ہوا میں پکی خوبانیوں اور سیبوں کی ہلکی ہلکی خوشبو گھلی تھی، آسمان پر بادل سے کبھی کبھی بارش کی بوندیں گرتی تھیں

ہوا میں پکی خوبانیوں اور سیبوں کی ہلکی ہلکی خوشبو گھلی تھی، آسمان پر بادل سے ...
ہوا میں پکی خوبانیوں اور سیبوں کی ہلکی ہلکی خوشبو گھلی تھی، آسمان پر بادل سے کبھی کبھی بارش کی بوندیں گرتی تھیں

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:145

ٹھیک ہے اس کورئین کو پنجابی نہیں آتی ہوگی۔جس کا فوری ثبوت یہ تھا کہ چند ہی لمحے بعد اس نے نوٹ بک بند کی اور اٹھ کر کمرے میں چلی گئی۔

احمد علی نے التیت جانے کا پروگرام مؤخر کرتے ہوئے کریم آباد بلکہ بلیو مون ہوٹل بلکہ اس لڑکی کے در پر ہی دائم پڑے رہنے کا اعلان کر دیا ۔ لیکن چیمے نے اسے اچھا شگون قرار دیتے ہوئے احمد علی کو التیت کی وجۂ شہرت یاد دلائی اور فوراً التیت پہنچنے کا مشورہ دیا۔ بات اس کے بھی دل کو لگی۔ اس”شگون“ نے ان کاالتیت پہنچنے کا شوق کئی گنا بڑھا دیا تھا۔وہ ناشتہ کیے بغیر التیت پہنچنا چاہتے تھے مبادا کو ئی لمحہ، قضا ہو جائے لیکن ہماری وجہ سے انہیں مجبورا ً ناشتے کےلئے مزید وقت ”ضائع“ کرنا پڑا۔

باہر بازار میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔دکانیں کھل رہی تھیں۔ طلبا و طالبات کے گروہ پیدل اور ویگنوں میں تعلیمی اداروں کی طرف روانہ تھے (ہنزہ میں شرح ِ خواندگی سو فی صد بیان کی جاتی ہے ،یہ تعلیمی انقلاب لانے میںسرسلطان محمد شاہ آغا خان سوم، بانی آل انڈیا مسلم لیگ، کا بنیادی ہاتھ ہے۔ شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم یعنی پرنس کریم نے کچھ عرصہ پہلے ایک اور انقلابی اقدام کیا ہے۔ انہوں نے تمام نوجوانوں کو تعلیم مکمل کرنے کے بعدبجائے نوکری ڈھونڈنے کے اپنا کاروبار کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے اثرات یقینا ً بہت دور رس ہوں گے)۔ 

ایک جاپانی میاں بیوی بلکہ بڈھا بڈھی بازار میں نظر آئے تو میں اور طاہر رک کر انہیں دلچسپی سے دیکھنے لگے۔وہ دونوں عمر میں پچھتر اسّی سال کے تو لازمی تھے۔بڈھی، جس نے سر پر ہیٹ اور گلے میں کیمرہ حمائل کیا ہواتھا، آگے تھی اور بڈھا اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اس کے نقش ِ قدم پر چل رہا تھا( جس طرح ہمارے ہاں اندھے بھکاری ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے، انتہائی کریہ آواز میں ”دے جا سخیا راہ ِ خدا ! “ گاتے ہوئے قطار میں چلتے ہیں)۔ وہ بازار کی چڑھائی اس سست رفتاری سے طے کر رہے تھے کہ حرکت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ وہ ایک گھونگے (snail) کے مانند رینگ رہے تھے۔ہر تین چار قدم کے بعد وہ رک کر سانس لیتے اور پھر رینگنے لگتے۔وہ ہنزہ آرٹ میوزیم کے پاس پہنچے تو بڈھی تو چار پانچ انچ اونچا تھڑا چڑھ کر اندر چلی گئی لیکن بڈھا عورت کے کندھے کی جگہ لکڑی کا ستون تھا م کر ہانپنے لگا۔ ہم ان کے شوق ِ سیا حت اور حو صلے سے بہت متا ثر ہوئے۔ہمارے ہاں یہ عمر سیاحت کی نہیں اللہ توبہ کی سمجھی جاتی ہے۔ بزرگ خود تو ”کسی “ حرکت کے لائق رہتے نہیں چنانچہ سارا وقت نوجوانوں کی حرکتوں سے قیامت کی آمدکا اندازہ لگانے اوراعلان کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ قیامت دراصل ان کا بڑھاپا ہوتا ہے جوانہیں خوفزدہ اور چڑچڑا رکھتا ہے۔جب ان کی جوانی نہیں رہی تو باقی کیوں جئیں۔ایک زمانے میں بزرگوں نے قیامت کےلئے چودھویں صدی کے خاتمے کی تاریخ دے رکھی تھی لیکن جب چودھویں صدی کے اختتام پر قیامت نہیں آئی تو تاریخ میں غیر معینہ مدت کےلئے تو سیع کر دی گئی۔ اب صرف نشانیاں بتا کر ہراس اور اخلاق کو فروغ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 

ناشتہ کر کے ہم دوبارہ شارٹ کٹ کے راستے التیت کی طرف اترے۔ کریم آباد کے بازار کو پیچھے چھو ڑتے ہی ساری ہل چل اور ہمہ ہمی غائب ہو کر ایک سکون آپ کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔نیچے چوک میں پہنچ کر قلعے کا پو چھا تو ہمیں مومن آباد والے راستے کی طرف جانے کو کہا گیا۔ دن چڑھ چکا تھا۔ لوگ اپنے کام دھندوں پر جا چکے تھے۔ ہوا میںپکی خوبانیوں اور سیبوں کی ہلکی ہلکی خوشبو گھلی تھی۔ کئی گھروں کی منڈیروں سے چیری کے یاقوتی پھلوں سے لدی شاخیں جھانکتی تھیں۔ آسمان پر جو بادل تھے ان سے کبھی کبھی بارش کی بوندیں گرتی تھیں۔ 

 التر سے آنے والا چشمہ یا کوہل مومن آباد سے ہو کر گزرتا ہے۔ مو من آباد فن کاروں اور ہنر مندوں کا گاؤں ہے۔ ہندوستان کے دوسرے خِطّو ں کی طرح یہاں بھی ایک زمانے میں گانے بجانے، ناچنے اور دست کاری سے تعلق رکھنے والوں کو عام لوگوں کےساتھ رہنے بسنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ تو یہ مومن آباد جو پہلے بریشال تھا کبھی انہی فن کاروں کا گاؤں تھا جو الگ بستی میں رہتے تھے۔ معاشرتی زندگی سے کٹ جانے والوں کا لب و لہجہ اور زبان عام معاشرے سے مختلف ہو جاتی ہے چنانچہ مومن آباد والوں کا لہجہ بھی عام بروشسکی سے ذرا مختلف ہے۔ 

 ایک ہی معاشرے میں کسی گروہ کی مختلف زبان کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ہمارے ہاں بھی طوائفوں، میراثیوں اور ہیجڑوں کی الگ زبان ہوتی ہے جسے ”فارسی“ کہتے ہیں۔ اگر وہ لوگ آپس میں گفتگو کر رہے ہوں تو عام آ دمی کو ایک لفظ بھی پلے نہیں پڑتا۔

اب زمانہ بدل چکا ہے اور اس کے ساتھ لوگوں کا رویہ بھی۔ ، وہ طبقاتی تقسیم بھی قصۂ پارینہ ہوئی، اب یہاں کے باشندے دیگر ہنزائیوں کی طرح ہی ہیں۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -