صوبے کا ہر بچہ ہمارا بچہ ہے، اسکا تحفظ محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے: آئی جی پنجاب

صوبے کا ہر بچہ ہمارا بچہ ہے، اسکا تحفظ محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے: آئی جی پنجاب

لاہور(کرائم رپورٹر)صوبے میں رہنے والا ہر بچہ ہمارا اپنا بچہ ہے اور اس کی سکیورٹی اور تحفظ پورے محکمہ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور پنجاب پولیس کا ایک ایک سپاہی اور افسر اس ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے ادا کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس سال اغواء برائے تاوان کے ابتک صرف 04 کیسسز درج ہوئے تھے اور چارو ں کے چاروں بچے بحفاظت بازیاب کرلیے گئے تھے تاہم تمام والدین اور سوسائٹی کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے خوف وہراس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ پوری فورس ان کی حفاظت کے لیے دن رات ڈیوٹیوں پر موجود ہیں۔ جبکہ مزید تحفظ اور خوف کی فضاء کو ختم کرنے کے لیے صوبے بھر میں سپیشل ٹاسک فورس کا قیام بھی عمل میں لایا جاچکا ہے۔جس کے ہیڈ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شفیق گجر، جبکہ ممبران میں اے آئی جی مانیٹرنگ ، اے آئی جی آپریشنز پنجاب اور اے آئی جی لیگل پنجاب شامل ہیں ۔ جبکہ ہر ضلع میں ٹاسک فورس ایس پی / ڈی ایس پی کی سربراہی میں کام کرے گی جس کی براہ راست مانیٹرنگ آرپی اوز اور ڈی پی اوز کریں گئے۔ جبکہ براہ راست مانیٹرنگ آئی جی پنجاب خود کریں گئے۔ ان خیالات کا اظہار انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے 90 شاہراہ قائداعظم پر پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ ہوم سکریٹری پنجاب میجر اعظم سلما ن خان،ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو مس فاطمہ بھی موجود تھی۔اس موقع پر آئی جی پنجاب کی طرف سے اے آئی جی آپریشنز شہزادہ سلطان نے بچوں کے اغواء کے سلسلے میں گزشتہ پانچ سال کے اعدادو شمار کی بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ 2011 سے لیکر جولائی 2016 تک 6793 بچے مسنگ تھے۔ جن میں سے 6661 گھروں میں واپس پہنچ گئے یا انھیں بازیاب کر الیا گیا۔ میڈیا کو مزید بتایا گیا کہ اس وقت چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفئیربیورو کے پاس 168 بچے موجود ہیں جن کے والدین اور عزیزو اقارب کو تلاش کرنے کے لیے ہمہ وقت کوششیں جاری ہیں۔ میڈیا کو مزید بتایا گیا کہ صرف گزشتہ دو 2015-16 میں صوبے بھر میں 1901 بچے لاپتہ ہوئے۔ جن میں سے 1532 خود بہ خود گھروں کو واپس آگئے جبکہ 283 کو پولیس کی مدد سے ان کے والدین تک پہنچایا گیا۔پریس کانفرنس2015-16 میں واپس آنے والے 1808 بچوں سے کی گئی پوچھ گچھ کے بعدجووجوہات سامنے آئیں اس کے مطابق، 795 بچے والدین کے سخت رویہ ، 138 خاندانی جھگڑوں ، 111 میاں بیوی کی علیحدگی، 83 سکولوں یا مدرسوں میں بدسلوکی، 74 رشتہ داروں کے ساتھ ، 51 جبری مشقت یا بھیک مانگنے، 42 بداخلاقی ، 29 معذوری کی بناء پر جبکہ 392 ماں باپ سے بچھڑنے والے بچے شامل تھے۔

مزید : صفحہ آخر