اولیاء کی سرزمین پر ظلم

اولیاء کی سرزمین پر ظلم
اولیاء کی سرزمین پر ظلم

  

ملتان میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لئے سرسبز لہلاتے آموں کے کاٹنے کا بے رحمانہ منظر دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میری مرحومہ والدہؒ کہا کرتی تھیں ”درخت کاٹنے والے کی بھی وہی سزا ہونی چاہئے جو انسان قتل کرنے والے کی ہوتی ہے۔“  اور یہاں تو جرم دوہرا ہے،وہ کوئی عام درخت نہیں تھے پھلوں کے بادشاہ چونسہ کے درخت تھے جسے ہندوستانی ”ثمر بہشت“ کہتے ہیں۔جنت کے پھل کلہاڑوں اور آروں سے کاٹ ڈالے۔ہماری ملتان کی انتظامیہ اور وہ ڈویلپرز جنہوں نے سرسبز باغ اجاڑ دئیے، انہیں آموں کو کاٹتے ہوئے ذرا بھی رحم نہ آیا یہ سب کیسے انہوں نے کر لیا؟پھر یہی جواب ملا کہ دولت کو جب دیوی  مان کر اس کی پوجا کی جائے  تو پھر سب سے پہلے انسان کے اندر سے رحم کی حس ختم ہوتی ہے اور جب رحم ختم ہوجائے تو پھر سوچیں بانجھ، ذہن بنجرہونے سے  انسان بے بصیرت ہو جاتے ہیں ان کے اندر کی ہی بدصورتی ہوتی ہے جو تہذیب،اقدار اور کلچر کے خلاف چلنے پر شرم محسوس نہیں ہوتی۔

ہمارا یہی المیہ ہے بانجھ سوچیں اور خزاں رسیدہ بنجر اذہان انتظامی امور کنٹرول کررہے ہیں اور سرمایا دار ان کے ساتھ مل کر سانحے رقم کرکے اسے ترقی کا نام دے رہے  ہیں۔اولیاء کی سرزمین ملتان کے باسیو تم پر ہمیشہ افسوس رہے گا۔ ظالم لہلہاتے آم کے باغوں پر ظلم ڈھاتے رہے اور اولیاء کے شہر کے باسی خاموش تماشائی بن کر یہ سب دیکھتے رہے۔ حضرت شمس تبریزؒ  اور حضرت بہاوالدین زکریاؒ کے وارث دہائی دینے کی بجائے پراپرٹی کے دفاترکے چکر لگاتے رہے۔ آموں کے باغ اجڑ گئے۔ ملتان سے آہ بھی نہ سنائی دی۔اہل ملتان آواز اٹھاؤ اب یہ ویڈیودیکھ کر ہر زندہ  انسان اور پاک سر زمین سے محبت کرنے والے ہر پاکستانی کا فرض بن گیا ہے کہ وہ اس ظالمانہ فعل پر بھر پور آواز اٹھائے تاکہ  ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کو بھی خبر ہو کہ یہاں زندہ انسان بستے ہیں جو ان کی دولت کی دیوی کی پوجا کرنے کی بجائے اس پر احتجاج کرکے ان کو ایسے بے رحمانہ فعل سے باز رکھیں گے۔ کاش یہ ظلم نہ ہوا ہوتا۔ظالمو کچھ تو لحاظ کیا ہوتا کہ جو بزرگ اس سرزمین پر سوئے ہیں ان کی روحیں اس ظلم پر کتنی بے چین ہوئی ہوں گی۔

ملتان کے لہلاتے آمو ہم شرمندہ ہیں،ہم اس بے رحم نظام کے ہاتھوں تمہارا قتل نہ بچاسکے۔تم پر درندگی ہوتی رہی اور سب بے خبر رہے یا بے حس۔۔۔ میں اب جب بھی ملتان کا چونسہ کھانے لگوں گا تو ایک احساس جرم میرے اندر سے مجھے جھنجھوڑا کرے گا اور مجھ میں ہمت نہیں ہوگی کہ کھا سکوں  ویسے ہم ناشکرے لوگوں کااب کوئی حق نہیں کہ ہم پھلوں کے بادشاہ ثمر بہشت کو کھائیں۔ ہم اس قابل نہیں ہیں۔ سچ پوچھئے تو مجھے آموں کے اشجار کی ظالموں کے ہاتھوں کٹتے درد کی چیخوں سے زیادہ اہل ملتا ن اور پاکستانیوں کی بے حسی کی تکلیف زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔آج ا گر باغات اجڑنے اور اشجار کاٹنے پر خاموش رہے تو اس کی سزا ہم سب کو برابر ملے گی۔ہم صاف ماحول کو بھی ترسیں گے اور پھلوں کے ذائقے سے بھی محروم ہو جائیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -