” بھارتی سینا بکاﺅ مال ہے ،کوئی ہے خریدار“

” بھارتی سینا بکاﺅ مال ہے ،کوئی ہے خریدار“
” بھارتی سینا بکاﺅ مال ہے ،کوئی ہے خریدار“

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:38

بھارت سے نفرت:

”ہمہ یاراں دوزخ“ کا جائزہ لیں تو کتاب کا غالب موضوع مصنف کی بھارت سے نفرت کا ہے۔ بھارت کا قیدی ہونے کے ناطے یہ نفرت تعجب انگیز نہیں لیکن یہ نفرت سالک کے ہاں ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ ذہنی روئیے کے طور پر سامنے آئی ہے۔نفرت کی یہ لہر بھارتی حکومت سے لے کر عوام تک ‘ جنرل سے لے کر سپاہی تک دانشور سے لے کر ان پڑھ دیہاتی تک کے لیے یکساں شدید ہے۔

بھارت سے نفرت کے سلسلے میں یہ رویہ بھی عام نظر آتا ہے کہ وہ فردِ واحد کی برائی کو ان کا قومی مزاج قرار دیتے ہیں۔ مثلاً:

”بھارتی مہربان ہو تو سمجھ لیجئے مطلب برآری کے درپے ہے اور مادی منفعت اس کی کمزوری ہے کوئی کمبل پر بک جاتا ہے۔کوئی گھڑی پر اور کوئی ٹرانزسٹر پر بھارتی سینا بکاﺅ مال ہے ۔کوئی ہے خریدار۔“

بھارت سے نفرت کو سالک صرف بھارتی باشندوں تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اس کی لپیٹ میں وہاں کے شہر محلے اور گلیاں بھی شامل ہیں اس کا سب سے بڑا نشانہ کلکتہ کا شہر ہے جہاں سالک3 ماہ تک قید تنہائی میں رہے تھے- اس قدیم اور تاریخی شہر کے متعلق سالک کے تاثرات ملاحظہ ہوں:

”پائلٹ نے ہماری دلداری کے لیے کلکتہ شہر کے اوپر ایک مختصر چکر لگایا تاکہ ہمیں برصغیر کے اس سب سے بڑے شہر کے واسطے سے بھارت کی عظمت کا احساس ہو جائے لیکن ہر لحیم و شحیم چیز عظیم نہیں ہوتی کلکتہ کا حجم تو نظر آیا ‘ لیکن شہر کہیں دکھائی نہ دیا ہر چیز دھند ‘ کہر اور غبار میں ڈوبی ہوئی تھی اس کے خدوخال لاہور یا کراچی کی طرح تیکھے‘ جاذب اور واضح نہ تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی سوچے سمجھے بغیر اینٹوں کے ڈھیر لگاتا گیا اور کہیں ڈھیر میں سوراخ رہ گئے تو وہاں لوگوں نے رہنا شروع کر دیا-“ 

”بالکنی سے وسعت نگاہ کو ڈھیل دی تو کلکتہ شہر کی اونچی اونچی عمارتوں نے نگاہوں کا راستہ روک لیا صرف عمارتیں ہی عمارتیں سنگ و خشت کے اس انبار کے اندر فلیٹوں ‘ تاریک گلیوں اور غلیظ جھونپڑیوں میں بسنے والے عوام کا صرف تصور ہی کیا جا سکا نظر کچھ نہیں آتا تھا۔ “

صدیق سالک دشمن کے مثبت پہلوﺅں کے اعتراف میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں۔ ہندوستان کے متعلق بات کرتے ہوئے ہمارے اکثر مصنفین اور عام لوگ ان کی سادہ طرز زندگی کی تعریف کرتے ہیں کہ وہاں تعیشات پر زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا جاتا۔ مہنگی غیر ملکی اشیاءکے بجائے مقامی مال استعمال کیا جاتا ہے لیکن سالک نے بھارت اور اہل بھارت کی اس خوبی کو بھی خامی کی طرح بیان کیا ہے۔مثلاً :

”ہیلی پیڈپر پہلے ہی بھارتی ساخت کی دو تین سٹاف کا ریں کھڑی تھیں وہی کالا رنگ نشستوں پر سفید کپڑا اور باوردی شوفر‘ لیکن بیٹھنے کو دروازہ کھولا تو وہ یوں بڑبڑایا ‘ گویا گہری نیند سے قبل ازوقت جگا دیا گیا ہو۔ نشست پر بیٹھا تو سیدھا کار کی ہڈیوں سے جا ٹکرا یا۔ کارکبڑی بڑھیا کی طرح فورٹ ولیم کی طرف آہستہ آہستہ رینگنے لگی۔ آگے آگے جنرل نیازی اور دوسرے سینئر افسر اور پیچھے پیچھے ہم اس وقت ہمیں اپنی سٹاف کا ریں بہت یاد آئیں جگمگ جگمگ کرتیں ‘ پھر پھر اڑتیں ‘ سبک گام‘ شریں کلام اورپیردبانے سے بے لگام ‘ ہماری کاریں تھیں بھی تو ولایتی بھلا بنیا کی بنی ہوئی ایمبسڈر کاروں کا ان سے کیا مقابلہ۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -