''موبائل چور'' 19 سال بعد بے گناہ قرار

''موبائل چور'' 19 سال بعد بے گناہ قرار

  



لندن (مانیٹڑنگ ڈیسک ) ہمارے ہاں بسا اوقات مجرم سالہا سال جیل میں قید رہتے ہیں لیکن ان کی بے گناہی یا گناہ ثابت نہیں ہوتا۔بسا اوقات کئی سالوں بعد بے گناہ ثابت ہونے پر ان کو رہا کر دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی واقعہ لندن میں پیش ا?یا۔رچرڈ اینتھنی نامی شخص ایک عورت سے پرس چھیننے کے الزام میں 1999ء4 میں گرفتار ہوا۔ اس وقت اس کی عمر صرف 19 سال تھی۔ اب پتہ چلا ہے کہ پرس چھیننے والا اس کا ہم شکل تھا ، جو چند ہفتے قبل گرفتار ہوگیا اور بے گناہ رچرڈ اینتھنی کو 19 سال بعد رہائی مل گئی ہے۔ امریکی جریدے کے مطابق اینتھنی نے پولیس کے سامنے اپنی بے گناہی کا رونا رویا۔اس نے بتایا کہ وقوعہ کے وقت وہ اپنے خاندان کے ساتھ تھا ، پولیس نے اس کی اور اس کے اہل خانہ کی گواہی مسترد کر دی تھی۔ پولیس کے نزدیک مظلوم کی گواہی ملزم کی گواہی سے زیادہ اہم ہوتی ہے اور اس کی ایک نہ چلی۔ اسے ایک عورت کی گواہی پر جیل بھیج دیا گیا جس کے بعد اس نے یونیورسٹی ا?ف کینساس کے بے گناہوں کی رہائی کے لئے کام کرنے والے ادارے سے رابطہ کیا۔ کینساس کے سماجی ماہرین نے اس کا مسئلہ سنا اور انہوں نے ریسرچ کی تو پتہ چلا اس کی شکل رک نامی شخص سے بہت ملتی ہے۔ اس کے نام کے پہلے حروف بھی ملزم کے نام سے ملتے جلتے ہیں۔ وکیل ایلیف گرے بھی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اصل مجرم رکی ا?موس ہے۔ رچرڈ بے چارہ ہم شکل ہونے کی سزا بھگت رہا ہے جبکہ رکی دندناتا پھر رہا ہے۔ پولیس نے تفتیش کے دوران شکلوں کی اس مشابہت کو نظر اندازکیا۔مگر بے گناہوں کی رہائی پر کام کرنے والی این جی او کے ماہرین ڈیٹا چیک کرنے کے بعد اصل مجرم تک پہنچ گئے۔ ماہرین کے مطابق دونوں کا ہیئر سٹائل ، تھوڑی کے کٹس اور قد کاٹھ ،ایک جیسا ہے۔ 200 پاؤنڈ اور 6 فٹ قد ، ایک انچ کا بھی فرق نہیں۔ دونوں کی عمریں ایک جیسی۔ وقوعہ پر ا?موس موجود تھا ، اس کی رہائش بھی قریب ہی تھی۔ واردات کے بعد وہ دوسرے گھر میں منتقل ہو گیا تھا۔ اسی گھر کو کرائے پر لینے والوں نے بتایا کہ یہاں رکی نامی شخص نے راہزنی کی تھی ، وہ کسی عورت سے کچھ چھین کر فرار ہوگیا تھا۔ یہ بات پولیس کے علم میں لائی گئی جس پر دوبارہ سماعت کا ا?غاز ہوا۔ عدالت میں رکی نے صحت جرم سے صاف انکار کر دیا۔ بعض افسر خود بھی رکی ا?موز کو مجرم ٹھہرانے سے گریز کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ رچرڈ کو مجرم ٹھہرانے والی جیوری بے وقوف نہ تھی۔فیصلہ سنانے والے جج معتبر تھے ، ایسی کوئی نئی شہادت نہیں ملی جو اس فیصلے کو بدل سکے۔ تاہم مظلوم عورت نے کہا کہ اس نے حملہ ا?ور کی شکل غور سے نہیں دیکھی ، اس چھینا جھپٹی میں وہ اس کی رنگت کو دیکھ سکی۔ شناخت کے وقت بھی اس نے رنگت کو اہمیت دی۔ دونوں کی تصاویر دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔ بالا?خر اس نے رکی ا?موس کی شناخت کر لی اور یہ مقدمہ دوبارہ چلایا گیا۔ عورت نے گواہی دی کہ اس کا مجرم رچرڈ نہیں بلکہ رکی ہی ہے چنانچہ ڈسٹرکٹ جج نے نئی شہادتوں کے پیش نظر اس کی رہائی کا فیصلہ سنا دیا۔ 19 سالہ قید کاٹنے کے بعد گزشتہ دنوں رچرڈ رہا ہو کر اپنے گھر پہنچا۔ اپنی دادی اور 19 سالہ بیٹی سے مل کر خوب رویا۔ جیل جاتے وقت اس کی بیٹی شیرخوارتھی ، اب وہ 19 سالہ جوان لڑکی ہے۔ یہ دنیا کتنی ظالم ہے ، ایک بے گناہ کو 19 سال کے لیے جیل میں ڈال دیتی ہے اور وہ بھی ایک سیل فون کی چوری کے الزام میں

مزید : صفحہ اول


loading...