کامیابی کا ذریعہ۔۔۔ اطاعتِ رسولﷺ!

کامیابی کا ذریعہ۔۔۔ اطاعتِ رسولﷺ!

نبی کریمﷺ تمام انسانیت کے لیے قابل عمل نمونہ بنا کر مبعوث کیے گئے۔ تمام لوگوں کو اس بات کا پابند قرار دیا گیا کہ وہ زندگی کے ہر گوشے میں آپ کی اتباع کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کو آپ کے ساتھ خاص کر دیا، پس جس نے آپ کا راستہ اپنایا، وہی ہدایت یافتہ کہلائے گا۔ آپ کے بیان کئے ہوئے طریقے سے ہٹ کر اور دوسروں کی پیروی کر کے انسان کبھی ہدایت یافتہ نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر موسیٰؒ بھی زندہ ہو کر اس دنیا میں آجائیں تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ نہیں ہو گا۔ ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو رسولِ کریمﷺ کا امتی کہتا ہے، وہ اپنے اس دعویٰ میں اسی وقت سچا ہو سکتا ہے جبکہ وہ آپﷺ کے تمام اقوال اور افعال کسی تاویل اور حجت کے بغیر برضا و رغبت قبول کرے۔ اگر مسلمان نبی کریمﷺ کی اتباع کے اس معیار پر پورا اترتا ہے تو وہ ان تمام فوائد و ثمرات کو حاصل کرنے کا مستحق ہے جن کا قرآن و سنت میں جابجا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

نبی کریمﷺ صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی کرتے ہیں، گویا جو آپ کی پیروی کرتا ہے، وہ صراطِ مستقیم پر چلنے والا ہے۔ یہ اعزاز و مرتبہ کائنات کی کسی اور ہستی کو حاصل نہیں کہ اس کی پیروی کرنے سے اس عظیم شان کے مستحق بن جائیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نبی کریمﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرماتے ہیں:(ترجمہ) ’’بے شک آپ راہِ راست کی طرف راہنمائی کر رہے ہیں۔‘‘

جو شخص نبی کریمﷺ کی تمام امور میں پیروی کرتا ہے، آپ کے احکامات کو تاویل و حجت کے پھندے میں نہیں الجھاتا تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ ہونے کی بشارت دی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (ترجمہ) ’’ہدایت تو تمہیں اسی وقت ملے گی، جب تم رسولؐ کی اطاعت کرو۔‘‘

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

اللہ تعالیٰ نے ہم پر لاتعداد انعامات فرمائے اور بے پناہ نوازشات کی برکھا برسائی، اب ہم پر یہ واجب ہے کہ ہم اپنے خالق کے تمام احکامات کے سامنے سرِتسلیم خم کر دیں اور ان کے احکامات کو ماننے کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ انسان نبی کریمﷺ کی غیر مشروط اتباع کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت نبی کریمﷺ کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ)

’’جو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے، اس نے گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔‘‘

انسان عاجز اور بے کس ہے، لیکن اس کا مالک بے پناہ قدرت اور طاقت والا ہے ۔کمزور کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ کوئی طاقتور اس کی ڈھارس بندھائے، انسان چاہتا ہے کہ اس کا مالک اس سے محبت کرے، کیونکہ انسان کے تمام مصائب کا سبب غالباً اس کے گناہ ہی ہیں، تو جب گناہ معاف کر دئیے جائیں گے تو مصائب خود بخود ختم ہو جائیں گے لیکن ان دونوں کامیابیوں کی کلید یہ ہے کہ نبی کریم ؐ کی پیروی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ)

’’اے رسول! کہہ دیجئے، اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو، (اس کے بدلے میں) خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘

انسان اس بات سے بے خبر ہے کہ کس دم اس پر کوئی مصیبت آجائے، کس گھڑی وہ کسی بیماری کا شکار ہو جائے اور کس وقت اسے کوئی اذیت پہنچ جائے۔ پس اسے اس بات کی ضرورت ہے کہ کائنات کے تمام امور چلانے والا اللہ اس کے حال پر رحم کرے، اس پر اپنی رحمتوں کے دروازوں کو کھول دے۔ لیکن رحمتوں کا نزول اس بات کے اندر پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:(ترجمہ) ’’اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘

کامیابی دوقسم کی ہے: دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی۔ دنیا کی کامیابی کو بہت سے لوگ مختلف ذرائع سے حاصل کر لیتے ہیں لیکن آخرت کی کامیابی جو انسانیت کے وجود کا اصل راز ہے، اس صورت میں ممکن ہے کہ رب العالمین اور اس کے بھیجے ہوئے رسول کریم ؐ کی اطاعت کی جائے لیکن بہت سے لوگ دنیا کی فانی کامیابی کے لیے آخرت کی ابدی کامیابی کو قربان کر دیتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: (ترجمہ)

’’اور جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، (تو) اس نے عظیم کامیابی حاصل کر لی۔‘‘

نبی کریمﷺ کا ہر امتی جنت میں داخل ہونے کا خواہش مند ہے اور بلاشک و شبہ یہ ہر مسلمان کی اولین آرزو ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے بعض مسلمان اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں جانے سے خود انکار کر دیتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ وہ نبی کریمﷺ کے فرمودات پر خودساختہ باتوں کو ترجیح دیتے ہیں اور آپ کے اقوال و افعال کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ امام بخاریؒ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’میری امت کا ہر شخص جنت میں داخل ہوگا، مگر وہ شخص (جنت میں داخل نہیں ہوگا) جو وہاں جانے سے خود انکار کرے۔‘‘

صحابہ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! (ایسا) کون (شخص ہے) جو جنت میں جانے سے خود انکار کرے؟‘‘ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے (جنت میں جانے سے) خود انکار کیا۔‘‘

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو مکمل طور پر نبی کریمﷺ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

مزید : ایڈیشن 1