حکومت کو رونا میں مبتلا ہونے سے قرنطینہ میں چلی گئی،سینیٹر مشتاق احمد

حکومت کو رونا میں مبتلا ہونے سے قرنطینہ میں چلی گئی،سینیٹر مشتاق احمد

  

پشاور (سٹی رپورٹر)جماعت اسلامی خیبر پختونخواکے آمیر سنیٹر مشتاق احمد خان نے حکومت کو ناکام قراردیتے ہوئے کہاہے کہ حکومت کورونا وباء میں خود قرنطنیہ میں چلی گئی ہے،پی ٹی آئی حکومت مکمل طور پر اپنے منشور اور پالیسوں میں ناکام ہو چکی ہیں،تیرہ ہزار ارب روپے سے زائد قرضے لے چکی ہیں جوکہ پاکستان کے ستر سالہ تاریخ میں کسی حکومت نے اتنے قرضے نہیں لئے،تاہم اسکے باوجودملک میں مہنگائی وبیروزگاری میں اضافہ ہوچکاہے جبکہ وفاقی اور صوبائی ھکومتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی ہے،انہوں نے کہاکہ کوروناوائرس کے دوران نااہل حکومت کی کوئی حکمت حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے،ملک بھر میں مقامی این جی اوزکے اہل کار لوگوں کو کوروناسے بچانے اور ان میں آگاہی پیداکرنے میں مسلسل کام کرنے میں مصروف ہیں تاہم کورونا وبا ء کے سلسلے میں کام کرنے والی این جی آوز کی کوئی اجلاس نہیں بلائی،حالانکہ این جی آوز کی خدمات کے حوالے سے حکومت کو اجلاس بلانے چاہیے۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکاکہناتھاکہ الخدامت فانڈیشن نے کورونا وبا میں بہت اعلی خدمات دی ہیں،اٹھ ملین لوگوں کو الخدمت فانڈیشن نے راشن پہچایا اور انشاء اللہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا،انہوں نے کہاکہ تمام طبی عملے کو کورونا میں خدمات سر انجام دینے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،طبی عملہ ہمارے ہیروز ہیں کورونا وائرس سے جو ڈاکٹرز اور طبی عملہ شہید ہوا ان قومی ہیروز قرار دیا جائے۔وزیر اعلیٰ محمود خان نے کورونا وبا ء کے سلسلے میں این جی آوز کی کوئی اجلاس نہیں بلائی،این جی آوز کی خدمات کے حوالے سے حکومت کو اجلاس بلانے چاہیے۔عمران خا ن اورانکی حکومت مکمل طور پر اپنے منشور اور پالیسوں میں ناکام ہو چکی ہیں،جنہوں نے تیرہ ہزار ارب روپے سے زائد ریکارڈ قرضے لے لئے ہیں اورعوام پر قرضوں کا پہاڑ کھڑا کر دیاہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کو کپہ رپء تھے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائینگے اوراب ہر کسی سے خیرات اور قرضے مانگ رہے ہیں۔حکومت لاک ڈاؤن کے سلسلے میں تذباب کا شکار ہے کیا ہفتے اور اتوار کو کورونا ہوتی ہیں باقی دونوں میں چھٹی پر ہوتی ہیں۔چھ لاکھ سے زائد مریض لاہور شہر کے اندر ہے۔حکومت پارلمنٹ اور آل پارٹیز کو بروکار لائے۔پشاور۔کورونا کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیپشاور۔جب لاک ڈوان ختم کیا تو تعلیمی اداروں کے بند کرنے کا کیا جواز ہیں۔انہوں نے کہاکہ نااہل حکمران نے تجارتی مراکز،سبزی منڈی،دفاترزاور دیگر مقامات کو کھول دیاہے اورنوجوانوں پر تعلیم کے دروازء بند کئے ہیں،پرائیویٹ اورسرکاری تعلیمی اداروں کو نہیں کھوللاگیا،انہوں نے کہاکہ نجی تعلمیی ادراے مالیاتی خسارے کا شکار ہوچکے ہیں،پرائیوئٹ تعلیمی اداروں کو ریلیف دیا جائے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ تمام دینی مدارس کو ایس او پیز کے تحت کھلا جائے،سنیٹر مشتاق احمد خان نے کہاکہ حکومت اووسیز پاکستانیوں سے قرنطنیہ کے فیس نہ لیا جائے۔الخدمت فانڈیشن مفت میں قرنطنیہ سنٹر فراہم کر سکتے ہیں اووسیز پاکستانیوں کو حکومت نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے،اووسیز پاکستانی اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو جلد سے جلد تمام ائیر لائینز کے لیے کھلا جائے۔حکومت مسافروں سے خالی جہاز کے پیسے بھی لے رہے ہیں۔مسافروں سے ڈبل پیسوں پر ٹکٹوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔انہوں نے چیف جسٹس اس مسلے پر سوموٹو ایکشن لنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ۔خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی لاشوں کی بے حرمتی کی جارہی ہیں اووسیز پاکستانیوں کی مشکلات حل کرنے کے لیے اقدامات کرنی چاہئے۔انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے لکہاکہ اگراووسیز پاکستانیوں کے مشکلات حل نہ ہوئے تو اگلے ہفتے وزیر اعلیٰ محمودخان کے آبائی علاقے سوات میں دھرنا دے گے۔.

مزید :

پشاورصفحہ آخر -