مریم نواز کی درخواست ضمانت پر وکلاء صفائی کے دلائل مکمل، آج پھر سماعت

مریم نواز کی درخواست ضمانت پر وکلاء صفائی کے دلائل مکمل، آج پھر سماعت

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس علی باقر نجفی اور مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبروچودھری شوگر ملز منی لانڈرنگ میں گرفتار مریم نواز کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پرمریم نواز کے وکلا ء کے دلائل مکمل ہوگئے،نیب کے وکیل آج 31اکتوبر کو جوابی دلائل دیں گے،دوران سماعت ایک موقع پرفاضل بنچ نے ریمارکس دیئے کہ ہم یہ سمجھے ہیں کہ ملزمہ کبھی چودھری شوگر ملز کی ایکٹو شیئر ہولڈر نہیں رہی، ہم چاہتے ہیں اس کیس میں ہمارافیصلہ دوسری عدالتوں کو بھی رہنمائی فراہم کرے۔مریم نواز کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ایڈووکیٹس پیش ہوئے،مریم نواز کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ پاناما لیکس کیس میں جے آئی ٹی نے زیرنظر معاملہ کی انکوائری بھی کی تھی لیکن مریم نواز کے خلاف کچھ نہیں ملا تھا۔جے آئی ٹی نے 2017ء میں تمام تحقیقات کیں۔جے آئی ٹی کی طرف سے پہلے چودھری شوگر ملز کی ہی تحقیقات کی گئیں، حدیبیہ پیپر ملز اورشمیم شوگر ملزکی تحقیقات بھی کی گئیں،شمیم شوگر ملز کے حوالے سے بھی تمام اثاثے طاہر کئے گئے ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ 1165 ملین روپے مریم نواز کو والد سے گفٹ ملے تھے، مریم نواز نے 1991ء سے ٹیکس ریٹرن فائل کرنا شروع کی، وہ تب طالب علم تھیں، چودھری شوگر ملز کے شیئرز کو ایس ای سی پی ریگولیٹ کرتا ہے، اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو ایس ای سی پی خود کارروائی کر سکتا تھا۔ وکیل نے ضمانت کے دلائل کے حق میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے بھی حوالے دیئے۔

درخواست ضمانت

مزید : صفحہ آخر