اسلامی سربراہی کانفرنس:چند یادیں

اسلامی سربراہی کانفرنس:چند یادیں
اسلامی سربراہی کانفرنس:چند یادیں

  

پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس مراکش کے شاہ حسن نے رباط میں منعقد کرائی۔ اس وقت پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان تھے۔ جب وہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لئے کانفرنس ہال میں جاکر بیٹھے تو انہوں نے دیکھا کہ مسلم سربراہان کے درمیان ایک سکھ بھی براجمان ہے۔ جنرل یحییٰ خان نے اس کی موجودگی پر نکتہ اعتراض اٹھایا۔ صدر پاکستان کو بتایا گیا کہ یہ بھارت کا نمائندہ ہے۔ صدر موصوف نے پھر سوال اٹھایا کہ یہ اسلامی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس ہے ، بھارت یا بھارت کا نمائندہ اس میں کیسے شامل ہوسکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ملا کہ بھارت میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے حکومت نے اس سکھ نمائندے کو مبصر کی حیثیت سے بھیجا ہے۔ جنرل یحییٰ خان اس جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور کہا کہ اگر سب سربراہان اس جواب سے مطمئن ہیں تو میں شرکت سے معذرت کرتا ہوں۔ عجیب صورت حال پیدا ہوگئی اور بالآخر سکھ نمائندے سے معذرت کرکے اس کو کانفرنس ہال سے باہر بھیجا گیا اور پھر باقاعدہ پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کارباط میں افتتاح ہوا۔

دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس 1974ء میں پاکستان میں منعقد ہوئی۔ اس کے روح رواں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ 22 فروری بروز جمعۃ المبارک 1974ء بعد نماز جمعہ اس عالمگیر اہمیت کی تقریب کا افتتاح ہوا، جس میں 50کے لگ بھگ سربراہوں نے شرکت فرما کر تقریب کو رونق بخشی۔

اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد کے لئے لاہور میں اسمبلی ہال چنا گیا۔ ضروری انتظامات کی ذمہ داری کمشنر لاہور جناب اسد علی شاہ کی تھی۔ کانفرنس کے لئے تو اسمبلی ہال طے ہوگیا۔ مہمانوں کے قیام کا مسئلہ ان کے تحفظ، شہر کے تحفظ ان تمام مسائل کا حل کمشنر صاحب کے اہم کاموں میں شامل تھا۔ خوبصورت پرائیویٹ کوٹھیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ پہلے تقریباً ایک سو کوٹھیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ہر کوٹھی کا مالک خوشی کے ساتھ کسی مسلمان سربراہ کے لئے اپنا گھر دینا پسند کررہا تھا۔ ان میں سے بھی تقریباً 50کوٹھیوں کو فائنل کیا گیا۔ جس کی کوٹھی اس لسٹ میں آگئی اس نے بڑا فخر محسوس کیا کہ میرے گھر میں فلاں ملک کا سربراہ قیام پذیر ہوگا۔ اب ان کوٹھیوں کی تزئین و آرائش شروع ہوئی۔ گھر سے اسمبلی ہال تک کے راستے سجاوٹ سے آراستہ کئے گئے۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل کے لئے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس جائے قیام طے پایا۔

تقریباً 50سربراہوں اور سینکڑوں دیگر مہمانان گرامی کے شب وروز اور دیگر مصروفیات کو مربوط رکھنے کے لئے کنٹرول روم قائم کیا گیا۔ مکمل واپڈا ہاؤس چیف آف پروٹوکول جنرل رضا کے زیر استعمال تھا۔ ہر سربراہ کاآمد سے واپسی تک تمام پروگرام دیواروں پر چارٹوں کی شکل میں آویزاں کردیا گیا۔ کس سربراہ کو اگلی حکومتی شخصیت نے (صدر فضل الٰہی ) کس وقت لاہور ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہنا ہے۔ مہمان کے لئے کارمختص ۔ آگے پیچھے موٹر سائیکل سوار راستے طے شدہ ایئرپورٹ سے مہمان خانہ، اسمبلی ہال کے راستے طے شدہ واپڈا ہاؤس ، اسمبلی ہال، الفلاح بلڈنگ ، شاہ دین بلڈنگ اور قرب وجوار کی دیگر بلڈنگوں پر زبردست حفاظتی انتظامات سیکیورٹی گارڈز متعین ۔ اسمبلی ہال کے پیچھے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا مکمل انتظام اسمبلی ہال کی تزین وآرائش میں تمام نیا فرنیچر شامل تھا۔ جو میکلوڈروڈ کے امیر برادرز نے اعلیٰ درجہ کا تیار کیاتھا۔

پروگرام کے مطابق معززسربراہان نے نماز جمعہ کے لئے شاہی مسجد رات کے کھانے کے لئے شاہی قلعہ اتوار 24فروری کو شام کی چائے کے لئے شالیمار باغ جانا تھا۔ ان تمام راستوں کو اتنا سجایا گیا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سجاوٹ کی مثال نہیں ملتی۔ سارے مال روڈ پر بے شمار آرائشی محرابیں بنائی گئیں۔ اسمبلی ہال ، شاہی مسجد، شاہی قلعہ اور شالیمار باغ کی سجاوٹ قابل دید تھی۔ جو محرابیں کھڑی کی گئیں ان پر مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے خوبصورت الفاظ کا چناؤ کیا گیا۔ دل کی گہرائیوں سے اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا۔ شاہی مسجد میں شاہی دروازہ سے لے کر مین ہال تک سرخ قالین سے راہ داری بنائی گئی۔ قالینوں کے سوداگروں نے اپنے تمام قیمتی قالین اسمبلی ہال، شاہی قلعہ اور شالیمار باغ میں بچھانے کے لئے بڑی عقیدت سے دیئے۔ ہر قسم کے انتظامات بڑے اونچے پیمانے پر کئے گئے۔ جس نے بھی وہ تین دن دیکھے ہیں۔ وہ ساری عمر بھلا نہیں سکے گا۔ ہرچیز اور ہر کام کا ایک ہی معیارتھا ’’اعلیٰ ترین‘‘ مہمانوں کو تحفے میں دینے کے لئے اعلیٰ قالین، اعلیٰ نسل کے گھوڑے ، چاندی کے ظروف غرض ہرچیز معیار کی آخری حدکو چھو رہی تھی۔ تمام سربراہان کے لئے ایک چیز مخصوص اور مشترک تھی اور وہ چیز تھی سونے کے کف لنکس جن پر صدر پاکستان کا مونو گرام کندہ تھا۔ یہ سعادت راقم کو حاصل ہوئی۔ جناب اسد علی شاہ نے مجھے اس کا آرڈر دیا۔ اس کے کئی سیمپل تیار ہوکر جناب وزیراعظم کی خدمت میں پیش ہوئے۔ جو سیمپل پاس ہوا، اس کے مطابق 50جوڑے کف نکس تیار کئے گئے۔ کف لنکس کے بکس تک کا سیمپل پرائم منسٹر ہاؤس سے پاس ہوا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا ایک ترانہ بھی بنایا گیا ۔ عند اللہ عند اللہ ہم مصطفویٰ ، ہم مصطفوی، ہم مصطفوی ہیں۔ اللہ اکبر، اللہ اکبر ۔اس ترانے کے مخمل کے بکس میں ریکارڈ بناکر پیک ہوئے۔ یہ تحفہ پی ٹی وی کی طرف سے سربراہوں کو پیش کیا گیا ۔ چاندی سے پی ٹی وی بھی راقم نے بناکر دیئے ۔

21فروری رات تک لاہور دلہن کی طرح سج چکا تھا ۔ زیادہ سربراہان مملکت تشریف لاچکے تھے۔ جن جن راستوں سے مہمانوں نے گزرنا تھا نہ صرف انہیں بلکہ ان راستوں پر کھڑے درختوں اور سبزے کو بھی کارپوریشن کے ٹینکروں نے دھودیا تھا۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ آدھی رات کو اچانک طوفان بادوباراں شروع ہوا۔ سڑکیں اور درخت تو مزید دھل گئے۔ مگر تیز ہواسے آرائشی دروازے ، محرابیں، سجاوٹ بری طرح متاثر ہوئی۔ فجر تک یہ سلسلہ چلا۔ اس کے فوراً بعد انتظامیہ حرکت میں آئی مطلوبہ راستوں پر لیبر پہنچا دی گئی۔ جمعہ کا مبارک دن تھا۔ کچھ سربراہوں کی آمد ابھی تک جاری تھی۔

تین سال قبل مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تھا۔ مہمانوں نے اس کے صدر مجیب الرحمان کے بارے میں پوچھا۔ انہیں بتایا گیا کہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ مشاورت سے طے پایا انہیں فوراً دعوت دی جائے۔ دعوت لے کر قطر کے شیخ خود ڈھاکہ گئے اور اپنے جہاز میں مجیب الرحمن کو لے کر آئے۔ اس عرصہ میں نماز جمعہ کا وقت قریب تر تھا۔ سربراہوں کا قافلہ شاہی مسجد کے لئے روانہ ہوا۔ سڑک کے دونوں طرف پولیس پہرے دار گھروں کی چھتوں پر پولیس، عوام قطار در قطار مہمانوں کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب۔ تقریباً ایک سو کاروں کا جلوس ۔ ہرکار کے آگے پیچھے ملٹری پولیس کے موٹرسائیکل سوار دستے۔ ماحول میں بڑا وقار اور دبدبہ ۔ سواری کا اتنا حسین منظر جوابھی تک دوبارہ نہیں دیکھا۔ ہر سربراہ کار میں ہاتھ ہلاکر عوام کے جذبہ وعقیدت کاشکریہ ادا کررہا تھا۔ قافلہ شاہی مسجد پہنچ گیا۔ مین گیٹ سے اندر ہال تک سرخ قالین پر چل کر مہمانان گرامی اپنی جائے نشست تک پہنچ گئے۔ لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر انہیں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔

شاہی مسجد میں امامت کا سہرا سید عبدالقادر آزاد کے سر تھا، امام محترم مصلے پر تشریف لائے۔ مہمانوں نے صف بندی فرمائی۔ امام صاحب کے پیچھے شاہ فیصل مقتدی تھے۔ ذرا نروس ہوجانا بھی قدرتی عمل ہوتا۔ مگر امام آزاد صاحب نے بڑے اعتماد اور خوش الحانی سے نماز جمعہ پڑھانے کا اعزاز حاصل کیا اور امام السلاطین کہلائے۔ قافلہ اسی شان وشوکت سے واپس روانہ ہوا۔ مجیب الرحمان بھی لاہور پہنچ چکے تھے۔ تمام اسلامی ملکوں کے سربراہ اسمبلی ہال میں داخل ہوئے۔ اپنی مخصوص نششتوں پرتشریف فرما ہوئے اور تلاوت قرآن مجید سے اسلامی سربراہ کانفرنس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ عشائیہ شاہی قلعہ میں تھا۔ جس کے لئے قلعہ کو بالعموم اور شیش محل کو بالخصوص سجایا گیا تھا۔ شیش محل کے باہر ہاتھی پول کے چبوترے پر بڑی سٹیج بناکر ثقافتی محفل کا اہتمام کیا گیا تھا۔ راستوں اور گھروں کی چھتوں پر رات گئے تک پولیس موجود تھی۔ شاہ فیصل کھانے کے فوراً بعد سٹیٹ گیسٹ ہاؤس واپس تشریف لے گئے، باقی سربراہان اور مہمانان گرامی ثقافتی پروگرام سے لطف اندوز ہوتے رہے ۔ جس کا جس وقت دل چاہا وہ واپس جاتا رہا اور رات تقریباً 2بجے تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

چائے کی دعوت شالیمار باغ میں دی گئی۔ باغ کی سجاوٹ کو بیان کرنا اتنا آسان نہیں۔ سبزہ دھلا ہوا تھا۔ پھول کھلے ہوئے تھے۔ فوارے فضا میں پھوار بکھیر رہے تھے۔ بالائی تختہ کی بارہ دری میں سربراہان تشریف فرما تھے۔ درمیانے تختہ پر جھرنا اٹھکھیلیاں بھر رہا تھا۔ تالاب میں سفید بطخیں تیر رہی تھیں۔ تالاب کے درمیان جو چبوترہ ہے اس پر بینڈ نغمے بکھیر رہا تھا۔ سبزہ زار میں نشستوں پر معززین شہر اپنی نشستوں پر بیٹھے مہمانوں سے عقیدت ومحبت کا اظہار کررہے تھے۔ الحمد للہ راقم کو بھی اس تقریب سعید میں شرکت کا موقع ملا۔ پہلے تختہ جس بارہ دری میں سربراہان تشریف فرما تھے باری باری آگے بڑھ کر اہل لاہور کو اپنا دیدار کراتے۔ لوگ جس جذبہ کا اظہار کرتے، سربراہ بھی اسی جذبہ سے ہاتھ ہلا کر اس کا جواب دیتے۔ شاہ جہاں بادشاہ نے بھی شالیمار باغ میں بڑی محفلیں سجائیں۔ مگر اسلامی سربراہوں کی یہ محفل بڑی مختلف اور تاریخی تھی۔ اختتام پر سوگاڑیوں کا جلوس واپس روانہ ہوا۔ نظم وضبط جلوس کا حسن، موقع محل ، ہرزاویہ پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ اسلامی سربراہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ ملٹری پولیس کے موٹرسائیکل سواردستوں نے ہر معزز مہمان کی کار کو ایئرپورٹ تک پہنچایا ۔ صدر مملکت نے انہیں اللہ حافظ کہا اور ہرایک کے جہاز فضا میں بلند ہونے لگے۔ جس نکتہ پر دوسری سربراہی کانفرنس ختم ہوئی اس کا لب لباب تھا:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کا شغر

مزید :

کالم -