراہم نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی این جی ایسوسی ایشن کے کہنے پر کھلنے والے پمپوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان کے کنکشن منقطع کر دیئے جائیں گے ۔ دوسری جانب آ ل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کی سپریم کونسل کے چیئرمین غیاث پراچہ نے ایک بیان میں پنجاب بھر میں شیڈول کے مطابق چار دن کیلئے سی این جی اسٹیشنز کھولنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور گیس کمپنی کے مابین معاملات کی وجہ سے سی این جی اسٹیشنز گیارہ دنوں سے بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے سی این جی سیکٹر اور عوام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اب جب کہ زمزمہ اور قادر پور گیس فیلڈز پوری طرح بحال ہو چکی ہیں، گیس کی کوئی کمی نہیں اور مکمل پریشر دستیاب ہے اور وزیر موصوف نے بھی کہہ دیا ہے کہ انہوں نے سی این جی بندش کا حکم جاری نہیں کیا۔ تو ہم نے پنجاب میں سی این جی اسٹیشنز شیڈول کے مطابق کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ غیاث پراچہ نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کے وفود نے لاہور میں سوئی ناردرن گیس کے ایم ڈی اور اسلام آباد میں نگران وزیر پٹرولیم اور سیکرٹری سے ملاقاتیں کیں۔ دونوں طرف سے ہمیں گیس بندش کے حکم نامے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا گیاحتیٰ کہ وزارت نے تو حکم نامہ جاری کرنے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس لئے ہم نے شیڈول کے مطابق لاہور، ملتان، شیخو پورہ، ساہیوال، اوکاڑہ، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ ریجنز میں سی این جی اسٹیشنز کھول دیئے ہیں ۔ غیاث پراچہ نے مطالبہ کیا کہ شارٹیج نہ ہونے کے باوجود لاکھوں صارفین کو سی این جی سے محروم رکھنے کی سازش کے کردار بے نقاب کئے جائیں اور نقصان کو پورا کیا جائے۔ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام گزشتہ روز سوئی ناردرن ہیڈ کوارٹرز کے باہر اپنے مطالبات کے حق میں پر امن مظاہرہ بھی کیا گیا جس کی قیادت راجہ شجاع انور، ماجد صدیقی، عرفان غوری، سمیع الدین اور دیگر کر رہے تھے، مظاہرین نے بڑے بڑے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا، ماریں گے مر جائینگے، سی این جی بچائیں گے، پنجاب میں ہی سی این جی بند کیوں، چیف جسٹس از خود نوٹس لیں، سی این جی ملکی دفاع کا اہم ذریعہ ہے، اس موقع پر مظاہرین نے نعرے بازی کی، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ شجاع انوار اور دیگر نے کہا کہ قادر پور گیس فیلڈ سے گیس بحالی کے باوجود سی این جی سیکٹر اور اس کے35لاکھ صارفین کو بلا وجہ محروم رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے بجٹ خراب ہو چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات روز سے ہماری گیس بند ہے جبکہ اب انڈسٹریل سیکٹر کی گیس بحال کر دی گئی ہے مگر ہمارے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک روا رکھا جا رہا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر سی این جی سیکٹر کی گیس نہ صرف بحال کرے بلکہ ہفتے میں چار روز فراہمی شروع کی جائے تاکہ مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف مل سکے۔

مزید :

صفحہ آخر -