ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے قوانین آسان بنائے جائیں: عامر رفیق قریشی

ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے قوانین آسان بنائے جائیں: عامر رفیق قریشی

  

 اسلام آباد (سٹی رپورٹر)چیئرمین پاکستان ریسٹورنٹ یونٹی ایسوسی ایشن عامر رفیق قریشینے کہا ہے کہکہ پاکستان میں کارپوریٹ سمیت تقریبا 23لاکھ ٹیکس ریٹرن جمع کرائے جاتے ہیں اور کم ریٹرن جمع کرائے جانے کی ایک اہم وجہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ایف بی آر کے سخت قوانین ہیں جن کی وجہ سے عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ ایک بار ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے زندگی بھر کیلئے مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل ٹیکس قوانین کو آسان بنانے کی بجائے  انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کر کے فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ٹیکس دہندگان کیلئے اپنے پروفائل جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے حالانکہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ہر قسم کا ذاتی ڈیٹا ٹیکس ریٹرن میں فراہم کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروفائل جمع نہ کرانے والوں کو ایکٹو ٹیکس دہندگان کی لسٹ سے خارج کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانے اور دیگر سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے ایف بی آر کے اعلی حکام سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر ٹیکس دہندگان کے پروفائل جمع کرانے کے فیصلہ پر نظرثانی کروائیں۔ عامر رفیق قریشی نے مزید کہا کہ پراپرٹی کی خریدو فروخت کرنے والوں پر بھی اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین لاگو کر دیئے گئے ہیں جس سے نہ صرف تاجر برادری مزید مشکلات کا شکار ہو گی بلکہ وزیراعظم کی طرف سے اعلان کردہ کنسٹریکشن پیکج سے استفادہ حاصل کرنا دشوار ہو جائے گا اور یہ پیکج اپنی اہمیت کھو دے گا جس سے تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔پاکستان بھر میں اطلاعا بجلی کے تقریبا 80لاکھ کمرشل میٹرز ہیں جبکہ تقریبا 30لاکھ سے زائد انڈسٹریل یونٹس کام کر رہے ہیں۔

مزید :

کامرس -