آزاد میڈیا معاشرے میں اچھی حکومت قائم کر سکتا ہے: ایس ایم ظفر، حکیم سعید آزادی صحافت کے علمبردار تھے: سعدیہ راشد

آزاد میڈیا معاشرے میں اچھی حکومت قائم کر سکتا ہے: ایس ایم ظفر، حکیم سعید ...

لاہور(خبر نگار خصوصی)ہمدر د فاؤنڈیشن اور پبلک ریلیشنز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی طرف سے فلیٹیز ہوٹل میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداروں کے اعزاز میں استقبالیہ کا اہتما م کیا گیا۔جس میں اے پی این ایس اور سی پی این ای کے عہدیداروں مختلف اخباروں کے مالکان،ایڈیٹرز اور سنئیر صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر ،روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی،سی پی این ای کے صدرضیاء شاہد،اے پی این ایس کے جنرل سیکرٹری عمر مجیب شامی،نائب صدرممتاز طاہر،صدر ہمددرد فاؤنڈیشن سعدیہ راشد، سی پی این ای کے سابق صدر جمیل اطہر، ندیم الحسن گیلانی، عطاالرحمٰن،قیوم نظامی، سجاد بخاری، رحمت علی رازی،نوید چودھری،نجم ولی خان، مہناز رفیع، علی بخاری، حامد ریاض ڈوگر، احسان غنی، ادیب جاودانی،چیف میٹرالوجسٹ محمد ریاض، اسجد غنی، نصیر الحق ہاشمی، تاثیر مصطفی ،خالد سیف اللہ ،عامر بشیر شاہد نذیر چوہدری اور دیگر نے شرکت کی ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایم ظفر نے کہا کہ تحقیقی اور آزاد میڈیا کے بغیر حکومت کا بھی تصور نہیں ہوتا۔میڈیا آزاد نہ ہو تو حکومت مزید بری ہوجائے گی۔ذمہ دار میڈیا معاشرے میں اچھی حکومت قائم کر سکتا ہے۔حکیم سعید نے اپنی ساری دولت ملک کیلئے وقف کر دی اور طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ معاشرے کی نبض پر بھی ہاتھ رکھتے تھے ان کی تصویر پاکستانی نوٹ پر ہونی چاہیے۔سی پی این ای کے صدر ضیاء شاہد نے کہا کہ عمر مجیب شامی میں ایک ابھرتے ہوئے نوجوان کی شخصیت ہے ،ان جیسے محنتی،پڑھے لکھے،پروفیشنل اور باکردار لوگوں کو آگے لایا جائے تو بہت ترقی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ حکیم سعید کو بے شمار شعبوں میں مہارت تھی ،سیاست کے بارے میں ان کی سوچ ایک دانشور کی سوچ تھی اور پاکستان پر ٹھوس اور مدلل سوچ رکھتے تھے۔ان کے بے پناہ کارنامے ہیں انہوں نے اسمبلی کا رول ماڈل بنانے کی کوشش کی وہ پاکستان کے اندر خرابیوں کو درست کرنا چاہتے تھے۔ان کی شہادت پر مجھے ذاتی طور پر دھچکا لگا ۔انہوں نے کہا کہ ہم حکیم سعید کے سپاہی ہیں اور ان کی صاحبزادی سعدیہ راشد کو ان کی سوچ کو آگے بڑھانا چاہیے ہم بھی تعاون کیلئے ہروقت تیار ہیں۔ اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل عمر مجیب شامی نے کہا کہ تعلقات عامہ اور اخبارات کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔اے پی این ایس نے جمہوریت اور آئین پاکستان کے تحفظ کیلئے ہر اول دستے کا کام کیا ہے۔اخبارات کی معیشت کو چلانا اے پی این ایس کا کام ہے اور اشتہارات کی بندش پر حکومت سے مذاکرات بھی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے والد صاحب کے ہمراہ حکیم سعید صاحب سے فیض حاصل کرنے کا بے شمار بار موقع ملا۔ مرحوم نے اپنی ساری زندگی اصولوں کے تحت بسر کی اور کئی ایسے فلاحی و تعلیمی ادارے قائم کئے جو آج تک نوجوانوں، بچوں، خواتین اور بزرگوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ہمدرد فاؤنڈیشن سے ہمارے خاندان کا تعلق بڑا پرانا اور گہرا ہے۔ حکیم سعید کی شہادت پر میں نے جو تحقیقی خبر تیار کی اس کو بے تحاشا پذیرائی ملی اور ہفت روزہ زندگی کی اشاعت میں اس خبر کی وجہ سے بے تحاشہ اضافہ بھی ہوا۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر ہمدرد فاؤنڈیشن اور پبلک ریلیشنز سوسائٹی کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کی سربراہ سعدیہ راشد نے کہا کہ حکیم محمد سعید کا اخبار نویسوں اور دانشوروں سے گہرا و قلبی تعلق تھا انہوں نے ہمیشہ آزادئ صحافت کی حمایت کی اور صحافت کی اعلیٰ اقدار کی ترویج کیلئے کام کرتے رہے۔ مرحوم نے احتساب کی روایت کو مستحکم کرنے کیلئے ہمیشہ آزاد صحافت کی ضرورت پر زور بھی دیا۔ اے پی این ایس کے نائب صدر ممتاز طاہر نے کہا کہ اے پی این ایس ،اخبارات اور ہمدرد فاؤنڈیشن کا تعلق ایک عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ حکیم سعید کے مدیران اخبار سے ذاتی تعلقات تھے ۔حکیم سعید ہمہ جہت شخصیت کے مالک اور اخلاق کے بلند و بالا اصولوں کے نگہبان تھے۔وہ صحافی بھی تھے اور لکھاری بھی تعلیم کے فروغ کیلئے کام کیا اور مدینتنہ الحکما کے نام سے علم کا شہر بسایا ۔مخلوق خدا کی بھلائی ،ترقی اور خوشحالی کیلئے دنیا بھر کی خدمت کی ۔گورنر سندھ ہونے کے باوجود مطب کا کام بھی کرتے رہے ۔سعدیہ راشد کو ان کے مشن کو جاری رکھنا چاہیے اور اے پی این ایس بھی ان کے ساتھ ہے۔جمیل اطہر نے کہا کہ حکیم سعید نے جو کام کیا ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے خود کہا کہ طبیب نہ ہوتے تو صحافی ہوتے۔ مرحوم نے اپنی ساری زندگی عام لوگوں سے ہمدردی اور شفقت کیلئے وقف کر رکھی تھی ہم انہیں اپنا مربی اور رہنما سمجھتے ہیں۔ صدر پبلک ریلیشنز ایسوسی ایشن ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے کہا کہ معاشرے کے چوتھے ستون صحافت کے سیاسی اور سماجی شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔پاکستانی اخبارات کے مالکان نے جمہوریت کی روح کو زندہ رکھنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر