درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 47

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 47
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 47

  

لڑکا کچھ دیر تک باتیں کرتا رہا، پھر اس پر غنودگی طاری ہو گئی۔ شب کا ہنگامہ ختم ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ میں نے سوچا، شیر کا ادھر آنا تو اب ممکن نہیں،اس لیے بلی کی طرح کیوں نہ کچھ دیر آنکھ جھپک لی جائے۔نیند کی آغوش میں پہنچے ہوئے بمشکل چند لمحے ہوئے تھے کہ گارے کی جانب سے ایک گونج دار آواز آئی:

’’آؤووف۔۔۔‘‘

میں چونک گیا۔ایک بار پھر ایسی ہی آواز آئی۔یہ گویا شیر کی طرف سے اعلان تھا کہ’’مابدولت گارہے پر تشریف لے آئے ہیں۔‘‘

میرا ہاتھ رائفل کی طرف بڑھا اور اسی لمحے بلی نے کروٹ بدلی اور مچان چرچرائی۔کام خراب ہوتے دیکھ کر میں نے اسے جگایا اور کان میں کہا:

’’چپ چاپ لیٹے رہنا، شیر گارے پر آگیا ہے اور اب میں اس پر گولی چلا رہا ہوں۔‘‘

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 46  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بے چارہ لڑکا خوف سے کانپنے لگا اور مجھ سے چمٹنے کی کوشش کی۔ اب میں ایک نئی پریشانی میں پھنس گیا۔ لڑکے کو بتلاتا ہوں تو شیر ہاتھ سے نکلا جاتا ہے اور شیر کی طرف توجہ کرتا ہوں تو لڑکا اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے گا۔شیر سو کھے پتوں پر اطمینان سے گھوم رہا تھا اور اب میں منتظر تھا کہ کب ہڈی ٹوٹنے اور چپڑ چپڑ کرنے کی آواز آتی ہے۔صبح کاذب کے دھندلکے میں گارے کے پاس مجھے اس کی ہلکی سی جھلک دکھائی دی۔یکایک میں نے محسوس کیا کہ شیر اسی درخت کے نیچے کھڑا ہے جس پر مچان بندھا ہے۔میں نے گردن گھمائی، بلاشبہ شیر وہاں کھڑا تھا،کیونکہ اس کی آنکھیں اندھیرے میں تاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔شیر کو اتنے نزدیک پاکر بلی دہشت زدہ ہو کر بے ہوش ہو چکا تھا۔ میں نے رائفل کی نال پھیری اور فائر کرنے ہی والا تھا کہ شیر یک دم وہاں سے غائب ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ مچان پر جست کرے گا لیکن ایسا نہ ہوا تو میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہونے لگے۔کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ یہ شیر ہے یا چھلاوہ۔آخر وہ تھا کس داؤں پر؟شیر بھوکا ہو اور گارے تک آکر لوٹ جائے۔یہ کیسے ممکن ہے؟

وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔ صبح کاذب کا اندھیرا نور کے تڑکے میں بدل رہا تھا اور درختوں پر بسیرا کرنے والے پرندے سریلی آوازوں میں خدا کی حمد کررہے تھے۔مشرق کی طرف سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دم بدم آنے لگے اور مجھ پر ایک بار پھر غنودگی سوار ہونے لگی۔معاً عقب سے ایسی آواز سنائی دی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔میں نے فوراً بلی کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ چند لمحے بعد اس نے آنکھیں کھول دیں۔

’’تمہارے ساتھ دوسرا لڑکا کون تھا؟‘‘

’’مبرا بھائی گوپال۔۔۔‘‘اس نے سہم کر جواب دیا:’’کیا وہ یہاں آیا ہے؟‘‘

’’چپ ہو جاؤ۔۔۔بالکل چپ۔۔۔‘‘میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آواز کی طرف کان لگا دیے۔ہوا کے دوش پر آنے والا پیغام واضح اور صاف تھا۔ہڈیاں چٹخنے اور کڑکڑانے کی آواز اور گوشت چبانے کی چپڑ چپڑ سے ظاہر ہوتا تھا کہ شیر اپنا پیٹ بھرنے میں مصروف ہے۔خدارحم کرے۔مجھے اپنی حماقت پر طیش آنے لگا۔میں نے دو معصوم بچوں کے گاؤں واپس نہ پہنچنے کا قضیہ نظر انداز کرکے کیسا ظلم کیا تھا اور اب شیر،بدنصیب گوپال کو اطمینان سے اپنا لقمہ بنا رہا تھا۔ بلی کو پانے کے بعد اگر میں اسی وقت پوچھ گچھ کرکے گوپال کی تلاش میں نکلتا تو یقیناً اس کی جان بچ جاتی لیکن میں تو مچان پر بیٹھا رہا اور شیر کو تمام شب گائے اور بچھڑے کے گوشت سے محروم کرکے یہی سمجھتا رہا کہ میں نے بڑا کارنامہ کیا ہے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شیر نے گوپال کو جھاڑیوں میں بیٹھے دیکھ لیا تھا۔ اگرچہ وہ آدم خور نہ تھا لیکن بھوک اور غصے سے بے تاب ہو کر اسے لڑکے کو ہلاک کرنا ہی پڑا اور اس طرح اس نے پہلی بار انسان کا گوشت چکھ لیا ہے۔اب میرا واسطہ ایک خطرناک آدم خور سے تھا۔

****

صبح کاذب کے اختتام تک شیر اپنا پیٹ بھرتا رہا اور میں بزدلوں کی طرح مچان پر اس انتظار میں بیٹھا رہا کہ روشنی پھیلے تو شیر پر گولی چلاؤں۔خداخدا کر کے صبح کا اجالا مشرقی افق سے نمودار ہوا۔ درختوں کے سرمئی ڈیل ڈول تاریکی کے نیچے سے آزاد ہوئے۔تنوں اورپتوں میں رنگ آمیزی شروع ہوئی اور جنگل کی فضا رات بھر کی تھکن کے بعد تروتازہ اور صاف ستھری نظر آنے لگی۔میں نے رائفل پر سے شبنم کے قطرے پونچھے اور شیر کو دیکھنے کے لیے عقب میں نظر دوڑائی۔مچان سے قریب ہی جنگلی جانوروں نے اپنے آنے جانے کے لیے ایک علیحدہ پگڈنڈی بنا رکھی تھی۔یہ پگڈنڈی اسی جنگل میں جاتی تھی جدھر سے گوشت چیر نے پھاڑنے کی آوازیں آرہی تھیں۔شیر اب مجھ سے بہت قریب تھا،تاہم میں اسے دیکھ نہیں پایا لیکن آواز سے اندازہ ہوا کہ وہ قطعے کے عین وسط میں اگی ہوئی گھاس میں اپنی شکم پری کررہا ہے۔چکر کاٹ کر میں ایک تنہا جھاڑی کے قریب پہنچا۔حتیٰ کہ شیر مجھ سے دس گز کے فاصلے پر رہ گیا۔شیر کا جسم مجھے بخوبی نظر آرہا تھا اور وہ اطمینان سے ادھر ادھر دیکھے بغیر جبڑا چلارہا تھا۔ بدقسمتی سے شیر اس رخ کھڑا تھا کہ اگر ذرا گردن اٹھاتا تو مجھے دیکھ لیتا۔ایک لمحے کے لیے میرا ذہن بے کار ہو گیا۔سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں۔بہرحال اس گھاس کے اندر لاش کی مانند بے حس و حرکت پڑا رہا۔میں نے آخری بار رائفل کا معائنہ کیا اور شیر کی کھوپڑی پر نظر جماتے ہوئے نشانہ لیا ہی تھا کہ اسے خطرے کا فوراً احساس ہو گیا۔ہلکی سی غراہٹ اس کے منہ سے نکلی اور کھانا چھوڑ کر وہ سامنے دیکھنے لگا۔اس کی دم تیزی سے حرکت کررہی تھی۔ میں نے رائفل کی نال نیچے کرلی اور گھاس سے اور بھی چمٹ گیا۔

(جاری ہے , اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : آدم خور