عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 13

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 13
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 13

  

لالہ شاہین کی یاد گار شہر کے جنوبی دروازے سے باہر فصیل شہر کے پہلو میں واقع تھی۔ یہ کسی زمانے میں شاہی پارک تھا لیکن آج کل یہاں قبرستان بن چکاتھا۔ خصوصاً طبقہ امراء اور سلطان کے خاندان کی قبریں اسی قبرستان میں بنائی جاتی تھیں۔ یہاں درختوں پر اُلو بولتے تھے۔ اور شاہی باغ کی ساری نشانیاں مٹی میں مل چکی تھیں۔ یہاں دن میں بھی آسیبوں کا بسیرا رہتا اور کبھی کبھار ہی کوئی شخص اس جانب سے گزرتا تھا۔

مارسی کی بگھی باغ کے اندر داخل ہوتی چلی گئی۔ نوعمر ترک کوچوان اپنے قد سے زیادہ ہوشیار تھا۔ وہ بگھی کو آبنوس کے درختوں کے سائے میں لے گیا اور گھنی جھاڑیوں کے عقب میں کھڑا کردیا۔ مارسی بگھی سے اتری اور یادگار میں موجود بارہ دری کی عمارت کی جانب چل دی۔ اس کی بھاری بھرکم چادر میں خراسان کا دو دھاری خنجر چھپا ہوا تھا۔ مارسی......... مارتھا کی بیٹی تھی، اور اپنی ماں کی طرح ہوشیار .............اور بہادر تھی۔ وہ اتنی ویران جگہ پر آتے ہوئے ذرا بھی نہ گھبرائی ۔ مارسی بوسیدہ بارہ دری کی سیڑھیوں پر پہنچی ۔ اور پھر بارہ دری میں داخل ہونے سے پہلے کسی قدر محتاط لہجے میں پکارا۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 12پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’سالار !.............محترم سالار!...........کیا آپ یہاں ہیں؟‘‘

مارسی اگرچہ قاسم کے نام سے واقف تھی لیکن وہ قاسم کو سالار ہی کہا کرتی تھی۔ مارسی کے پکارنے پر کوئی جواب نہ آیا تووہ یہ جان کر ٹھٹک گئی کہ قاسم ابھی تک نہیں پہنچا۔ مارسی نے قاسم کا گھوڑا ڈھونڈ نے کے لیے ادھر ادھر نظر دوڑائی لیکن شاید قاسم ابھی تک نہ آیا تھا ، حالانکہ اسے مارسی سے پہلے پہنچنا تھا۔ مارسی کو تشویش لاحق ہوئی اور اس کی گرفت اپنے خنجر پر مضبوط ہوگئی۔ لیکن اگلے لمحے مارسی کے عقب میں موجود جھاڑیوں کی اوٹ سے ایک لمبا تڑنگا نقاب پوش برآمد ہوا۔ یہ قاسم ہی تھا۔ قاسم نے آتے ہی مارسی سے کہا۔

’’میں معذرت چاہتا ہوں۔ دراصل میں کچھ دیر آپ کے ممکنہ تعاقب کا شک مٹاتا رہا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ کوئی آپ کے تعاقب میں ہے تو سامنے آجائے۔‘‘

مارسی نے ایک لمبی اور ٹھنڈی سانس لی۔ لیکن اسے یہ جان کر اطمینان ہوا کہ قاسم ایک محتاط شخص ہے۔ اب قاسم اور مارسی بارہ دری کی سیڑھیاں چڑھ کر نیم تاریک اور بوسیدہ چھت کے نیچے آگئے۔ بارہ دری کے فرش پر جگہ جگہ گھاس اگی ہوئی تھی۔ خزاں کا عروج تھا اور خشک پتے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹھنے کے لیے جگہ منتخب کی۔ اور وہ دونوں بارہ دری کے فرش پر ایک دوسرے کے نزدیک بیٹھ گئے۔یہ مارسی اور قاسم کی پہلی باقاعدہ ملاقات تھی۔ دونوں خاموش تھے۔

کافی دیر وہ ایک دوسرے کے قریب بیٹھے رہے۔ ان کی نظریں سامنے یادگار کی کھنڈر بنی ہوئی چاردیواری پر تھیں۔ دونوں کے دل کی کیفیت عجیب تھی۔ وہ ایک دوسرے سے کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن الفاظ کی تلاش میں ان کا ضرورت سے زیادہ وقت صرف ہورہاتھا ۔ بالآخر مارسی نے سکوت توڑا۔

’’غالباً آپ نے مجھے یہاں کسی کام کے سلسلے میں بلایاہے۔ ‘‘ مارسی کے لہجے میں ہلکا سا طنز بھی تھا۔ قاسم چونکا۔

’’ہوںںں!...........کام؟.............ہاں، واقعی میں نے آپ کو کام ہی کے سلسلے میں بلایا ہے۔‘‘

قاسم نے کسی قدر الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کیا واقعی اس نے مارسی کو کسی کام کے سلسلے میں بلایا ہے؟ پھر کام بھی کیسا؟ اس کے سامنے ساری صورتحال واضح تھی۔ مثلاً اسے ابوجعفر پر شک تھا۔ ابوجعفر مارسی کی ماں مارتھا کے گھر آتا جاتا تھا۔ مارتھا راسخ العقیدہ عیسائن تھی۔ سکندر بیگ مارتھا کے زیر سایہ جوان ہواتھا۔ لامحالہ سکندربیگ، ابوجعفر کے بھی قریب تھا۔ مارسی اپنی ماں ، ابوجعفر اور سکندر بیگ کے حالات سے واقف تھی لیکن خود کسی وجہ سے سکندر کو پسند نہ کرتی تھی۔ ہو سکتاہے یہ وجہ سکندر کا مزاج ہو۔ بہر حال یہ طے ہے کہ مارسی سکندر کے خلاف تھی۔

قاسم اسی طرح کی باتیں سوچتا رہا۔ اب قاسم ، مارسی سے مزید کیا پوچھتا ۔ کیا صرف یہی کہ ابوجعفر کے بارے میں اور کیا جانتی ہے۔ اور اگر صرف یہی بات تھی تو مارسی سے پوچھنے کی بجائے وہ ابوجعفر کے بارے میں براہ راست زیادہ بہتر کھوج لگا سکتا تھا۔ قاسم من ہی من میں سٹپٹا گیا........... تو آخر کس بات کے لیے اس نے مارسی کو یہاں بلوایا تھا۔ بالآخر وہ زیر لب مسکرایا اور اتمام حجت کے لیے اس نے وہی سوال کردیا.

’’میں دراصل آپ سے ابوجعفر کے بارے پوچھنا چاہتاتھا۔‘‘

نہ جانے قاسم کے لہجے میں کیا تھا کہ یکلخت مارسی کا قہقہہ نکل گیا...........قاسم نے سوچا یہ قہقہہ تو نہیں ہوسکتا۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی ہندوستانی مندر میں نقرئی گھنٹی بج اٹھی ہو۔ مارسی صرف حسین ہی نہ تھی بلکہ بڑی بھرپور اور پرکشش شخصیت کی مالک تھی۔مارتھا جیسی تجربہ کار ماں نے اسے بہادری سے بات کرنے اور تنقیدی نگاہ سے زمانے کو پرکھنے کا فن بھی سکھایا تھا۔ مارسی بھانپ گئی کہ قاسم کے دل میں چور ہے۔ غالباً محبت کا چور۔ لیکن وہ قاسم جیسے وجیہہ مرد کی وضع داری اور شرمیلے پن پر حیران تھی۔ اس نے شریر آنکھوں سے قاسم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

’’میں تو ابوجعفر کے بارے میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ مسلمانوں کا مذہبی پیشوا ہے۔ بغدادی دروازے کی مسجد میں خطیب اور پچھلے دوعشروں سے یہاں ادرنہ میں مقیم ہے۔ مزید یہ کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں اسے اپنے گھر آتا جاتا دیکھتی ہوں وہ میری ماں کے ساتھ گھنٹوں اکیلے کمرے میں بیٹھ کر یقیناً کسی خفیہ سرگرمی پر بات کرتا ہے۔ میری ماں کٹر مذہبی عورت ہے اور مسلمانوں کے خلاف کچھ بھی کر نے سے دریغ نہیں کرتی ۔ جہاں تک میرا اندازہ ہے، سکندرکو میری ماں اور ابو جعفر نے سلطان کے ساتھ بے وفائی کے لیے تیار کیا ہے۔ مجھے سکندر قطعی پسند نہیں۔ وہ بچپن سے میرے ساتھ پل کر جوان ہواہے۔ لیکن وہ فطرتاً کمینہ اور بدمزاج ہے..........بس یہی چند باتیں ہیں جو میں جانتی ہوں۔‘‘

مارسی کے بیان پر قاسم دل ہی دل میں مسکرادیا۔ اس نے جو کچھ سوچا تھا ، مارسی نے لفظ بہ لفظ وہی سب کچھ بتادیا۔ اب اسے یقین ہونے لگا کہ اس نے مارسی کو محض اس لیے نہیں بلایا۔ بلکہ اس ملاقات کے پیچھے کوئی اور جذبہ بھی ہے جو شروع شروع میں کافی دن تک بے نام سا رہتا ہے۔ اور پھر جب اسے دھیرے دھیرے نام ملتے ہیں تو وہ محبت کہلاتا ہے۔ قاسم کو یکلخت خود پر غصہ سا آنے لگا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا........... قاسم میاں! ہوش میں آؤ۔ تم ایک سپاہی ہو۔ تمہاری زندگی تمہارے دین کے لیے وقف ہے۔ تم کسی کے ساتھ عمر بھر ساتھ نبھانے کا پیمان کیسے باندھ سکتے ہو.......... اور پھر مارسی تو مسلمان بھی نہیں ، ایک عیسائی لڑکی ہے۔

معاً اسے خیال آیا اور اس نے مارسی سے ایک عجیب سوال کر دیا۔ ’’اچھا مارسی!...........آپ کی کہانی سے تو ایسے لگتا ہے جیسے آپ سلطنت عثمانیہ اور اسلام کے لیے اپنے مذہب عیسائیت کی نسبت ہمدردانہ جذبات رکھتی ہیں۔ کیا آپ کے دل میں کبھی اسلام کو سمجھنے کا خیال بھی آیا ہے؟‘‘

قاسم کا سوال بہت عجیب تھا۔ مارسی نے چونک کر قاسم کو دیکھا اور یکلخت سنجیدہ ہوگئی۔

’’قاسم صاحب!..............میں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق تعلیم حاصل کی اور پرورش پائی ہے۔ میرے رہن سہن ، عادات و اطوار اور رگ وپے میں اسلام جاری ہے۔ البتہ میں نے اسلام قبول کر نے کا رسمی اعلان کبھی نہیں کیا۔‘‘

’’مگر کیوں ؟ جب آپ اسلام سے اس قدر متأثر ہیں تو پھر وہ کیا رکاوٹ ہے جوآپ کو اس روشنی میں داخل نہیں ہونے دیتی؟‘‘ قاسم کو مارسی کے جواب سے مزید تجسس پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے دوسرے سوال پر مارسی نے کہا۔

’’کیا اعلان کرنا ضروری ہے؟ میں نے تو اب تک جو کچھ سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ ہر اچھی بات اور متوازن عمل اسلام ہے۔ اور جو کچھ متوازن نہیں وہ غیر اسلامی ہے...........میں کوئی غیر متوازن کام نہیں کرتی اور ہر اچھی بات کو پسند کرتی ہوں...............تو کیا اب میرا مسجد میں جاکر ابو جعفر جیسے پیشواؤں کے ہاتھوں پر رسماًاسلام قبول کرنا اور مارسی کی بجائے سکینہ نا م رکھ لینا بھی بہت ضروری ہے۔؟‘‘

مارسی کی بات سن کر قاسم کے چھکے چھوٹ گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک غدار عیسائی ماں کی بیٹی اس قدر صاحبہء علم اور سمجھدار ہوسکتی ہے۔ وہ مارسی کی معقول بات سے لاجواب سا ہوگیا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہنے لگا۔

’’تمہاری بات ٹھیک ہے۔ لیکن کیا یہ درست نہیں کہ ظاہراًبھی اسلام اختیار کر کے آپ کے لیے معاشرتی طور پر بہتر زندگی کے مواقع ہیں۔ مثلاًآپ کلمہ پڑھ لیں تو لوگوں میں آپ کی عزت و تکریم اور حیثیت بڑھ جائے گی۔‘‘

قاسم محسوس کر رہا تھا جیسے اس نے پھر کچھ غلط کہہ دیا ہے۔ مارسی نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ’’ ہاں! میں ایسا کرتی تو یقیناً بہتری کے مواقع بڑھ جاتے ۔ اور سب سے پہلے یہ ہوتاکہ سلطان اپنے منہ بولے مسلمان بیٹے سکندر کے ساتھ میرا نکاح کروادیتا جبکہ میں اسے ناپسند کرتی تھی۔ اور رہ گئی یہ بات کہ اسلام قبول کرنے سے لوگوں کی نظر میں ہماری عزت بڑھ جائے گی، اسلامی اعتبار سے بھی غیر معقول ہے۔ عزت تو بڑھنی چاہیے لیکن اللہ کی نظر میں۔ اور میں سمجھتی ہوں وہ محض اخلاص نیت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔‘‘

قاسم سوچ رہا تھا جیسے وہ کسی عام لڑکی کی بجائے کسی عالمہ فاضلہ کے پاس بیٹھا ہو۔ اب وہ مارسی پر مرمٹا تھا ۔ وہ حسین تو تھی ہی لیکن اس کی ذہانت اور انداز گفتگو اس کی شخصیت کو مزید نکھار رہے تھے۔ اسی خیال کے تحت قاسم نے پھر کہا۔

’’لیکن مارسی! آپ ظاہر اً اسلام قبول نہیں کریں گی تو آپ کی آئندہ زندگی کسی مسلمان جیون ساتھی کے ساتھ کیسے منسلک ہوگی؟ میرا مطلب یہ ہے کہ آپ عیسائی مذہب پر رہیں گی تو شاید آپ کی شادی بھی کسی عیسائی نوجوان کے ساتھ ہی ہوگی۔‘‘

قاسم نے سادہ سے انداز میں مارسی پر ایک اہم سوال کردیا۔ اس قدر دانائی سے باتیں کرنے والی مارسی کی پلکیں حیا سے جھک گئیں اور اس کے چہرے پر سرخ سرخ بجلیاں سی دوڑنے لگیں۔ شادی کے ذکر سے مارسی جز بز ہوکر رہ گئی۔ قاسم نے مارسی کے چہرے کو دیکھا تو اس کے دل میں خیال آیا........... ہونہ ہویہ لڑکی بھی مجھے چاہتی ہے۔ قاسم کو طمانیت سی محسوس ہوئی۔ مارسی نے قاسم کے سوال پر صرف اتنا کہا۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

’’مجھے ظاہری طو ر پر اسلام قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ میں تو اپنی ماں کے رویئے کی وجہ سے خاموش ہوں۔‘‘

مارسی خاموش ہوگئی ۔ قاسم اس کی بات سن کر خوشی سے پھولے نہیں سمارہا تھا۔آج گویا مارسی نے صرف مسلمان ہونے کا اعتراف ہی نہیں کیا تھا بلکہ ایک طرح سے پیغام محبت بھی قبول کر لیاتھا ۔ اب قاسم کسی قدر کھل کر کہنے لگا۔

’’مارسی! آپ کی سحر انگیز شخصیت نے مجھ پر جادو سا کر دیا ہے۔ آپ ایک خاتون ہوکر مردوں سے زیادہ عقل وشعور کی باتیں کر لیتی ہیں۔ اور آپ کی آنکھوں سے تو مجھے ڈر لگتا ہے ۔‘‘ آخری جملہ ادا کرتے ہوئے قاسم ذومعنی انداز میں مسکرادیا۔

مارسی نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔ ’’ڈر ؟ کیا اتنی بدصورت ہیں میری آنکھیں؟‘‘ساتھ ہی مارسی نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں پٹپٹائیں۔

قاسم نے مارسی کی حسین آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ ’’مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں کہیں ان جھیلوں میں ڈوب ہی نہ جاؤں۔‘‘

یہ کھلی شرارت تھی۔ مارسی چھوئی موئی سی ہوگئی۔ اس کا چہرہ گلنار ہوچکا تھا۔ وہ زبان سے کچھ نہ بولی، بس ایک بارکسمسائی اور پھر زیر لب مسکرادی ۔ قاسم نے لوہا گرم دیکھا تو پھر مخاطب ہوا۔

’’مارسی !اگر مجھے زندگی میں آپ کے مشوروں کا ساتھ ہو تومیں شاید دنیا کا آدھا فساد مٹانے کی جرأت کرسکوں۔‘‘

مارسی ، قاسم کے تراشیدہ جملے پر دل ہی دل میں عش عش کر اٹھی۔ اب وہ کچھ کہنا چاہتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے الفاظ کا سہارا لیا۔

’’میرے مشورے آپ کی بصیرت سے زیادہ نہیں ہوسکتے ۔ میرے لیے اس سے بڑا رتبہ کیا ہوگا کہ میں آپ جیسے سچے اور شجاع سالار کی مشیر کہلا سکوں۔‘‘قاسم کا دل بلیوں اچھل رہاتھا۔ گویا مارسی نے اس کا اقرار وفا تسلیم کر لیاتھا۔ اچانک مارسی کو شرارت سوجھی اور وہ کہنے لگی۔

’’سالار صاحب ! کیا آپ نے اسی قسم کی گفتگو کے لیے مجھے یہاں بلایا تھا .............میں تو سمجھی تھی کہ ملک وملت کا کوئی فریضہ آپ کو یہاں اس کھنڈرمیں کھینچ لایا ہے۔‘‘

قاسم ایک دم خفیف سا ہوگیا۔ اس نے جھینپتے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’دراصل محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔‘‘

قاسم نے محاورے کا سہارا لیا تھا۔ لیکن مارسی نے یک لخت ایک نئے رنگ میں بات کی۔ ’’نہیں حضور !یہ بالکل غلط فلسفہ ہے۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز نہیں ہوتا۔ بہت کچھ ایسا ہے جو نہ محبت میں جائز ہے نہ جنگ میں ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جائز اور ناجائز قرار دینے کا فیصلہ انسانی نقطہء نظر کے خیال سے کیا جائے۔ یہ محاورہ تو حیوانات پر منطبق ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز سمجھتے ہیں۔‘‘

اب قاسم کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگا۔ اس قدر قابل اور دانا لڑکی اس کے اعصاب پر سوار ہو رہی تھی۔ اس نے اپنے اندر کے خوابیدہ انسان کو آواز دی اور اگلے لمحے مارسی کو حیران کردیا۔

’’مارسی!اس میں کچھ شک نہیں کہ آپ کی نظر گہری باتیں بھی پرکھ لیتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ محبت بھی جنگ ہی کا دوسرا نام ہے، یا جنگ محبت کا۔ میں ایک سپاہی ہوں ۔ ملک وملت کی بقاء کے لیے جنگ لڑنا میرا فریضہ ہے لیکن محبت میرے لیے اس فرض کی تکمیل کا راستہ...........اس لحاظ سے میں نے محبت کے لیے بولا ہو یا ملک وملت کے لیے ، ایک ہی بات ہے۔‘‘

قاسم کی خوبصورت بات سے مارسی کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اب وہ لاجواب ہوچکی تھی۔ چنانچہ خفت آمیز انداز میں محض ہنس کر خاموش ہوگئی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح