درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 49

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 49
درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 49

  

قصہ کوتاہ ڈی ایف او نے مجھے چیتے کے شکار کی دعوت دی اور ساتھ ہی اپنے ساتھ بنگلے میں ٹھہرنے کی درخواست کی۔میں نے بتایا کہ میرے پاس اعلیٰ حکام کا اجازت نامہ نہیں تو اس کی پیشانی پر بل پڑگئے”کیا میں ڈی ایف او نہیں،کیا میری اجازت کافی نہیں؟“وہ لال پیلا ہو کر بولا:”جہنم میں جائیں اعلیٰ حکام،تم ابھی منتقل ہو جاﺅ۔“

دعوت قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔

ڈی ایف او نے علیم کو گاڑی میں بھیج کر ایک اور کتا منگوایا۔اسے ڈرائننگ روم کے سامنے باندھ دیا گیا،تاکہ چیتا اس پر حملہ کرنے کے لیے آئے تو میں اسے نشانہ بنا سکوں۔یہ سب کچھ میری خواہشات کے برعکس تھا۔ کتا کبھی اچھا ساتھی ثابت نہیں ہوتا۔اسے زنجیر پہنا دی جائے تو وہ بھونکنے لگتا ہے۔اس طرح شیر یا چیتے ہوشیار ہو جاتے ہیں اور ہوا بھی یہی۔جوں جوں رات کی تاریکی بڑھتی گئی،کتے کی چیخوں سے سارا جنگل گونج اٹھا۔ڈی ایف او بھی میرے ساتھ ڈائننگ روم میں بیٹھا تھا۔ گیارہ بجے وہ اونگھنے لگا اور بیڈ روم میں چلا گیا۔

دو بجے شب چاند طلوع ہوا اور درختوں کے لمبے سایوں نے کتے کو ڈھانپ لیا جو اب اپنے آپ کو تقدیر کے حوالے کر چکا تھا اور گہری نیند سو رہا تھا۔مجھے بڑا رحم آیا اور تھوڑی دیر بعد میں نے اس کی زنجیر کھول دی۔اس نے تشکر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کمرے میں گھس کر ایک کونے میں لیٹ گیا۔میں نے صبح صادق تک چیتے کا انتظار کیا، آخر مایوس ہو کر سو رہا۔

دوپہر کے کھانے کے بعد ڈی ایف او،نندیال واپس چلا گیا۔میں نے بھی آدھی رات کی ٹرین سے بنگلور کا رخت سفر باندھا۔چلتے وقت علیم کو اپنا پتا دے دیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو وہ فی الفور مجھے خط لکھ سکے۔

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 48

چار ماہ بعد اچانک مجھے اس کا خط موصول ہوا....لکھا تھا کہ پل اور ندی کے درمیان بیرونی سگنل کے قریب ایک ریلوے ملازم ہلاک پایا گیا۔ اس کی لاش مسخ شدہ تھی۔بعض لوگ اس کی موت کا ذمہ دار شیر کو گردانتے،بعض سفید ریچھ پر الزم دھرتے، کوئی اسے جن بھوت کی شرارت قرار دیتا لیکن علیم کا خیال تھا یہ چیتے کی کارستانی ہے۔اس نے مجھے جلد از جلد وہاں آنے کی دعوت دی تھی۔

میں نے جواب دیا کہ میرے آنے تک ایک تو لاش بھی گل سڑ جائے گی، دوسرے چیتا کسی اور طرف نکل جائے گا اور اسے تلاش کرنا آسان نہ ہو گا لیکن اگر کوئی اور سانحہ رونما ہوا تو مجھے فوراً لکھا جائے تاکہ درندے کا انسداد کیا جا سکے۔

اگلا خط ایک ماہ بعد ملا، اس میں ندی کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم کی موت کا ذکر تھا۔ وہ ایک اور ریلوے ملازم کے ساتھ جس کی ڈیوٹی بیرونی سگنل پر لیمپ روشن کرنا تھی، مل کر چھ بجے شام وہاں سے گاﺅں جایا کرتا تھا۔ مدت سے ان کا یہی معمول تھا۔وقوعہ کے روز ریلوے ملازم نے سگنل کے نزدیک اس کا دیر تک انتظار کیا۔پھر وہ اسے آوازیں دے کر بلاتا رہا”رام، رام، رام!“ کوئی جواب نہ پا کر ندی کی طرف چل دیا۔ایک جگہ جنگل کے قریب رام مردہ پڑا تھا۔نرم ریتلی زمین پر چیتے کے پاﺅں کے نشانات نمایاں تھے۔

ریلوے ملازم سرپٹ بھاگ کھڑا ہوا اور اسٹیشن پر پہنچ کر دم لیا۔

”جلدی آئیے۔“خط کے آخر میں اس نے درخواست کی تھی۔”ہمارے درمیان آدم خور چیتا موجود ہے۔“

بدقسمتی سے اس روز میں قدرے مصروف تھا۔ اس لیے رات کو بذریعہ کارجانے کا پروگرام بنایا۔ شام کے وقت اپنا سامان باندھ رہا تھا کہ باہر دروازے پر گھنٹی بجی۔ملازم دوڑ کر گیا۔ ہر کارہ ایک ٹیلی گرام لایا تھا۔اس میں لکھا تھا:

”چیتے نے بہن کے ایک بچے کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔خدا کے لیے اب دیر مت لگائیے۔علیم“

صبح سے پہلے میں عازم سفر ہو چکا تھا۔

اگر آپ کو وگوماتا فارسٹ ریسٹ ہاﺅس جانے کا اتفاق ہوا ہے تو عمارت کے جنوب مشرقی کونے پر بیس گز دور ایک ابھری ہوئی قبر ضرور دیکھی ہو گی جس پر یہ کتبہ لگا ہوا ہے۔”شرارتی۔“کئی برس پیشتر برطانوی دور میں ایک انگریز فارسٹ آفیسر اپنے کتے شرارتی کے ساتھ بنگلے میں ٹھہرا تھا کہ ایک رات کسی درندے نے کتے پر حملہ کر دیا۔انگریز نے جلدی سے بندوق فائر کر دی۔درندے کے ساتھ کتا بھی ہلاک ہو گیا۔ اس نے کتے کو قبر میں دبا کراس کے نام کا کتبہ لگا دیا۔

جیسے ہی میں نے کار سے اترنے کے لیے دروازہ کھولا،علیم نے تازہ ترین واردات کی تفصیلات سنانا شروع کر دیں:”میری بہن کی بڑی لڑکی روزانہ’شرارتی“کی قبر پر پھول رکھا کرتی تھی لیکن ایک دن وہ ایسا کرنا بھول گئی۔ شام کو اسے یاد آیا تو امی سے کہنے لگی:”میں شرارتی کی قبر پر جارہی ہوں۔“

”پیاری۔“یہ لڑکی کا نام تھا۔”اندھیر اچھا گیا ہے،اب صبح وہاں پھول رکھ آنا۔اس وقت چیتا تمہیں نگل جائے گا۔“

پیاری جواب دیے بغیر قبر کی طرف چلی گئی۔وہ وہاں پہنچی ہو گی، کیونکہ پھولوں کی پتیاں قبر کے آس پاس بکھری ہوئی تھیں۔کسی نے بھی چیخ پکاریا چیتے کی غراہٹ نہ سنی لکن پیاری واپس نہ آئی۔ماں نے خطرے کی بوسونگھتے ہوئے شور مچایا اور وہ سب لالٹین ہاتھ میں لیے لڑکی کو تلاش کرنے لگے۔قبر سے کچھ فاصلے پر خون کے قطرے دکھائی دیے۔ان کی چیخ پکار سن کر گاﺅں کے لوگ بھی آگئے لیکن چیتے کے خوف سے کوئی شخص بھی جنگل میں گھسنے کا نام نہ لیتا تھا۔

علیم نے تجویز پیش کی کہ میں دیسی کپڑے پہن کر شرارتی کی قبر پر بیٹھ جاﺅں اور چیتے کی دوبارہ آمد کا انتظار کروں۔کپڑے بدلنے میں مصلحت یہ تھی کہ چیتا پتلون اور بشرٹ سے خوف کھا سکتا تھا جبکہ دیسی کپڑوں میں وہ مجھے سیدھا سادا دیہاتی تصور کرتا اور حملہ کرنے کی صورت میں میں اسے نشانہ بنا سکتا تھا۔(جاری ہے)

درندوں کے شکاری کی سرگزشت...قسط نمبر 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : آدم خور