چند کڑوی گولیاں اشرافیہ کے لئے بھی؟

چند کڑوی گولیاں اشرافیہ کے لئے بھی؟
چند کڑوی گولیاں اشرافیہ کے لئے بھی؟

  



ذرا 5 جون2013ءکو یاد کیجئے (جسے گزرے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا) اس روز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے والی ہستی جناب نواز شریف نے قوم سے اپنے ابتدائی خطاب میں فرمایا کہ انہیں اس قدر مسائل ورثے میں ملے ہیں کہ وہ عوام الناس کے لئے کسی خوش کن مستقبل کا وعدہ فی الحال نہیں کر سکتے۔ جناب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ دِگرگوں معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے انہیں چند سخت اقدامات (جو ناگزیر ہو چکے) بھی کرنا ہوں گے اور اس سلسلے میں وہ عوام الناس کے تعاون کے خواست گار ہیں۔ پارلیمانی جمہوریتوں میں حکومتوں کے ابتدائی 90دن کے عرصے کو ہنی مون پیریڈ کہا جاتا ہے اس دوران وزارتوں کے قلم دان اہل افراد کو سونپے جاتے ہیں۔ بیورو کریسی کے اعلیٰ مناصب کے لئے بہترین افسران کا چناﺅ ہوتا ہے اور حکومتی تھنک ٹینک اگلے پانچ سال کے لئے دفاع، خارجہ اور خزانہ کے اہم ترین محکموں کے حوالے سے ابتدائی ہوم ورک کرتا ہے۔ اس دوران عوامی اعتبار سے نامقبول فیصلے کرنے سے گریز کیا جاتا ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) کی کم قسمتی دیکھئے کہ اسے اقتدار ایسے وقت نصیب ہوا (جون کے مہینے میں) جب اگلے مالی سال کا بجٹ آن پہنچا تھا موجودہ بجٹ (2013-14ئ) کے لئے ابتدائی تیاری پیپلزپارٹی کی حکومت کے آخری دنوں میں شروع ہو گئی تھی اور اسے پایہ تکمیل تک نگران حکومت کے دور میں پہنچایا گیا، لیکن اسے عوام کے سامنے پیش کرنے کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کی نومنتخب حکومت پر آن پڑی، جس نے اسے جوں کا توں پیش کرنے کی بجائے آخری لمحات میں کچھ سخت قسم کی ترامیم کیں جو عوام پر سخت گراں گزریں۔ مسلم لیگ(ن) کی معاشی ٹیم کے سربراہ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سابق وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے برعکس سخت فیصلے کر کے محاصل کی شرح بڑھانے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں اور ان کی اس خواہش کی بدولت بجٹ عوام کے لئے کسی ریلیف کا موجب بننے کی بجائے نئے ٹیکسوں کا انبار لے کر نازل ہوا۔

حکومت نے جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بڑھا کر 17فیصد کر دی، جس کی بدولت مہنگائی اور افراط زر میں 15فیصد تک اضافہ ہو گیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ملک میں مہنگائی کی لہر کا موجب بنتا ہے اور بجٹ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے عوام الناس کی مشکلات کو بڑھاوا دیا ہے۔ موبائل فون کے کارڈز پر لگنے والے ود ہولڈنگ ٹیکس سے بھی عام آدمی ہی متاثر ہوا۔ یکم جولائی 2013ءسے نافذ العمل اس ٹیکس کے ذریعے حکومتی محاصل میں اربوں روپے ماہانہ کا اضافہ ہو گا اور اگر اس رقم کو توانائی کے بحران کی بڑی وجہ گردشی قرضے ختم کرنے کے لئے ہی استعمال کر لیا جائے تو عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات مل سکتی ہے، باوجود اس کے کہ نئے ٹیکسوں سے عوام الناس کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ عوام الناس کی اکثریت اس بات پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ ان کی جانب سے دی جانے والی قربانی اگر ملک سے توانائی کے بحران کے خاتمے اور معیشت کے سدھار میں اپنا کردار کر سکتی ہے تو ایسی قربانی کا انہیں کوئی قلق نہیں۔ دوسری جانب عوام الناس اب اس بات پر بھی تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ ملک کے وزیراعظم نے عوام کو معیشت کی بہتری کے لئے جو کڑوی گولیاں تجویز کی تھیں وہ انہوں نے نگل لی ہیں (چار و ناچار) لیکن اس ملک کی اشرافیہ ملک کے لئے قربانی دیتے ہوئے کڑوی گولیاں نگلنے پر رضا مند دکھائی نہیں دیتی۔

1651 ارب روپے کا بجٹ خسارہ کم کرنے کے لئے لازم ہے کہ ملک کی اشرافیہ سے محاصل بڑھائے جائیں جس لئے چند اقدامات لازمی کرنا ہوں گے۔ (1) جاگیرداروں پر زرعی ٹیکس نافذ ہے، لیکن اس کی وصولی نہ ہونے کے برابر ہے، بڑے زمینداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا از حد ضروری ہے اور اس کے لئے سخت اقدامات کرنا ہوں گے(2) بہت سی صنعتوں کو ٹیکسوں میں خاص چھوٹ جاگیرداروں کو دی گئی ہے ، موجودہ حالات اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لئے تمام صنعتکاروں سے ٹیکسوں کی وصولی کو یقینی بنایا جائے(3) جس طرح لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد کی چند کالونیوں میں دو کنال سے بڑے مکانات پر ٹیکس عائد ادا کیا گیا ہے اس طرح کا ٹیکس لگژری ٹیکس کی مد میں ملک کے دیگر بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں واقع گھروں پر بھی عائد کیا جائے(4) مزید یہ کہ لگژری گاڑیوں، فائیو سٹار ہوٹلوں، بڑے کلبوں اور اس نوع کے دیگر مقامات جو محض مراعات یافتہ طبقے کے لئے مخصوص ہیں کے ٹیکسوں میں بھی اضافہ کیا جائے۔

نجی تعلیمی ادارے:

لاکھوں روپے سالانہ فیسیں وصول کرنے والے نجی میڈیکل کالجز، انجینئرنگ یونیورسٹیاں اور دیگر یونیورسٹیاں بلاشبہ اربوں روپے سالانہ کما رہی ہیں اور ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کا تعلق یقینا طبقہ اشرافیہ سے ہے اس لئے ان اداروں کو تعلیم کے پھیلاﺅ کے نام پر ٹیکسوں میں رعایت دینا عوام الناس کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔ نجی شعبے میں قائم میڈیکل کالجز سالانہ8سے10لاکھ روپے فی طالب علم وصول کرتے ہیں جن کو ادا کرنے والے ہما شما نہیں، بلکہ خواص میں سے ہیں۔ اسی طرح انجینئرنگ اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم دینے والی بعض یونیورسٹیاں 4سے5 لاکھ روپے فی سمیسٹر(8-10لاکھ سالانہ) وصول کر رہی ہیں اور ان اداروں میں بھی جاگیردار و صنعتکار اشرافیہ کے بچے ہی زیر تعلیم ہیں، لہٰذا ملک کے موجودہ معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے ازحد ضروری ہے کہ ان مہنگے تعلیمی اداروں سے بھی ان کی آمدن کے تناسب سے ٹیکس وصول کیا جائے۔

نجی تعلیمی اداروں پر ہی کیا موقوف اس ملک میں بہت سے ایسے نجی ہسپتال ہیں جو بخار کی دوائی کے ہزاروں روپے وصول کر لیتے ہیں اور کروڑوں روپے ماہانہ کما رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، حالانکہ ان میں داخل ہو کر علاج کروانے کا حق صرف اشرافیہ کو حاصل ہے۔ عام آدمی تو ان کے دروازے کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ بالکل اسی طرح سینکڑوں کی تعداد میں ایسی غیر سرکاری تنظیمیں ہیں جو کروڑوں روپے سالانہ عوامی بہبود کے نام پر (اندرون و بیرون ملک سے) بٹور کر عوامی فلاح کا کوئی کام کرتی ہیں اور نہ ہی اس رقم پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس ادا کرتی ہیں ان سے بھی باز پُرس کرنے والا کوئی نہیں۔ نومنتخب عوامی حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ اس ملک کے غریب عوام تو ملک کے خستہ حال معاشی حالات کے موجب قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں اور آئندہ بھی دینے کے لئے پُرعزم ہیں، لیکن کیا عوامی نمائندے اشرافیہ (جس کی پارلیمنٹ خود نمائندگی کرتی ہے) کو بھی اس بات کے لئے راضی کر پائیں گے کہ ملک کے بہتر مستقبل کے لئے وہ بھی چند کڑوی گولیاں نگلنے کے لئے تیار ہو جائیں؟     ٭

مزید : کالم