نواز شریف کو مسلم لیگ ن کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد ، عوام کی منتخب مقننہ نے ایک قانون بنایا تو اعتراض کیوں ؟ شہباز شریف

نواز شریف کو مسلم لیگ ن کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد ، عوام کی منتخب مقننہ ...

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کا دوبارہ صدرمنتخب ہونے پرمحمد نواز شریف کو مبارکباددیتا ہوں ۔سینٹ ہو یاقومی اسمبلی ،تمام تر نا مساعد حالات کے باوجود آج آپ کودوبارہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر،گلگت بلتستان کی تائید و حمایت سے مسلم لیگ(ن) کا صدر منتخب کیاگیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل اورعنایت ہے۔آپ کا دوبارہ مسلم لیگ(ن) کا صدر منتخب ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ آپ پاکستان کے عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں اورعوام آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔بعض سیاسی پارٹیوں نے بدترین مخالفت کی اورکہا کہ یہ قانون ایک فردکیلئے لایا گیا ہے ۔یہ لوگ اس بات کو بھول گئے جب ایک فرد واحد آمر مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا اورایم ایل آرجاری کیا ۔اس وقت تو کسی نے اعتراض نہ کیا ۔نوسال تک ملک میں ایم ایل آر اورپی سی او کے تحت نظام چلایاجاتا رہا ۔ جب عوام کی منتخب مقننہ نے ایک قانون بنایا ہے توآپ کو اعتراض کیوں ہے اور آپ کو اب واویلے اوراعتراض کا حق نہیں پہنچتا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج کنونشن سینٹر اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر محمد نوازشریف کے انتخاب کے موقع پرپارٹی کے جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کہا کہ دو ماہ پہلے پانامہ کا ہنگامہ عروج پر تھا اس وقت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا تھا میں نے جو باتیں اس اجلاس میں کی تھیں آج اسی انداز اورشدو مد کیساتھ دوہرانے جارہا ہوں ۔اس لئے نہیں محمد نوازشریف میرے لیڈر اوربڑے بھائی ہیں بلکہ انہوں نے ملک و قوم کی ترقی کیلئے جو کچھ کیا وہ ایک حقیقت ہے اوراسے سب کو ماننا ہوگا۔ گزشتہ چار سالوں کے دوران دھرنوں ،لاک ڈاؤن ،نامساعد حالات ،مخالفین کی طرف سے کراچی،لاہور اوراسلام آباد کے شہروں کو بند کرنے کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے محمد نوازشریف کی قیادت میں ملک کو مسائل سے نکالنے اور توانائی بحران کے خاتمے کیلئے دن رات کام کیاہے۔محمد نوازشریف نے 2013ء کے انتخابات میں عوام سے لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے ختم کرنے کا وعدہ کیا تھاآج وہ پورا ہوچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 15سال سے ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا ،سابق حکمرانوں نے بجلی کے منصوبوں کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کی،غریبوں کی محنت کی کمائی پر ڈاکے ڈالے اورقوم کاخون چوسا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے گزشتہ چار سالوں میں توانائی بحران کیلئے جو دن رات محنت کی ہے تاریخ اسے سنہرے باب سے یاد رکھے گی لیکن جن لوگوں کی وجہ سے پاکستان اندھیروں میں ڈوبا آج وہ سفید کپڑے پہن کر کرپشن کے خلاف بھاشن دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپریل 2015ء میں محمد نوازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں سی پیک کے علاوہ ملک میں 3600میگاواٹ کے گیس پاور پلانٹس لگانے کا فیصلہ ہوا ،پورے ہاؤس کی مخالفت کے باوجودمحمد نوازشریف نے ان منصوبوں پر عملدر آمد کا جرأتمندانہ فیصلہ کیا۔آج اکتوبر 2017ء ہے اورچند ماہ پہلے 3600میگاواٹ کے ان منصوبوں کے پہلے مرحلے میں پورے ملک کو بجلی مہیا ہورہی ہے اور یہ منصوبے شفافیت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں ۔توانائی کے منصوبوں میں اربوں روپے بچائے گئے ہیں اورملک کی 70سالہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔جب لاہور میں 2010ء میں ڈینگی کی بدترین وباء آئی تو ہم نے د ن رات محنت کر کے اس آسمانی آفت کا مقابلہ کیا اورڈینگی کو شکست دی۔تو عمران خان نے ہمیں ڈینگی برادران کا طعنہ دیا۔لیکن جب پشاور میں ڈینگی نے حملہ کیا تو خان صاحب پہاڑوں پر چڑ ھ گئے۔پشاور میں ڈینگی کا مقابلہ کرنے کی بجائے وہ نتھیاگلی میں بیٹھ کر پشاور کے عوام کا تماشا دیکھنے لگے۔ میٹروبس کے منصوبے پر خان صاحب نے کہا کہ یہ اس منصوبے پر بہت خرچہ کیاجارہا ہے اور میں ہوتا تو میٹروبس پر لگانے والے پیسے کو ہسپتالوں اورسکولوں کے قیام پر صر ف کرتا۔ انہوں نے میٹروبس کے منصوبے پر 70ارب روپے خرچ ہونے کا بھی غلط الزام لگایااورجس کا آج تک وہ کوئی ثبوت نہیں دے سکے،اسی طرح خان صاحب نے 27ارب روپے کا ڈرامہ رچایا اورمیرے قانونی نوٹس کا جواب نہ دیا،پھر پانامہ کیس میں 10ارب روپے کی رشوت کا الزام لگایااورمیں عدالت میں گیا تو خان صاحب عدالتوں میں بھی نہیں آتے،میں ان کے پیچھے پیچھے ہوں وہ آگے آگے ہیں لیکن کہیں نظر نہیں آتے۔وزیراعلیٰ محمد نوازشریف نے کہا کہ میری پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نومنتخب صدر محمد نوازشریف گزارش ہے کہ آپ کے سامنے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ایسے کارکن اورلیڈر موجود ہیں جنہوں نے ماریں کھائیں،قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔یہ آپ کے عظیم قافلے کے لوگ ہیں ان سے مشاورت کی روشنی میں فیصلے کر کے آگے بڑھیں،انشاء اللہ سب خیر ہوگی اورکوئی ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتا۔

شہباز شریف

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا ،جس میں وزیراعلیٰ کوجھنگ کے علاقے تھانہ اٹھارہ ہزاری کی حدود میں بیوی کو انصاف نہ ملنے پر شوہر کی جانب سے آگ لگاکر اپنی زندگی ختم کرنے کے واقعہ کی انکوائری رپورٹ پیش کی گئی۔وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیوی کو انصاف نہ ملنے پر شوہر کا خود کو آگ لگا کر زندگی ختم کرنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔متاثرہ خاتون کا شوہر انصاف کیلئے ٹھوکریں کھاتا رہا ،اسے انصاف نہ ملا لیکن موت مل گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس واقعہ کا مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتاتھا۔پولیس نے متاثرہ شخص کی دادرسی کیلئے بروقت کارروائی نہیں کی اورمتاثرہ خاتون کا میڈیکو لیگل کرانے میں بھی غفلت برتی گئی۔متاثرہ خاتون کا شوہر انصاف کیلئے دھکے کھاتا رہا ۔خاتون کو انصاف تو نہیں ملا،لیکن اس کے شوہر کی جان چلی گئی،یہ ہے ہمارا فرسودہ نظام ۔وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی نہ بنانے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈی پی او جھنگ کو اوایس ڈی بنانے کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ تبادلہ کوئی سزا نہیں ،ایسے افسر کو عہدے پر رہنے کا حق نہیں ۔ ڈی پی او جھنگ کے تبادلے سے کام نہیں چلے گابلکہ ایسے افسر کو فوری طورپر اوایس ڈی کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈی پی او کوواقعہ کا علم تھا تو اسے انصاف دلانے میں اپنا بھر پور اور متحرک کردارادا کرنا چاہیے تھا۔انصاف کی فراہمی میں تاخیر کر کے غریب خاندان سے زیادتی کی گئی اورمیں ذمہ داروں کیخلاف قانون کے مطابق سخت ایکشن لوں گا۔ انصاف کی فراہمی یقینی نہ بنانیوالوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہے نہ مظلوم عوام کا ۔انصاف فراہم نہ کرنے کے باعث ایک قیمتی جان چلی گئی ۔انکوائری رپورٹ کے مطابق اس کیس میں غفلت ولاپرواہی برتنے والوں اورانصاف کی فراہمی میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر اٹھارہ ہزاری کی وویمن میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ناصرہ نور،ایس ایچ او سب انسپکٹر احسان نواز،ایس ایچ او انسپکٹر غلام عباس،تفتیشی افسر سب انسپکٹر نوازاورسب انسپکٹر جعفر علی کو ملازمت سے برخاست کرکے قانونی کارروائی کاآغاز ہوچکا ہے۔آر پی او شیخو پورہ ذوالفقار حمید نے واقعہ کی انکوائری رپورٹ پیش کی جبکہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آپریشنز پنجاب اورسیکرٹری پراسکیوشن بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

وزیراعلیٰ پنجاب

مزید : صفحہ اول