مرثیہ کیا ہے؟

مرثیہ کیا ہے؟
 مرثیہ کیا ہے؟

  


بہت زیادہ سوال کِیا جاتا ہے۔’’مرثیہ کیا ہے؟‘‘۔سوال ضرور کرنا چاہئے۔سوال سے ہی جواب ملتا ہے اور شخصیت کی یعنی سوال کندہ کی صحیح پہچان ہوتی ہے تبھی تو مولا علیؓ نے ارشاد فرمایا: کلام کرو، تاکہ تم پہچانے جاؤ!

اور یہ بھی کہ:

تا مرد سُخنِ نگفتہ باشد

عیب و ہُنرش نہفتہ باشد

جب تک آدمی بولے گا نہیں، عیب و ہُنر اُس کے چُھپے رہیں گے۔ بولو! اور اپنے ہُنر کو عالم آشکارا کرو۔ مرثیے کے حوالے سے عام لوگوں نے، پڑھے لکھوں نے، پی ایچ ڈی سکالرز نے جو سوال اُٹھائے اُن کے جواب بلکہ مُدّللِ و مَسکت جواب ساحر لکھنوی نے ایک کتاب تالیف و تصنیف و مرتب کر کے دے دیئے۔ کتاب ہے:’’مرثیہ پر اعتراضات کا تنقیدی جائزہ‘‘۔ یہ تنقیدی جائزہ پیش کرنے والے کوئی عام اہلِ قلم نہیں، بہت خاص ہیں۔

اصل نام اِن کا سید قائم مہدی نقوی اِجتہادی ہے ادب کی دُنیا میں خصوصاً شاعری اور صنفِ مرثیہ گوئی میں ساحر لکھنوی کے قلمی اور مختصر ادبی نام سے اونچا مقام رکھتے ہیں۔متذکرہ کتاب کے علاوہ بھی اُن کی بہت سی ادبی، علمی، تنقیدی تحقیقی کتب ہیں جن کے وہ مُصنف، موّلف اور مرتب ہیں،مطبوعہ کتابوں کی مختصر فہرست میں بھی لگ بھگ ڈیڑھ درجن کتب اُن کے نام سے وابستہ ہیں۔جن میں طویل تحقیقی مقالۂ ’’خانوادۂ اِجتہاد کے مرثیہ گو۔۔۔ ’’فنِ تاریخ گوئی کا تنقیدی جائزہ‘‘۔۔۔صحیفۂ مدحث ]مجموعہ قصائد[ ۔ آیاتِ درد ]مجموعہ مراثی[۔ احساسِ غم ]مجموعہ مراثی[ ۔قطب شاہ سے ساحر تک ]مرثیہ[ ۔فِقہ و شمشیر ] مرثیہ۔مطبوعہ دہلی[ علم اور علماء ] شخصی مرثیہ مطبوعہ دہلی و کراچی[ یقینِ کامل۔ ]دینی مسائل و مباحث[ ۔۔۔ایمانی شہ پارے (تقدیم و تدوین)۔۔۔ ]دینی مضامین[ ۔۔۔لہو رنگ صحرا ]سلام، نوحے و روایتیں[ آئینۂ شمس نما ]تذکرہ[ ۔۔۔باتیں ہماری رہ گئیں ]ترتیب و تدوین[ ۔ ]حسین اعظمی مرحوم کی وفات پر[۔۔۔! ’’برصغیر میں اجتہاد کا آغاز‘‘ ]تحقیق و تذکرہ[ اور زیر نظر موجودہ کتاب’’مرثیہ پر اعتراضات کا تنقیدی جائزہ‘‘۔۔۔ اِس طویل، مختصر فہرست مطبوعاتِ ساحر لکھنوی کو دیکھتے ہوئے کس کی مجال کہ اتنے معتبر عالم و فاضل کی تنقید و تحقیق پر حرف گیری کر سکے۔استفادۂ عوام و خواص کے لئے موضوعِ زیر بحث پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ملخّص تحریر یُوں ہو گا وہ لکھتے ہیں: ’’اُردو مرثیہ خصوصاً کلاسیکی مرثیہ بلا خوفِ تردید اُردو شاعری کی آبرو ہے! اس سے زیادہ موقر وقیع اور لائق تحسین کوئی دوسری صنفِ سخن نہیں ہے،مگر المیہ یہ ہے کہ یہ آغاز ہی سے بعض حلقوں کی طرف سے تنقید اور اعتراضات کا ہدف رہا ہے،جتنا جتنا مرثیہ ترقی کرتا گیا اس پر تنقید کے ساتھ تحقیر و مذمت بھی شامل ہوتی گئی اور بات بات پر اعتراضات ہونے لگے۔

کبھی رِثائی ادب کی عظیم شخصیات انیس و دبیر کے حوالے سے کبھی خود صنفِ مرثیہ کے حوالے سے۔۔۔! مولوی عبدالغفور نساّخ بنگالی، اور مولوی شبلی نعمانی سے کلاسیکی مرثیہ کے دو عظیم ترین شعراء میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی دبیر پر اعتراضات کا سلسلہ شروع ہُوا جو کلیم الدین احمد جیسے نقادوں تک پہنچا۔لُطف یہ ہے کہ اِن تمام معترضین میں سے ایک بھی مرثیہ گو شاعر نہ تھا، مگر دورِ حاضر میں بعض جدید مرثیہ نگاروں نے بھی ان ناقدوں اور نکتہ چینوں کی سیرت پر سوچے سمجھے بغیر عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور کلاسیکی مرثیہ کی مذمت کو اپنا شعار بنا لیا ہے ‘‘۔۔۔ !

بعنوان’’یہ کتاب ۔۔۔ تعارف موضوع‘‘ کے ابتدائی متذکرہ پیرا گراف سے ہی ساحر لکھنوی کی محققانہ تنقیدی کاوش کے پروبال کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ 220 صفحات پر محیط 73,72 مآخذ کتب کے حوالے کے ساتھ کتاب مذکورہ معترضین کے مدلل جوابات سے مزین اوربہترین مثالوں سے آراستہ ہو کر اہلِ نقد و نظر کو تحسین و تائید کی طرف مائل کرتی ہے بلاشبہ ساحر لکھنوی صاحب!

ایں کا ر از تو آید و مرداں چنیں کُنند

چھوٹا منہ بڑی بات، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا ست‘‘ کچھ تسامح ایسے ہیں کہ نشاندہی کئے بغیر چارہ نہیں ۔۔۔ کتاب مذکورہ کے صفحہ 54ہر ایک مشہور شعر حضرت فانی بد ایونی کے نام سے یوں رقم ہے:

غم نہیں ممکن تو دو آنسو ندامت کے سہی

ضرور پڑھیں: "ہم ایک ہیں"

کچھ تو آخر حرمتِ خون شہیداں چاہئے

یہی شعر اسی کتاب کے صفحہ 191تک جاتے جاتے حسرت موہانی کو بخش دیا گیا ہے۔

غم نہیں ممکن تو دو آنسو ندامت کے سہی

کچھ تو آخر حُرمتِ خونِ شہیداں چاہئے

اب یہ کتاب کے قارئین پر منحصر ہے کہ وہ اس شعر کو فانی بد ایونی کا سمجھیں یا حسرت موہانی کا ۔۔۔ ہم بھی سرِدست خاموش ہیں، البتہ یہ ہم بتلائے دیتے ہیں کہ کتاب مذکورہ کے صفحہ 207 پر جو ایک مشہور شعر بغیر شاعر کے نام کے اس طرح درج کیا گیا ہے:

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

یہ شعر حسرت موہانی کا ہے اور پہلے مصرعے میں شاعر نے ’’خرد کا نام جنوں رکھ دیا‘‘ نہیں ’’جنوں پڑ گیا‘‘ کہہ رکھا ہے۔ گویا حسرت موہانی کا یہ شعر نک سک سے درست بالکل صحیح یوں ہے:

خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

فاضل مصنف ساحر لکھنوی نے صفحہ 194 پر ناخدائے سخن میر تقی میرؔ کا ایک بہت مشہور شعراس طرح تحریر کیا ہے:

سادگی اُس کے لب کی کیا کہیئے؟

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

جبکہ میرؔ نے لفظ ’’سادگی‘‘ نہیں ’’ناز کی‘‘ استعمال کر رکھا ہے: یعنی صحیح شعر اس طرح ہے:

نازکی اُس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

غلطیوں کی پکڑ نیک نیتی سے اِس لئے کی گئی ہے کہ کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں درستی کی جاسکے۔ کتاب موضوع و مواد کے اعتبار سے بے حد وقیع ہے اور پڑھنے کے بعد ہر گھر کی ’’بک شیلف‘‘ کی زینت بنائے جانے کے قابل ہے ۔۔۔۔۔۔ فاضل مصنف نے کلاسیکی مرثیے کے پھیلاؤ اور رچاؤ کے لئے مستند مثالیں دی ہیں۔ موقع کی مناسبت سے کلاسیکی مرثیہ کا ایک بند پنڈت گوپی ناتھ امن دہلوی کا درج کر کے اجازت طلب ہوں!

سجدے میں تھے حسینؓ تو گِھر آئے سب شریر

خنجر چلایا شمر نے، آخر تھا بَدخمیر

سجدہ تھا یہ کہ آپ کی تھی منزل اخیر

دُنیا سے آخر اُٹھ گئے اُمت کے دستگیر!

خیمے میں یہ صدا تھی کہ مولاکدھر گئے!

ہے ہے کہاں رسولؐ کے لختِ جگر گئے؟

ناصر زیدی

0301-4096710 ۔۔۔0332-4423335

مزید : کالم