خود شناسی اور قلم کی طاقت

خود شناسی اور قلم کی طاقت
خود شناسی اور قلم کی طاقت

  



قلم کی طاقت کا اندازہ اگر انسان کے دماغ میں گھر کر لے تو وحی الہی کا مقصد پورا ہو جاتا۔ نوک سے نکلنے والی اس چھوٹی سی لہر جو ننھی سی تصاویر اور انسانی زندگیوں کا رخ تعین کرتی ہے شاید ربِ کائنات کی رحمت کا ایک بڑا ذریعہ ہے،جو درد کی داستانوں کا زبان دان بنا,غم و ہجر کے لئے ایک نشان بنا,جو پتھروں پہ قرآن بنا,جو غاروں میں اَلرحمن بنا,جو مسجدوں میں بیان بنا,جو میدان میں اعلان بنا,جو کپڑے پہ ایک نشان بنا,جو انسان کے لئے ایک انسان بنا,جو بے زبانوں کے لئے زبان بنا,جو سوچوں کے صحرا میں آب رحمت کا نمونہ آثار بنا,جو دل کی دھڑکن اور آنکھوں سے رخساروں تک کے سفر کا امکان بنا,اس نوک سے جو عرشوں سے فرشوں تک کا ساماں بنا,رشتوں کی پختگی اور نفرتوں کے ملال پہ اک دھبہ سا اس قلم کی نوک کو چومتا ہوا اوراق کی نظر ہو جاتا ہے۔

اس کا سفر آنکھوں کی خوبصورتی سے ایسے منسلک ہے جیسے دل کا دھڑکن سے،دماغی شعاعوں کا جو عکس اسکی پھرتیوں اور بل کھاتے لہراتے ہوۓ ہاتھوں سے صفحات کے سینوں چھپتا ہے تو اس کی بگڑتی ہوئی صورت اور اسکے درد کی داستان لکیروں پر منزلوں کے خاکے اسکے حوصلوں کی ترجمانی کر رہے ہوتے ہیں۔انسانی آنکھ کے لئے صرف وہ ایک گندی سی نوک کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے جس کو گندا سمجھ کر صاف کر دیا جاتا ہے، دراصل یہ انتھک ہمت کا نتیجہ اور شفاف دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو خود کو بے زار کر کے دوسروں کی جھولیوں میں خوشیوں و رحمتوں کے نزول کا سبب پیدا کر رہی ہوتی ہے۔اس کے ان آنسوؤں کی بدولت دل و دماغ سکون کی زندگیوں سے سرشار ہیں۔نوک  دوستی انسان کو انسان سے روشناس کرواتی ہے۔

ہاتھوں کے اس ہنر سے جو نقش کشی کی جاتی ہے وہ مقدروں کی جان فشانی بن جاتی ہے۔اس سے باندھے ہوۓ رشتے اسکی مدد سے ہی آزاد کیے جاتے ہیں۔نوک کی اس طاقت کو انسان روز محشر میں جان پاۓ گا جب حرکتوں سے لے کر برکتوں تک کا قلمبند دیکھنے کو ملے گا۔نوک کے رخوں کا اندازہ رب کائنات نے دو کاتبین کی شکل میں انسان کے کاندھوں کا بوجھ ,منظرناموں کے ناظرین و سامعین بنا کر فرمایا۔پیراسٹالک حرکات کے مناظر قلم کی اس ننھی نوک کے گوش گزار کیے جاتے ہیں۔استطاعت کا اندازہ اس سچائی اور راست گوئی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔کل روز محشر ان سچائیوں کو ثابت کرنے کے لئے خود خاموشیوں کے محلات میں بسیرا کر لے گی۔صبر و پردہ پوشی کی انتہا دیکھیں کہ گواہی بھی دینے سے انکار کرنے کے بعد بھی دوسروں کے لئے قربان ہونا سیکھا۔

قربانی کی اس عظیم مثال اور زندگیوں کے محاصروں کو زدوکوب کرنے کے بعد بھی خاموشیوں کا سہارا تلاش کر رہی ہو گی کہ جنت میں بھیج دیا جاۓ گا ۔دنیا میں جس نے اس کے آنسوؤں کو آنسو سمجھا وہ کل کامیاب و کامران ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹی چیزوں کے وجود سے بڑی چیزوں کی حیات ہے۔تو نطفہ سے عظمتوں کے یہ مسافر پھر محتاج تو ایک نوک کے ہی ہیں۔جسکی بنا پر فیصلوں اور ترازوں کے پلڑے جھکیں گیں۔اس نوک کی طاقت کا اندازہ رب کائنات کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا۔جن و بشر ,چرند پرند اسکی پہنچ سے باہر نہیں۔اسکی دسترس میں کائنات کے جہانوں کا حساب ہے۔فرشتوں کا مان ہے۔انسانوں کا حساب ہے۔اک نہیں کئی گمان ہیں۔پھر بھی حضرت انسان پریشان ہے۔ہمارے اور جنت , کامیابی کے درمیان میں ایک قلمدان ہے۔لیکن یہ قدرت کا احسان ہے کہ اس کے ذریعے ہی انسان کو خودشناسی کا موقعہ ملا۔افکار کو اذکار میں بدلتا ہوئے انساں سے اعلی الانسان بنا۔اللہ تعالی اس نوک کی قدر کرنے کی توفیق دے۔اسکی سسکیوں آہ زاریوں سے محفوظ رکھے۔اسکا حق ادا کرنے کی توفیق دے۔ حق اور سچ پہ ہاتھ نوک کا ساتھ دیں۔۔۔۔۔

میرےدرد کو جو زبان ملی

اک تیرے آنسوؤں کی محتاج تھی

 میں جو غم و ہجر کی داستان تھی

تیرے شب و روز میں قید تھی

جستجو جو کی لباس کی کائنات میری گواہ تھی

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ