دسمبر میں آٹے کا ”شدید بحران“ متوقع!

دسمبر میں آٹے کا ”شدید بحران“ متوقع!

  

بازار میں آٹے کی کمی اور نرخوں میں اضافے کی شکایات مل رہی ہیں، یوٹیلٹی سٹورز پر بھی چینی، آٹا اور آئل کی قلت ہو گئی ہے، فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر عاصم رضا احمد نے خبردار کیا ہے کہ دسمبر میں عوام کو آٹا ملنا مشکل ہو گا اور وہ قلت کی وجہ سے احتجاج بھی کر سکتے ہیں،خبروں کے مطابق ایسوسی ایشن کے اجلاس میں صوبائی صدر نے کہا کہ ان کی تنظیم نے گندم ذخیرہ کرنے اور خریدنے کی پالیسی اور عمل پر اعتراض کئے، جن کو رد کر دیا گیا اور فاضل گندم پیدا کرنے والے صوبے(پنجاب) میں بھی کمی ہو گئی ہے، انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن نے حکومت کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ آٹے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے مزید30لاکھ ٹن گندم کی ضرورت ہو گی،جو درآمد کرنا چاہئے،لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اب بھی حکومت کو فوری طور پر کمی پوری کرنے کے لئے 30لاکھ ٹن کا ہدف پورا کرنا ہو گا، ورنہ دو ماہ بعد بازار میں آٹا نہیں ملے گا۔فلور ملز ایسوسی ایشن کا یہ انتباہ خالی از علت نہیں کہ پنجاب حکومت کی طرف سے سرکاری گوداموں سے گندم مہیا کرنے کے باوجود بازار میں سرکاری نرخوں پر آٹے کی قلت محسوس کی جا رہی ہے، اور چکی آٹا74-75 روپے فی کلو بک رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی کابینہ کے اجلاس میں گندم کی درآمد میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا، تاہم فلور ملز ایسوسی ایشن اور سرکاری تخمینے میں بہت فرق ہے کہ تاحال درآمدی آرڈر تین لاکھ ٹن کے دیئے گئے اور تاحال آدھی گندم آنے کی اطلاعات  ہیں۔ یوں بھی یہ گندم اُس گندم سے زیادہ مہنگی ہو گی،جو فاضل قرار دے کر برآمد کر دی گئی تھی۔ وفاقی حکومت نے سبسڈی میں کمی کا فیصلہ کیا ہے اور یوٹیلٹی سٹورز کے لئے بھی کمی کی ہے، اس سب کے نتیجے میں اشیاء خوردنی کے نرخ بڑھ رہے ہیں۔اگر فلور ملز ایسوسی ایشن کا تخمینہ درست ہے تو حقیقتاً دسمبر تک شدید قلت ہو گی کہ ابھی سے یہ محسوس ہو رہی ہے،حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -