روپے کی بے قدری اور وزیراعظم کی طِفل تسلیاں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے گھبرائیں نہیں عارضی مشکلات ہیں کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا روپیہ جلد مضبوط ہوگا سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ منی لانڈرنگ، ہنڈی اور حوالہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ملک میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں اور وہ قدم اٹھا رہے ہیں جس سے مستقبل میں ڈالر کی کمی نہیں ہوگی۔ وزیراعظم گزشتہ روز جب ایک تقریب میں اس طرح کی رجائیت پسندانہ باتیں کر رہے تھے۔کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی اڑان ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی اور اگر سٹیٹ بینک مداخلت نہ کرتا تو اس میں مزید تیزی کا امکان تھا کیونکہ ڈالر کی طلب جاری تھی اور مہنگے داموں خریدنے کے لئے بھی اس کے خریدار مارکیٹ میں موجود تھیّ اس وقت بھی کھلی کرنسی مارکیٹ میں ایک ڈالر کا نرخ 138روپے سے متجاوز ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ غیر ملکی قرضے بیٹھے بٹھائے ہی بڑھ گئے ہیں۔سٹاک مارکیٹ بھی کریش کر گئی ہے۔

چند روز پہلے جب آئی ایم ایف کی ٹیم اسلام آباد میں بیل آؤٹ پیکیج کے لئے مذاکرات کر رہی تھی تو بعض ایسی شرائط منظرِ عام پر آئی تھیں جن کے بارے میں حکومتی حلقوں کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ پاکستان کو یہ شرائط قبول نہیں اس لئے فی الحال بیل آؤٹ پیکیج نہیں لیا جا رہا مذاکرات کا اگلا دور جنوری میں ہوگا اور دوبارہ ان شرائط پر بات چیت ہو گی تاہم وزیراعظم نے اس دوران ’’پلان بی‘‘ تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کا بظاہر مقصد بیل آؤٹ پیکیج سے بچنا تھا تاہم اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مزید گرے گا اور شاید 150پر جا کر مستحکم ہو، اگرچہ حکومت کے وزیروں نے خود ہی متضاد باتیں کی ہیں۔ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ روپے کی گراوٹ کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں لیکن ڈالر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول نہیں کیا جائے گا ایک دوسرے وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ چند روز میں ڈالر نیچے آ جائے گا یہ تو وہ بات ہے جو خود وزیراعظم نے کہی لیکن لگتا ہے غیر محسوس طریقے سے آئی ایم آیف کی شرائط ہی مانی جائیں گی اور جب روپیہ گرتے گرتے خود ہی 150پر آکر ’’سنبھل‘‘ جائے گا تو آئی ایم ایف کی شرط تو پوری ہو گئی پہلے بھی حکومت نے بجلی اور گیس کی جو قیمتیں بڑھائی ہیں اور جن سے مہنگائی کے سونامی نے عوام کی پوری معیشت ہی تلپٹ کر دی ہے یہ اقدامات اگر حکومت نے اپنے طور پر کئے تھے یا آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط مانی تھیں تو مذاکرات میں یہ ایک مثبت پہلو کے طور پر موجود رہے، اب بھی اگر آئی ایم ایف سے کوئی پیکیج لینا ہے اور جنوری میں مذاکرات اسی مقصد کے لئے ہوتے ہیں تو پھر شرائط تو تسلیم کرنا ہوں گی البتہ حکومت اب تک اس سلسلے میں گول مول موقف اپنائے ہوئے ہے کیونکہ جو بھی اقدامات کئے گئے ہیں ان سے مطلوبہ نتائج نہیں نکلے اس لئے آئی ایم ایف کا پیکیج لینے کے سوا کوئی چارہ بھی نظر نہیں آتا۔

اسد عمر کا یہ کہنا کہ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول نہیں کریں گے اسی جانب اشارہ ہے اور اس کا اس کے سوا کیا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ڈالر کی بلند پروازی کو روکا نہیں جائے گا اور اس کی ’’قدرتی اڑان‘‘ جاری رہنے دی جائے گی اسد عمر کا یہ بھی موقف ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت ڈالر کو کنٹرول کرنے سے برباد ہوئی ان باتوں کا مفہوم تو یہی ہے کہ روپیہ کی قدر کم ہو گی اور آئی ایم ایف کا پیکیج بھی مل جائے گا، ویسے پیکیج تو جب ملے گا سو ملے گا اس سے پہلے بغیر کوئی قرضہ لئے عالمی قرضے ویسے ہی بڑھ چکے ہوں گے کیونکہ ڈالر اگر ایک روپیہ بھی بڑھتا ہے تو اس کا مطلب قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہے ایسے میں وزیراعظم کی اس طفل تسلی پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ روپیہ جلد مضبوط ہوگا۔ اگر کوئی غیر ملکی سرمایہ کاری آ بھی رہی ہے اور عملاً اس کا آغاز بھی جلد ہی ہو جائے تو بھی اس کے اثرات تو کہیں مستقبل میں جا کر مرتب ہوں گے۔فوری طور پر تو روپے کی بے قدری جاری رہے گی۔

اگر روپیہ اسی طرح رلتا رہا جس طرح حالیہ مہینوں میں ہوا ہے تو معیشت کے لئے کسی طور مثبت نتائج مرتب نہیں ہوں گے، درآمدی خام مال مہنگا ہو جائے گا اور اس سے جو مصنوعات تیار ہوتی ہیں ان کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور اگر یہ اشیاء برآمدات کے لئے ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگی برآمدی اشیاء کے کتنے خریدارہوں گے کیونکہ خریدار تو وہی چیز خریدے گا جو اسے سستی ملے گی پاکستان کی برآمدات میں جو مسلسل کمی ہو رہی ہے اس کی بہت سی دوسری وجوہ میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پیداواری لاگت زیادہ ہے ایسے میں امکان تو یہی ہے کہ حکومت نہ نہ کرتے آئی ایم ایف کی شرائط بھی مانے گی اور پیکیج بھی لے گی لیکن اس کے بعد مہنگائی کا جو نیا ریلہ آئے گا اس میں بہت کچھ بہتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ غربت کے خاتمے کا خواب تو منتشر ہو گا ہی، لاکھوں (یا شاید کروڑوں) لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے بیروزگاری کا نیا جھکڑ بھی چلتا ہوا نظر آتا ہے جس میں ان لوگوں کی ملازمتیں اڑ جائیں گی جو پرائیویٹ شعبے میں کام کر رہے ہیں ایسے میں عمران خان کا کٹے اور مرغے پالنے کا منصوبہ بھی کوئی رنگ نہیں جما سکے گا کیونکہ مویشیوں کا چارہ اور مرغیوں کی خوراک بھی مہنگی ہو جائے گی اس شعبے میں رسک فیکٹر تو پہلے ہی اتنا زیادہ ہے کہ کسی بھی وقت سرمایہ کاری کرنے والا اچانک اپنے سارے سرمائے سے محروم ہو سکتا ہے۔

اس وقت جبکہ جی ڈی پی کی شرح نمو کم ہو گئی ہے اور مزید کمی بھی بعید ازامکان نہیں سٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کرکے دس فیصد کر دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صنعت کار اور تاجر بینک سے جو بھی قرضہ لیں گے اس پر انہیں اضافی رقم بینکوں کو ادا کرنا ہوگی۔ کوئی بھی سرمایہ کار کسی بھی شعبے میں کلی سرمایہ کاری اپنی جیب سے نہیں کرتا اس کا بیشتر حصہ بینکوں کے قرضوں پر مشتمل ہوتا ہے ایسے میں اول تو صنعتیں لگ نہیں سکتیں اور جو لگیں گی ان کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ ایسے میں معیشت کی کوئی روشن تصویر تو نظر نہیں آتی البتہ زبوں حالی کے امکانات زیادہ ہیں ایسے میں اب وزیراعظم عمران خان ہُنڈی اور حوالے کی حوصلہ شکنی کے لئے سخت اقدامات کا اعلان کر رہے ہیں لیکن یہ وہی تھے جنہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ بیرون ملک پاکستانی اپنی رقوم بینکوں کے ذریعے نہیں ہنڈی کے ذریعے بھیجیں جن لوگوں نے ان کی اس بات پر ایمان لا کر ہنڈی کے ذریعے رقوم بھیجنا شروع کر دی تھیں کیا اب وہ یوٹرن لیں گے یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔وزیراعظم نے تو بہرحال اس معاملے پر اپنی رائے بدل لی ہے لیکن ان کے پیروکاروں کا کیا حال ہے اس کا اندازہ اس نتیجے پر ہے جو ان کے اقدامات سے نکلنے والا ہے۔ایسے میں معیشت میں بہتری کی امید رکھنا تو خوش فہمی ہو گا البتہ بربادیوں کے چرچے ضرور نظر آتے ہیں۔