شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان۔۔۔قسط نمبر 25

شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان۔۔۔قسط نمبر 25
شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان۔۔۔قسط نمبر 25

  

آدم خور کا چھوٹی سی آبادی کے کسی نسبتاً علیحدہ گھر میں گھسنا نا ممکن نہیں تھا ..... خصوصاً جبکہ گھروں کی دیواریں سرکنڈوں سے بنی ہوں..... مٹی اور پتھر کے گھروں میں شیر نہیں گھس سکتا ..... گو ان گھروں کے دروازے بھی جھانکڑ ..... یا سر کنڈوں وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں ..... لیکن بعض آدم خور ضرورت سے زیادہ جری ہو سکتے ہیں ..... 

اس آدم خور نے کم از کم اتنی جرات پیدا کر لی کہ آبادی کے وسط میں بنے ہوئے کنویں تک آپہنچا شاید اس لیے کہ اس کو معلوم تھا صبح صبح گاؤں والے کنویں پر پانی بھرنے آجاتے ہیں ..... وہ کنویں کی جگت کی آڑ میں دبکار رہا تھا ..... اگراس حالت میں کوئی عورت یامرد لاعلمی میں ادھر آنکلتا تو اس کا لقمہ تر بنتا ..... 

شکار۔۔۔۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان۔۔۔قسط نمبر 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں کنویں سے تقریباً پچیس گز پر ٹھٹکاتھا ..... اور جس جگہ دیوار کے سہارے ہم لوگ کھڑے رہے تھے وہ 30 سے 35گز کے فاصلے پر تھی ..... شیر نے غالباً حملہ اس لیے نہیں کیا کہ ہمارے ہاتھوں میں رائفلیں تھیں اور جبکہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ..... جانور بھی شکاری اورہتھیار بردار شخص کو پہنچاتے ہیں ..... خصوصاً آدم خور شیر جس کا مقابلہ ہی اشرف المخلوقات سے ہوتا ہے ..... 

شیر ..... ایک بہت بہادر ..... نہایت جری اور نڈر درندہ ہے ..... ہاتھی کے سوا روئے زمین پر کوئی ایسا چرند ودرند و پرند نہیں جو شیر کا بال بھی بیکا کر سکے ..... شیر جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے ..... نہ یہ کسی کا دوست نہ کوئی اس کادوست ..... ہاتھی بھی شیرکی آواز سننے اور بو سونگھنے کے بعد خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلتا ہے پالتو ہاتھی بھی بے قابو ہوجاتے ہیں ..... خود میرے ساتھ نیپال میں نہایت نا خوشگوار واقعہ پیش آچکا ہے جو میں تفصیل سے بیان کر چکا ہوں ..... 

ہاتھی کے علاوہ سور ..... شیر کے سامنے جرات کامظاہرہ کرتاہے ..... شیر کو سور کا گوشت مرغوب ہے او رہمیشہ اس کی جستجو میں رہتا ہے ..... سورنی تو آسانی سے ماری جاتی ہے ..... سور خواہ کتنا ہی عظیم الجثہ اور خبیث کیوں نہ ہو..... شیر کے سامنے بے بس ہوتا ہے ..... شیرکی پھرتی ..... شکار کا فن ‘ پنجوں اور دانتوں کی خوں آشامی ..... اور شکار کی جان لینے کا کمال ..... غیر معمولی ہوتے ہیں ..... اس کے ان فنوں میں کوئی اس کا مد مقابل نہیں ..... جبکہ سور ان تمام اوصاف سے معریٰ ہو تاہے یہ سب اس کے کام نہیں ہیں ..... جس کاجو کام ہے اسے وہی خوب انجام دے سکتا ہے ..... 

البتہ آدم خوری شروع کرتے ہی یہی بہادر ..... دنیا کا بزدل ترین شکاری بن جاتا ہے ..... یہ حال ..... کہ پتہ کھڑ کا بندہ بھڑکا ..... نایہ کسی جانور کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر سکتاہے نہ انسان کا ..... اس کا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا لقمہ تر بناتے ہی ساری دنیا کے انسان اس کی دشمن جان ہوگئے ہیں !

جتنی دیر میں یہ تفیش ختم ہوئی اتنے میں ناشتہ تیار ہوگیا ..... اور میں آبادی میں واپس آگیا ..... گاؤں کے کئی آدمی ہماری قیام گاہ کے سامنے جمع تھے ..... اور چہ میوگوئیاں ہورہی تھیں ..... ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں کے روزانہ معمول میں خلل واقع ہوگیا ہے ..... جو کاروبار وہ لوگ صبح سے شروع کر دیتے ہیں وہ اس روز شروع نہیں ہوا تھا ..... 

میں نے عظمت کے ملازم کو ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کو احتیاط کی تاکید کرے اور کہہ دے کہ آئندہ کوئی شخص تنہا تو گھر سے بھی نہ نکلے ..... کھیتوں میں گروہ کی شکل میں جائیں ..... کنویں پر بھی کئی مرد اور عورتیں مل کر پانی بھریں ..... بچوں کی قطعاً تنہانہ چھوڑیں نہ بھاگ دوڑ کرنے دیں..... 

ناشتے کے بعد میں نے کنویں پر آکر وضو کیا ..... دو رکعت نفل پڑھی..... اب میں اس آدم خور سے مقابلے کے لیے نکلا..... عظمت میاں کا خاص منصوبہ یہی تھا کہ وہ اس شکار میں پورا حصہ لیں ..... چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ تھے ..... اور میری ہدایت کے مطابق آٹھ دس قدم آگے آگے چل رہے تھے ..... ویسے انھوں نے حسب عادت اس معاملے میں حیل حجت کرنا چاہا ..... لیکن میں نے صاف کہہ دیا ..... 

’’عظمت میاں صاحب ..... شرط سفر یہ ہے کہ آپ مجھ نا چیز کی ہدایت پر عمل فرمائیں..... ‘‘ 

’’لیکن میں آگے کیوں چلوں خاں ..... ؟‘‘ 

’’میں خود اپنی حفاظت کرسکتا ہوں ..... ‘‘ 

’’ بے شک ..... لیکن آپ نے اس سے قبل کتنے آدم خور شکار فرمائے ہیں ..... ؟ ‘‘

’’اس سے کیا ہوتا ہے ..... ‘‘ وہ مسکرائے ..... 

اور اس کے بعد انھوں نے کسی ہدایت سے انحراف نہیں کیا ..... ان کو اپنی اہلیت اور تجربات کا خود بھی احساس تھا ..... عظمت میاں میرے بچپن کے دوست ..... ہم جماعت اور نہایت مخلص رفیق تھے .....اب ..... جبکہ کتاب لکھی جا رہی ہے ..... عظمت کینیڈا میں مقیم اور بہت بڑی RANCHکے مالک کامیاب فارمر ..... ہیں ..... ان کی زمین آٹھ ہزار ایکٹر پر پھیلی ہوئی ہے ..... جو بہت بڑا رقبہ ہوتا ہے ۔دوہزار ایکٹر پر جنگل ہے ..... دو ہزار ایکٹر پہاڑیاں ..... اور باقی پر وہ گندم کاشت کرتے ہیں اور نہایت خوشحال و مطمئن زندگی گزارتے ہیں ..... سیب اور آلو چے کے باغات ہیں ..... ہزار ایکٹر پر آلو چے کاشت کرتے ہیں ..... دو مرتبہ امریکہ آکر مجھے مہمانی کا شرف بخش چکے ہیں ..... اور بھابھی صاحب کی میری بیگم منیر سے خوب دوستی ہوگئی ..... میں بھی ایک بار بغرض شکاران کی رینچ پر ہی وارد ہوا اور حسب معمول بھابھی صاحبہ کے تیار کردہ کھانوں سے لطف اندوز ہوا ..... یہ اکتوبر 1994کا واقعہ ہے ..... (جاری ہے)

شکار۔۔۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان۔۔۔قسط نمبر 26 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شکاری -