حج اور’’باسودے کی مریم‘‘ کی نئی مشکل

حج اور’’باسودے کی مریم‘‘ کی نئی مشکل
حج اور’’باسودے کی مریم‘‘ کی نئی مشکل

  


باسودے کی مریم کسی فردِ واحد کا نام نہیں۔ ہمارے گھروں میں، گلی محلوں میں، جاننے والوں میں،سب کے دل باسودے کی مریم جیسے ہیں۔ ممتاز افسانہ نگار اسد محمد خان کے افسانے ’’باسودے کی مریم‘‘ کو پڑھ کر دل میں جہاں عقیدت و محبت کی لہریں جنم لیتی ہیں، وہیں غربت کی وہ تصویر بھی اپنی پوری حیرانی اور حسرت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے جو یہاں بسنے والے کروڑوں انسانوں کا مقدر ہے۔

غریب کے پاس اس کے سوا ہوتا بھی کیا ہے، یہی تو ایک خواہش ہے، جس کے سہارے اس کے کٹھن شب وروز میں جینے کی امیدقائم رہتی ہے۔ ہر غریب کی طرح ، حج پر جانے کی خواہش اور پیسے پورے ہونے کی امید لیے ،باسودے کی مریم اپنی تنخواہ اپنے مکہ مدینہ فنڈ میں جمع کرتی رہی ۔جیسے ہی پتا چلا کہ پیسے پورے ہو گئے، ’’مریم نے تیاریاں شروع کردیں۔ وہ اُٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے گنگناتی رہتیں کہ ’’کھواجہ پیا جرا کھولا کِوڑیاں‘‘۔ ان پر مکے مدینے کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور ان کھڑکیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جی کے مقدس پیراہن کی خوشبو چلی آرہی تھی۔

کسی نے چھیڑنے کو کہہ دیا کہ تم کو ڈھنگ سے نماز پڑھنی تو آتی نہیں، قرآن شریف تو یاد نہیں ہے، پھر حج کیسے کرو گی؟ مریم بپھر گئیں۔ ’رے مسلمان کی بٹیا، مسلمان کی جورو ہوں۔ نماج پڑھنا کاہے نئیں آتی۔ رے کلمہ سریپ سن لے، چاروں قل سن لے۔

اور کیا چیے تیرے کو؟ ہاں اور کیا چیے؟‘‘‘ یعنی تجھے کیا چاہئے؟ پھر ان کے دل میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جی کے پیار کا چمن بھی کھلا ہوا تھا کہ یہی بہت تھا۔

پر غریب کے پیسے کبھی پورے ہوئے ہیں؟ جب حج کے پیسے پورے ہوتے ہیں تو کوئی افتاد ضرور آ جاتی ہے۔

سو باسودے کی مریم کا بیٹا ممدو سخت بیمار ہوگیا اور ’’مریم کی آنکھوں میں مکہ مدینہ دھندلا گیا۔ انہوں نے نو سینکڑے، تین بیسی، سات روپے چادر میں باندھے اور روتی پیٹتی باسودے کی بس میں جابیٹھیں‘‘۔پھر ممدو کے مرنے کے بعد ایک نیا مکہ مدینہ فنڈ کھولا گیا اور محض560روپے ہی جمع ہوئے تھے کہ چل بسیں۔ ہاں جاتے جاتے اماں کو ایک وصیت کی تھی۔

اسد محمد خان افسانے کے اختتام پرلکھتے ہیں’’ اماں حج کرکے لوٹیں تو بہت خوش تھیں۔ کہنے لگیں: ’’منجھلے میاں! اللہ نے اپنے حبیب کے صدقے میں حج کرادیا۔ مدینے طیبہ کی زیارت کرادی اور تمہاری انا بوا کی دوسری وصّیت بھی پوری کرائی۔

عذاب ثواب جائے بڑی بی کے سر۔ ہم نے تو ہرے گنبد کی طرف منہ کرکے کہہ دیا کہ’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! باسودے والی مریم فوت ہوگئیں۔ مرتے وخت کہہ رئی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جی سرکار! میں آتی ضرور، مگر میرا ممدو بڑا حرامی نکلا۔ میرے سب پیسے خرچ کرا دیئے‘‘۔

آقا ؐ کے حضور اقبال نے ’ از نگاہ مصطفیﷺ پنہاں بگیر ‘ جیسی عشق و احترام کے جذبات سے لبریز رباعی کہہ رکھی ہے اور بھی کئی شاعروں نے اس خیال کو برتا اور ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے، لیکن باسودے کی مریم کا انداز اس غریب عورت کا اندازہے جو عشق و جنوں کی ان باریکیوں سے واقف نہیں۔ وہ جو بظاہر پڑھی لکھی نہیں، وہ اس اماں کی طرح ہے جو گنبد خضریٰ کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی بوا کا سلام کملی والے تک پہنچاتی ہے ۔باسودے کی مریم اپنے شہر گنج باسودہ کے علاوہ بس دو ہی شہروں کو جانتی تھی؛ مکہ اور مدینہ۔

سچ پوچھیں تو یہ آس پاس پھرنے والے لوگ جو مشی گن جھیل میں برفانی سردی سے جمی ہوئی لہروں کی باتیں کرتے ہیں، بریگزٹ کے مسئلے پر برطانوی پارلیمان کی کارروائی کی خبر رکھتے ہیں،پاکستان میں چینی باشندوں سے شادیوں پر حیران ہیں،اور شام کی صورتِ حال پرپریشان ہیں، ان سے آپ اگر پوچھیں کہ خدا کی بنائی اس خوب صورت دنیا میں کہاں جانے کا شوق رکھتے ہیں،تو جواب ہو گا پیرس، وینس، قرطبہ۔۔۔لیکن زیادہ ترکی تو بات ہی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ پہلے تو اللہ اپنا گھر دکھائے یا سرکارؐ کی طرف سے حاضری کا بلاوا آئے۔ ایک تاہنگ سب دِلوں میں اندر ہی اندر کرلاتی رہتی ہے کہ مکے مدینے کب جانا ہو گا۔

ہمارے پسندیدہ افسانہ نگار اسد محمد خان نے کیسا شاہکار کردار بنایاجو کہ ہم سب کی عکاسی کرتا ہے۔پر دُنیا کے اُلجھے دھندے سلجھتے نہیں اور جانے کس نے کب یہ پتے کی بات سجھا دی کہ بچوں کی پڑھائی مکمل ہوجائے،مکان بن جائے،بچوں کی نوکریاں اور شادیاں بھی ہوجائیں تو پھر حج کی باری آتی ہے۔اس کے بعدسب باسودے کی مریم کی طرح مکہ مدینہ فنڈ بناتے ہیں۔ایک بار حاضری کی خواہش میں چلنے پھرنے سے معذوری اور بیماری کا ڈر بھی ساتھ رہتا ہے۔ پھر حج کی سرکاری سکیم میں پائی پائی جوڑ کر درخواست دینے والوں کو یہ مشکل بھی پیش آتی ہے کہ خدا جانے قرعہ اندازی میں کیا ہو۔ جب اپنے نام کا قرعہ نہیں نکلتا تو بلاوا نہ آنے کا دکھ اگلاسال اور اگلا موقع آنے تک اپنی خطاؤں کی گنتی میں مشغول رکھتا ہے۔

یہی سوچ کر صبر کرتے ہیں کہ شاید ابھی حاضری نصیب میں نہیں!پائی پائی بچاکر رکھے پیسوں میں نقب لگنے کا خدشہ تو غریبوں کو سال بھر رہتا ہے، سو دعائیں جاری رہتی ہیں کہ اگلے چند مہینوں میں خدا بیماری، گھر کی مرمت، حادثوں اور خاندان برادری کی خوشیوں اور غموں کو ٹالے رکھے۔اب جن لوگوں نے پائی پائی جوڑ کر حج کے لئے پیسے اکٹھے کئے ہوئے تھے اور اس برس وہاں جانے کے خواب دیکھ رہے تھے، اچانک پڑنے والی اس افتا د سے کیسے نبر د آزما ہوں گے، وہ دعائیں جو انہوں نے وہاں جا کر مانگنی تھیں جناب فواد چوہدری کے اعلان کے بعد نجانے کتنے اشکوں میں ڈھل گئی ہوں گی، شاید وزیر مذہبی امور کو ان دعاؤں کے بدعاؤں میں بدل جانے کا اندازہ تھا سو وہ ’فون کرنے کے بہانے‘ باہر چلے گئے اور حج پالیسی کا اعلان خود نہ کیا۔وضاحت دیکھئے کہ یہ سبسڈی صرف پچھلے برس دی گئی۔

اگر پچھلے برس بھی نہ دی گئی ہو تب بھی کرائے اتنے بڑھنے، روپے کی قدر گرنے اور مجموعی طور پر مہنگائی میں اضافے کے بعد اگر کچھ سبسڈی باسودے کی مریم کو مل جاتی تو حکومت کا چند ارب سے کیا جاتا؟اسد محمد خان صاحب، باسودے کی مریم کو آپ کے قلم سے ایک اور نوحہ درکار ہے۔

باسودے کی مریم نے پیسے تو اس سال کے لئے جوڑے تھے،پر حج کے آنے میں جو چند ماہ باقی ہیں، اس میںیہ غریب مزید ایک لاکھ چوہتر ہزار کیسے جوڑے گی؟ اور اگلے سال حج کا خرچہ خدا جانے کیا ہو۔ باسودے کی مریم کی نئی مشکل پرکون لکھے گا؟ اور خدا جانے ’’ٹرین‘‘ ہوتے ہوئے یہ لوگ آنے والے دنوں میں باسودے کی مریم کے ساتھ اور کیا کریں گے؟

مزید : رائے /کالم


loading...