تلہ گنگ کے جلسے میں عمران خان نے فواد چودھری کی سر گوشی طشت ازبام کر دی

تلہ گنگ کے جلسے میں عمران خان نے فواد چودھری کی سر گوشی طشت ازبام کر دی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

’’عمران خان نے کہا ہے سرے محل کا حساب لینا ہے، زرداری بھی کسی قطری کو پکڑ لیں۔ ڈاکٹر عاصم نے خیبرپختونخوا کے بجٹ سے چار گنا زیادہ کرپشن کی۔ شرجیل میمن ایسے آئے جیسے ورلڈ کپ جیت کر لائے ہوں‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو تحریک انصاف کے سربراہ نے چکوال کے علاقے تلہ گنگ میں ایک انتخابی جلسے میں کہے۔ جب وہ جلسہ عام سے پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے سربراہ اور پارٹی کے بعض دوسرے رہنماؤں پر گرج برس رہے تھے تو شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ جس انتخابی جلسے میں وہ خطاب فرما رہے ہیں، اس حلقے میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی باہمی حلیف ہیں یعنی دونوں جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کے پنجاب اسمبلی کے امیدوارکے خلاف ضمنی انتخاب میں اتحاد کر رکھا ہے۔ یہ بات اگر عمران خان کے علم میں بھی تھی تو انہوں نے یا تو دانستہ نظر انداز یا پھر جوش تقریر میں اس بات کو بھول گئے کہ دونوں جماعتوں نے مقامی طور پر ایکا کر رکھا ہے، تحریک انصاف کے نوجوان رہنما فواد چودھری نے اس موقع پر عمران خان کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کچھ کہا، اب سامعین کو تو معلوم نہیں ہوسکتا تھا کہ کان میں کیا کہا گیا۔ جب تک سرگوشی کرنے والا نہ بتاتا یا سننے والا۔ لیکن عمران خان نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر اپنے سامعین کو بتا دیا کہ فواد چودھری ان کے کان میں کہہ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو ہدف تنقید نہ بنائیں کیونکہ اس حلقے میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حلیف ہیں، لیکن وہ کرپٹ عناصر کو معاف نہیں کرسکتے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی اور جو کچھ بھی درست سمجھا وہ برسر عام کہا، لیکن پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے خیال میں عمران خان اس طرح کی باتیں کرکے خود ہی اپنا قد کاٹھ کم کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ کسی بھی قسم کے اتحاد کے خلاف ہیں اور اگر مقامی قیادت نے چکوال میں اتحاد کیا ہے تو وہ یہ معاملہ بدھ کے روز پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھائیں گے جس کا اجلاس لاڑکانہ میں ہو رہا ہے۔

اب فرحت اللہ بابر یہ معاملہ ورکنگ کمیٹی میں اٹھائیں گے تو دیکھیں کیا فیصلہ ہوتا ہے تاہم چند دن سے عمران خان کھل کر کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ڈیل ہوچکی ہے اور ایان علی کی ضمانت، شرجیل میمن کی واپسی، ڈاکٹر عاصم کی ضمانت پر رہائی اور سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی بریت اس ڈیل کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ انہوں نے زرداری کے حکومت مخالف بیانات کو بھی نورا کشتی قرار دیا، اب یہ الزام ایسا ہے جسے کشتی کے فریقوں میں سے کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں، البتہ اندر خانے جو مفاہمت تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں چکوال کی صوبائی نشست کے انتخابات کے سلسلے میں ہوئی ہے اسے فواد چودھری کی سرگوشی نے ضرور طشت ازبام کر دیا ہے۔ فواد چودھری خاموش رہتے یا عمران خان بات سن کر راز افشا نہ کرتے تو معاملہ مشتبہ رہتا اور لوگ اپنے طور پر اسی طرح قیاس آرائیاں کرتے رہتے جس طرح بعض ٹی وی چینلوں کے اینکر بات کا بتنگڑ بناتے رہتے اور بے سروپا باتوں کی آڑ لے کر لایعنی تبصرے کرتے رہتے ہیں لیکن عمران خان نے بھرے جلسے میں وہ بات کہہ دی جو ان کے کان میں کہی گئی تھی، اب دیکھیں اس سرگوشی کا مستقبل کی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے اور آئندہ کبھی ’’سیٹ ٹو سیٹ‘‘ ایڈجسٹمنٹ کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے یا نہیں لیکن سیاسی میدان میں ہر بات ممکن ہوتی ہے مثلاً جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق روزانہ کی بنیاد پر کرپٹ حکمرانوں کے خلاف جوشیلے بیانات دیتے ہیں لیکن آزاد کشمیر کے الیکشن میں ان کی جماعت نے انہی ’’کرپٹ حکمرانوں‘‘ کی حمایت کی، آپ کبھی سراج الحق سے پوچھ لیں کہ جماعت نے اس طرح کی بے اصولی کیوں کی تو وہ آپ کو مطمئن کر دیں گے کہ یہ بے اصولی نہیں عین اصول پسندی ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست اور ہے پاکستان کی سیاست اور ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب آصف علی زرداری بھی مفاہمت کے چیمپئن ٹھہرے، ان کی اگر چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ مفاہمت ہوسکتی ہے جنہیں وہ ایک زمانے میں بے نظیر بھٹو کے ’’قاتلوں میں سے ایک قاتل‘‘ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے قاف لیگ کا نام ہی قاتل لیگ رکھ چھوڑا تھا، لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب یہی لیگ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں شامل ہوئی اور چودھری پرویز الٰہی نائب وزیراعظم بھی بنے۔ اب ایسی بھی کیا اصول پسندی جس میں کسی کا کوئی فائدہ نہ ہو۔ اگر اصول سے تھوڑی دیر کیلئے چشم پوشی کرکے کوئی سیاسی فائدہ ہوتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ اس لئے اگر آپ نے سرگوشی کے بعد ہونے والی نکتہ چینی سے یہ حتمی نتیجہ نکال لیا ہے کہ اب تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ریل کی وہ متوازی پٹڑیاں بن گئی ہیں جو کبھی نہیں ملتیں اور اگر مل جائیں تو حادثے کا باعث بنتی ہیں تو معاف کریں آپ نے درست نتیجہ نہیں نکالا، دونوں جماعتوں میں لفظی جنگ جاری رہے گی۔ درمیان درمیان میں سیز فائر بھی ہوسکے گا، اور پھر اگر ممکن ہوا تو کسی مقامی سطح پر مفاہمت بھی ہوسکے گی۔ آپ اگر اس پر حیران ہیں تو چند ماہ پہلے کی وہ تصویریں دیکھ لیں جن میں عمران خان، قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے پیچھے کھڑے ہیں، دونوں جماعتوں میں وسیع تر اتحاد کی بات بھی ہو رہی تھی لیکن پھر یہ بیل منڈھے نہ چڑھی، حالانکہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چودھری اعتزاز احسن خود چل کر لال حویلی میں شیخ رشید احمد سے ملنے چلے گئے، اب آپ یہ تو نہیں پوچھیں گے کہ شیخ رشید احمد کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ایک عدالت سے سزا ہوگئی تھی اور انہیں بہاول پور جیل میں رکھا گیا تھا۔ چلئے یہ تو پرانی باتیں تھیں چودھری اعتزاز احسن کو تو ان بیانات سے بھی کوئی پریشانی نہیں تھی جو شیخ رشید احمد، ان کے چیئرمین بلاول بھٹو کے بارے میں ارشاد فرماتے رہتے تھے اور جن کا ارتعاش ابھی تک فضاؤں میں موجود ہے۔ اس لئے اگر پھر کسی وقت آپ کو دونوں جماعتیں کسی مقامی حلقے میں مفاہمت کرتی نظر آئیں تو حیرت کی کوئی بات نہیں۔

سرگوشی

مزید : تجزیہ


loading...