ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی

ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی
 ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی

  


ذوالفقار علی بھٹو 5جنوری 1928ء کو سرشاہ نواز بھٹو اور خورشید بیگم کے لاکاڑنہ کے نزدیک گھر میں پیدا ہوئے بھٹو کے دوبھائی چھوٹی عمر میں وفات پاگئے سکند ر علی نمونیہ سے 7سال کی عمر اور امداد علی 39سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے ایٹم بم کا بانی ہے اگر بھٹو نہ ہوتا تو پاکستان کے پاس ایٹم بم بھی نہ ہوتا۔ بھٹو کے ایٹم بم بنانے کے جنون نے امریکہ کو بھڑکایا اور اس کے امور خارجہ کے سیکرٹر ی نے بھٹو کو دھمکایا اس نے کہا بھٹو ہم تم کو خوفناک مثال بنائیں گے ۔ امریکہ نے اپنی دھمکی کو ثابت کیا بھٹو کو خوفناک مثال بنایا پہلے عدالت کا متنازع پھانسی کا فیصلہ جس نے بھٹو کو جرم پر Not Guiltyمگر سز اموت کی سنائی گئی پھر شکوک کہ بھٹو پھانسی لگا یا نہیں؟ پھانسی سے پہلے مرچکا تھا پھانسی ہوئی نہیں، پھانسی سے پہلے ہی تشدد کے ذریعے مار دیا گیا۔

امریکہ کو بھٹو سے سخت نفرت تھی بھٹو اپنے کئی سالہ دور میں امریکہ کا مشکوک تھا 1974 ء کی لاہو ر کی اسلامک کانفرنس اور بھٹو کا لیڈ ر بن کر ابھرنا امریکہ کو نہ بھایا بھٹو کا کوئی بھی عمل امریکہ کو ایک آنکھ نہ بھایا جب بھارت نے اپنا پہلا نیوکلیر ٹیسٹ 1974ء میں کیا۔ پاکستان معاشی مجبوریوں کا شکار تھا بھٹو نے کہا پاکستان جوہری توانائی کے منصوبہ کے بارے میں پر جوش ہے بھٹو نے کہا کہ پاکستانی گھاس کھا لیں گے ،مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے اس بات نے بھٹو کو واشنگٹن میں ناقابل قبول بنا دیا امریکی امور خارجہ کے سیکرتری سیکریڑی ہنری کسنجر نے غصہ میں کہا ہم تم کو خوفناک مثال بنائیں گے اس بات کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر مایوسی چھاگئی دونوں ملک Collision Courceپرتھے ۔

ایک سینئر ایجنٹ میکس ہملاسٹین نے اپنی کتاب ’’انسان برف تشکیل دے گیا‘‘میں انکشاف کیا کہ سی ۔آئی۔اے نے بھٹو کے سیکرٹریٹ میں جاسوسی کیلئے ملازمت دلائی واشنگٹن میں جب یہ خیال کیا جاتا کہ ذوالفقار علی بھٹو اپنے جوتوں کے ناپ سے بڑھ گیا ہے اس کے حساب کے مطابق کاٹنا ہوگا ۔

صدر جمی کا رٹر اور صدر فورڈ نے پاکستان پر پابندیاں لگائیں اور بھٹو نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن پی ۔ این۔ اے کی تحریک کے پیچھے ہے اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے بھٹو کی حکومت کو سزا اس کی جوہری توانائی کے پروگرام کی وجہ سے دی جارہی تھی۔کرنل رفیع الدین سپیشل سیکریڑی راولپنڈی جیل نے ایک کتاب لکھی ’’بھٹو کے آخری 323دن‘‘ جس میں لکھا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ یار محمد نے پھانسی کا حکم نامہ بھٹو کو پڑھ کر سنایاکرنل رفیع الدین نے لکھا کہ اس نے بھٹو کے چہرے پہ صرف مسکراہٹ دیکھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی جب یار محمد سب پڑھ رہا تھا بھٹو خاموش پر سکون اور مطمئن تھا ۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی ممکن ہے کہ بھٹو سے کوئی غلطی ہوئی ہو مگر اس کی پھانسی کی وجہ ایک ہی تھی کہ وہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا نا چاہتا تھا جو کسی صور ت امریکہ کو منظور نہیں تھا بھٹو چاہتا تھا کہ مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنا اور ایک مسلم فرنٹ بنانا جو امریکہ کو منظور نہیں تھا پس امریکہ نے بھٹو کو اپنے ہی لوگوں سے مروا دیا۔ بھٹوکو پھانسی ہوئی باوجود اس کے کہ عدالتی فیصلہ متنازع تھا عدالت نے 18مارچ 1978ء کو اپنے فیصلہ میں کہا کہ بھٹو قتل کا مجرم نہیں مگر سزائے موت دی جاتی ہے بھٹو کی زندگی کے ساتھ اس کی پھانسی کی سزا پہلے دن سے متنارع تھی۔ بھٹو نے چار دن عدالت میں بیان دیا سب کچھ فی البدیہہ بولا کہا میں نے کسی آدمی کو نہیں مارا اور نہ مروایا میرا رب یہ سب جانتا ہے۔ اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے اگر میں کچھ نے کیا ہو تو ماننا تسلیم کرنا میرے لئے کم تکلیف دہ ہوتا یہ بڑی مصیبت اور بے عزتی ہے ایسی وحشیانہ عدالتی کارروائی کرنے کا سامنا کرنا اس کو برداشت کرنا جو کوئی بھی عزت دار شخص برداشت نہیں کر سکتا میں مسلمان ہوں۔

ایک مسلمان کا مقدر اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہوتا ہے میں اللہ کا سامنا ایک صاف دل کے ساتھ کر سکتا ہوں اور بتاؤں گا کہ میں نے اسلامی جمہوری پاکستان کوبنایا ایک عزت دار مملکت تشکیل دی میں انتہا ئی پرسکون ہوں اپنے ضمیر سے اس کال کوٹھری لکھپت جیل میں مجھے موت کا کوئی خوف نہیں تم دیکھ سکتے ہو کہ میں کس آگ کے دریا سے گزرا ہوں۔ بھٹو نے پھانسی سے پہلے الوداعی اور آخری الفاظ یہ ادا کئے کہ یااللہ مجھے بچایا میری مدد کر میں معصوم ہو ۔

مزید : کالم


loading...