پاکستان کے خلاف بھارت کابھاری بھرکم دفاعی بجٹ

پاکستان کے خلاف بھارت کابھاری بھرکم دفاعی بجٹ
پاکستان کے خلاف بھارت کابھاری بھرکم دفاعی بجٹ

  

گزشتہ روز لوک سبھا میں بھارت کے اپریل میں شروع ہونے والے آئندہ مالی سال کے پیش کردہ بجٹ کے تحت فوجی بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کر دیا گیاہے۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مالی سال 2017۔18ء کا بجٹ پیش کیا۔کل حجم 214 کھرب 70 ارب روپے ہے جنگی بجٹ میں دو لاکھ 74 ہزار کروڑ روپے یعنی 271 کھرب 40 ارب مختص کئے ہیں۔ اس میں فوجیوں کی پنشن کے 86 ہزار کروڑ روپے شامل نہیں۔ بجٹ کا بڑا حصہ نئے جنگی جہازوں اور جدید اسلحہ کی خریداری پر صرف کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فضائیہ میں روس سے خریدے گئے جنگی جہاز اپنی عمر پوری کر چکے ہیں جنہیں فوری طور پر جدید جہازوں سے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم مودی نے بجٹ کو سراہتے ہوئے اسے نئی نسل کا مستقبل قرار دیا جبکہ ان سے قبل حزب اختلاف کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اسے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نوجوانوں کی نوکریوں کے بارے میں کچھ نہیں جبکہ کسانوں کے لئے بھی سوائے لفاظی کے کچھ نہیں ہے۔ حکومت نے ٹیکس میں بھی رعایت کا اعلان کیا ہے۔ ارون جیٹلی نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے افراط زر کی شرح پر قابو پایا ہے معاشی ترقی کی رفتار کو مستحکم کیا گیا ہے۔ بجٹ میں کوالٹی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کئی نئی سکیموں کا اعلان کیا گیا۔ دفاعی بجٹ ان کے مجموعی بجٹ کا 12.78 فیصد ہے۔

بی بی سی کے مطابق ارون جیٹلی نوٹ بندی کے فیصلے کو حکومت کا ’جرأت مندانہ اور دلیرانہ‘ قدم قرار دیا۔ حکومت نے شعبہ صحت کے لیے بعض اہم اعلانات کیے ہیں اور کہا ہے کہ 2025 تک ملک سے ٹی بی کے مرض کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کسانوں کے قرض کے لیے دس لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال میں بھارت نے دفاعی بجٹ میں 11 فیصد جبکہ ا س سے قبل ساڑھے 10 فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔

بی بی سی کے مطابق بیرونی ممالک سے جنگی ساز و سامان خریدنے میں عالمی سطح پر بھارت اس وقت اوّل نمبر پر ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس کے دفاعی اخراجات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ دفاعی اور تجزیہ کار کموڈور اودے بھاسکر کا کہنا ہے چونکہ بھارت ہتھیار بنانے میں خود کفیل نہیں اس لیے بیرونی ممالک سے ہتھیار خریدنا اس کی ایک مجبوری ہے اور اس لیے بڑے دفاعی بجٹ کی ضرورت ہے۔ بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا امریکہ کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 600 ارب ڈالر ہے۔ چین کا تقریباً 100 ارب ڈالر ہے جبکہ بھارت کا تقریباً 45 ارب ڈالر ہے تو سٹریٹیجک نکتہ نظر سے یہ کوئی بہت زیادہ بجٹ نہیں ہے۔

بھارت نے اپنے جنگی منصوبہ ’’کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کا احیاء کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد اور ورکنگ باؤنڈری پر ہتھیاروں کے نت نئے نظاموں کی تنصیب شروع کر دی۔ اسی حکمت عملی کے تحت 464 جدید ترین ٹی۔90 ایم ایس ٹینک پاکستان کی سرحد کے قریب متعین کئے جا رہے ہیں۔ مذکورہ ڈاکٹرائن کے تحت نئی دفاعی خریداریوں کیلئے بھارت نے دفاعی بجٹ میں مزید دس فیصد اضافہ کیا ہے۔ ایک ذریعہ کے مطابق بھارت، پاکستانی صوبوں پنجاب اور سندھ کے ساتھ اپنی سرحد پر نئے ٹینکوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان پر سرعت سے اور اچانک حملہ کیلئے اس کی آرمرڈ کور، سٹیل کی ایک دیوار کا کام کرے۔

خیال رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے منگل کے روز اپنی پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان امن کے ساتھ رہنا چاہتا ہے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ہم مکمل تیار ہیں۔ اس ذریعہ کے مطابق بھارت کی طرف سے دفاعی بجٹ میں اضافہ اور پاکستانی سرحد کے ساتھ بھارت کی ہر فوجی تیاری جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ بھارتی بجٹ کا 12.78 فیصد دفاع کے لئے مختص کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے دفاعی بجٹ میں ایک اور سات کا فرق ہے۔ بھارتی معیشت کے بڑے حجم کے باعث پاکستان کیلئے ممکن نہیں کہ وہ بھارت کے ہر روپے کے مقابلہ میں روپیہ خرچ کرے۔ اسی لئے پاکستان کا یہ موقف ہے کہ بھارت دفاعی بجٹ میں اضافہ سے خطے میں روایتی طاقت کے توازن کو مزید بگاڑ رہا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ