نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ پچیسویں قسط

نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ پچیسویں قسط
 نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ پچیسویں قسط

  

تحریر: شاہد نذیر چوہدری

فیصل آباد ٹیسٹ کے دوران وقاریونس ان فٹ ہو گیا جس کی وجہ سے پاکستان 1981ء کے بعد پہلی مرتبہ ہوم گراؤنڈ میں ٹیسٹ ہار گیا۔وسیم اکرم کندھے کی تکلیف کے باعث تیسرا ٹیسٹ بھی نہ کھیل سکا اور جب شارجہ ٹورنامنٹ کاآغاز ہوا تو وہ اس کے لیے بھی نہ کھیل سکا۔یوں رمیض راجہ شارجہ میں بھی ناکام ہو گیا اور اس کی کپتانی مشکوک ہو گئی۔

میچ فکسنگ کا پہلا الزام

پاکستان کرکٹ ٹیم میں کپتانوں کی نیلامی کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ ایک دو سال میں پے درپے کئی کپتان تبدیل ہو چکے تھے جس سے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بہت سے بحرانوں سے بھی دو چارہونا پڑا۔بالآخر1995ء میں کپتانی کا قرعہ ایک بار پھروسیم اکرم کے نام ن کلا مگر اس بار اس نے کپتانی قبول کرنے سے پیشتر دو شرائط رکھ دیں اور ساتھ ہی کہا کہ وہ بااختیار کپتان بننا قبول کرے گا۔پہلی شرط یہ تھی کہ اسے سلیکشن کمیٹی میں شامل کیا جائے۔دوسری یہ کہ ایک سال سے پہلے اسے کپتان سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ بورڈ نے اس کی پہلی شرط تو مان لی لیکن دوسری میں یہ ترمیم کرکے مان لی کہ اس کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے کہ1996ء کے دورہ انگلینڈ تک وہ ہی کپتان رہے گا۔

وسیم اکرم جو چند سال سے اندرونی سازشوں کا شکار تھا۔ اب بیرونی بلکہ عالمی سازشوں اور الزامات کی زد میں آنے والا تھا۔اس کا پہلا امتحان آسٹریلیا میں شروع ہوا۔اس کے بعد نیوزی لینڈ کا دورہ شروع ہوا تواس میں اسے خاصی کامیابیاں مل گئیں۔پھر جب ورلڈ کپ1996ء کے گروپ میچوں کا آغاز ہوا تو پاکستان باآسانی کوارٹر فائنل تک پہنچ گیا۔یوں پاکستان کا نمبر دوسرا تھا اور کوارٹر فائنل میں اس کا مقابلہ بھارت سے ہو گیا۔اب یہ دونوں روایتی حریف ایک دوسرے کے سامنے تھے۔یہ میچ بنگلور میں ہوا۔اسی میچ نے وسیم اکرم کی عزت وناموس پرانمٹ دھبے لگا دیئے۔ان دنوں ہندو ہ انتہا پسندوں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو دھمکیاں بھی دینی شروع کر دی تھیں۔وسیم اکرم کو بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔ اس قدر ڈپریشن زدہ ماحول پیدا کر دیا گیا کہ پاکستانی ٹیم جونہی میدان میں اتری اس کے خلاف نعرے بازی شروع ہو گئی اور کھلاڑیوں پر بوتلیں وغیرہ پھینکی جانے لگیں۔

بدقسمتی سے وسیم اکرم کے کندھے کی تکلیف ایک برپھر جاگ اٹھی تھی اور وہ میچ نہ کھیل سکا۔لیکن وہ گراؤنڈ سے باہر کھڑے ہو کر ٹیم کا مورال بلند کیے ہوئے تھا۔پاکستان نے ڈٹ کر مقابلہ کیااس کے باوجود37سکور سے ہار گیا۔

چوبیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

وسیم اکرم کے وہم گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ یہ میچ ہارنے پر اس کے ساتھ کیا کچھ ہو گا۔ پاکستانی ٹیم بالخصوص لاہور میں وسیم اکرم کے خلاف جلوس نکالا اوراس پر میچ فکسنگ کے الزامات لگائے۔

اس کے گھر والوں کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں۔اخبارات نے الزام لگایا کہ اس نے بھارت سے ہارنے کے لیے دس ملین ڈالرز لیے ہیں اور یہ تمام رقم اس کی بیوی ہما کے اکاؤنٹ میں ہے۔جب وسیم اکرم ٹیم کے ساتھ لاہور واپس پہنچا تو پولیس نے انہیں حفاظتی حصارمیں گھروں تک پہنچایا۔

1996ء میں وسیم اکرم نے دورہ انگلینڈ کیا تووہاں بھی انگریز لابی نے اس پر بال ٹمپرنگ کا الزام عائد کر دیا۔سٹے بازی اور میچ فکسنگ کے الزامات تو اپنی جگہ برقرار تھے ہی ٹینشن کی وجہ سے اس کا وزن گرنے لگا۔ لیکن اس کے باوجوداس نے ہمت نہ چھوڑی اور کامیاب دورے کے بعد میں وہ جب واپس پہنچا تو زمبابوے کا دورہ بہت خوشگوار تھا۔ اس نے شیخوپورہ ٹیسٹ میں آٹھویں وکٹ کی شراکت میں ثقلین مشتاق کے ساتھ مل کر334سکور بنائے۔اس نے درجن بھر چھکوں کی مدد سے257سکور بنائے تھے۔شیخوپورہ ٹیسٹ وسیم اکرم کی زندگی کا سرمایہ ہے۔

(جاری ہے۔ چھبیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)۔

دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔

مزید :

سٹریٹ فائٹروسیم اکرم -